دورہ امریکہ کے دوران جو وعدے کیے وہ نہیں کرنے چاہے تھے اگر پاکستان وعدے پورے نہ کر سکا تو کیا ہوگا؟سابق سیکرٹری خارجہ نے تشویشناک دعویٰ کردیا

  بدھ‬‮ 21 اگست‬‮ 2019  |  20:48

اسلام آباد (این این آئی) سابق سکرٹری خارجہ ریاض حسین کھوکھر نے کہا ہے کہ امریکہ سے بہتر تعلقات رکھنا تمام ممالک کیلئے ضروری ہے،پاکستان امریکہ کے درمیان بے اعتباری کے تعلقات رہے، تعلقات میں بے اعتباری دہشتگردی اور افغانستان کی وجہ سے بڑھی، اگر پاکستان وعدے پورے نہ کر سکا تو امریکہ سے تعلقات بدتر ہو جائینگے۔اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے زیر اہتمام گیسٹ لیکچر سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکہ سے بہتر تعلقات رکھنا تمام ممالک کیلئےضروری ہے،پاکستان امریکہ کے درمیان بے اعتباری کے تعلقات رے. تعلقات میں بے اعتباری دہشتگردی اور افغانستان


کی وجہ سے بڑھی،امریکہ کیلئے چائنہ، رشیا اور جنوبی کوریا خطرے کا باعث ہیں، امریک کی ہمیشہ سے جنوبی افریقہ میں دلچسپی رہی ہے،ٹرمپ کی پاکستان سے متعلق پالیسی اور رویہ سخت رہا،امریکی جنگ میں حصہ لینے کی وجہ سے پاکستان کے لے مسائل پیدا ہوئے، ٹرمپ نے وزیراعظم عمران خان کو افغان مسئلہ پر خط لکھا۔، خط کے بعد پاکستان، امریکہ تعلقات کی بحالی شروع ہوئی، امریکہ افغان جنگ سے باہر آنا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان نے دورہ امریکہ کے دوران جو وعدے کیے وہ نہیں کرنے چاہے تھے اگر پاکستان وعدے پورے نہ کر سکا تو امریکہ سے تعلقات بدتر ہو جائینگے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان افغانستان میں مثبت اقدامات کریگا، بھارت، امریکہ تعلقات اہم ہیں. پاکستان کے چائنہ کے ساتھ دوستانہ تعلقات ہیں،پاکستان چائنہ راہداری کی وجہ سے بھارت، امریکہ پریشان ہے،پاکستان چائنہ راہداری سے چائنہ کو انڈین اوشن تک رسائی حاصل ہو جائیگی۔انہوں نے کہاکہ پاکستان چائنہ راہداری کے باعث امریکہ سے تعلقات خراب ہو سکتے ہیں،پاکستان کے سر پر ایف اے ٹی ایف کی تلوار لٹک رہی ہے،ایف اے ٹی ایف کا ستمبر میں ہونے والا اجلاس انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے کہاکہ امریکی صدر کے ثالثی کے کردار ادا کرنے پر مودی سرکار خاموش رہی، پاکستان امریکہ تعلقات کی بحالی کا تسلسل افغانستان میں ڈلیور کرنے پر ہے، ہمارے چائنہ کے ساتھ علاقائی تعلقات ہے، امریکہ کے ساتھ نہیں۔ انہوں نے کہاکہ امریکہ کے ساتھ ہمارے باہمی تعاون کے تعلقات ہیں،ہمیں معیشت میں استحکام لانے کیلئے امریکہ کی ضرورت ہے،بھارت امریکہ تعلقات پاکستان کیلئے خطرے کا باعث ہے،بھارت امریکہ تعلقات علاقائی پارٹنرشپ کی بنیاد پر ہیں،کشمیر کے معاملے پر امریکہ بنیادی کردار ادا کرے گا، اس سے زیادہ امید نہیں رکھنی چاہیے،مسئلہ کشمیر پر فون کر کے معاملے پر تحمل کا مظاہرہ کرنے کا کہا جاتا ہے، پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس شرمناک تھا، قراداد پر بات ختم کردی گئی جس سے کشمیریوں کو مایوسی ہوئی۔سابق سفیر نے کہا کہ امریکہ سے تعلقات میںپاکستان کو اپنے مفاد کو بھی دیکھنا ہوگا۔ سابق سفیر نے کہا کہ پاکستان اور امریکہ کے اتحادی رہے ہیں اور انہوں نے ایک ساتھ خون بہایا ہے لہذا، صدر ٹرمپ کے بعض اوقات سخت الفاظ کا انتخاب کرنے اور پاکستان کی طرف خالی ہونے والے نقطہ نظر کے باوجود کوئی بھی فریق آسانی سے اس تعلقات کو ختم نہیں کرسکتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ میرا خیال یہ ہے کہ ہمیں امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات کے بارے میں جذباتی نہیں ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو باہمی تعلقات استوار کرنے کی ضرورت ہے،امریکہ ایک سپر پاور تھا اور آگے بڑھنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ سفارتی مذاکرات کو مستقل رکھنا ہو، اور ایسے شعبوں میں باہمی تعاون کرنا جہاں تجارت، توانائی، ٹرانسپورٹ اور خاص طور پر تعلیم جیسے موافقت پذیرائی ہو۔ امریکہ توقع رکھتا ہے کہ چین کے کنٹینمنٹ میں ہندوستان کا شراکت دار ہوگا۔ اس سلسلے میں، پاکستان کی بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کی مجموعی طور پر توثیق واشنگٹن کے لئے بھی مشکلات کا باعث ہوسکتی ہے۔ مغربی ممالک دہلی کے لئے نرم گوشہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہی وجہ ہے کہ ہندوستان کو ایک ذمہ دار جوہری طاقت کے طور پر پینٹ کیا گیا ہے،ہندوستانی مقبوضہ کشمیر میں بڑھتی ہوئی تناؤ پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے سفیر نے ریمارکس دیئے کہ بھارتی مظالم کے بارے میں امریکہ کے ہلکے بیانات اس بات کی غماز ہیں کہ ان کی ہمدردی کہاں ہے،جنگ نہ تو ہندوستان کا اختیار ہے اور نہ ہی پاکستان کے لئے، دونوں میں ایٹمی صلاحیتیں ہیں،پاکستان بھارت کے ساتھ امن اور ہم آہنگی کے ساتھ رہنا چاہے گا، ہمیں ہندوستان کے ساتھ مشغول ہونا چاہئے لیکن بات چیت کے لئے بھیک نہیں مانگنا چاہئے۔ ایک بات چیت دونوں ممالک کے مفاد میں ہونی چاہئے۔ جہاں تک کشمیر کا تعلق ہے تو ہندوستان نے تیسری پارٹی کے ثالثی پر کبھی اتفاق نہیں کیا ہے، اور مجھے شک ہے کہ وہ کبھی بھی ایسا کریں گے۔

loading...