لیاقت علی کا قاتل امریکہ نکلا ، سازش کب کہاں اور کیسے تیار کی گئی ؟حیرت انگیز انکشاف کر دیا گیا

  بدھ‬‮ 17 جولائی‬‮ 2019  |  14:31

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) دفاعی تجزیہ کار بریگیڈیئر (ر) حامد سعید اختر نے کہا ہے کہ وزیراعظم لیاقت علی خان کے قتل میں امریکہ کے ملوث ہونے بارے مجھ تک معلومات واٹس ایپ کے ذریعے پہنچی ہم ان ذرائع تک نہیں پہنچ سکے جہاں سے یہ آئی ہیں۔ نجی اخبار ’خبریں ‘ کے مطابق ان معلومات میں بیان کرنے والے نے بتایا کہ امریکہ ایک خاص عرصہ کے بعد مختلف دستاویزات سامنے لے آتا ہےاس طرح کی ایک دستاویز کے مطابق لیاقت علی خان کے قتل کا ذمہ دار امریکہ ہے یہ بات فی الوقت سنائی ہی سمجھتی جاسکتی ہے کیونکہ


اس حوالے سے ہمارے پاس مکمل ثبوت نہیں ہیں۔ تاہم اس میں کچھ باتوں کی جانب توجہ دلائی گئی ہے۔ لیاقت علی خان کی شہادت کے واقعہ پر ہمیشہ ایک پردہ ہی پڑا نظر آتا ہے۔ اس بارے مختلف باتیں سامنے آتی رہی ہیں پہلے ایسا بھی کہا جاتا رہا ہے کہ روس نے اپنا دعوت نامہ منظور نہ کرنے پر ان کو قتل کرایا تاہم اسے تو وقت نے غلط ثابت کردیا تھا۔ پاکستان نے روس سے دعوت نامہ کوشش کرکے حاصل کیا تھا۔ کیونکہ وہاں سے پہلے نہرو کو بلالیا گیا تھا پھر جب پاکستان کو بھی دعوت نام مل گیا تو لیاقت علی خان نے پہلے وہیں کا دورہ کرنا تھا وہ روسی زبان بھی جانتے تھے تاہم کچھ واقعات ایسے پیش آئے کہ روس نے وہ دعوت نامہ خود ہی منسوخ کردیا تھا۔ لیاقت علی خان نے امریکہ کا دورہ کیا تو وہاں صدر ٹرومین تھے جنہوں نے ان سے ملاقات میں کہا کہ آپ کے ایران سے بڑے اچھے تعلقات ہیں آپ انہیں کہیں کہ تیل کے ٹھیکے امریکی فرموں کو دیدیں اس بات کو لیاقت علی خان نے رد کردیا کہ ایران سے ہمارے تعلقات ہیں لیکن ہم بلاوجہ اس پر دبا? کیوں ڈالیں کہ ٹھیکے فلاں کو دیدو۔ اس جواب پر صدر ٹرومین نے انہیں دھمکی بھی دی کہ آپ کو تلخ نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ وزیراعظم لیاقت علی خان نے کوئی بھی امریکی دبالینے سے انکار کردیا اور پاکستان کی حدود میں موجود تمام امریکی طیاروں کو نکل جانے کا حکم دیدیا۔ امریکہ کے صدر نے اس بات کو اپنی بے عزتی سمجھا اورانہیں مروانے کیلئے پاکستان سے قاتل تلاش کرنا چاہے تاہم یہ بات بڑی اہم ہے کہ اسے پاکستان سے اپنے مذموم عزائم پورے کرنے کیلئے کوئی نہ مل سکا پھر افغانستان کا رخ کیا گیا جو پہلے ہی پاکستان کا مخالف تھا اور اسے نئی ریاست ہیتسلیم کرنے سے انکاری تھا۔ سید اکبر نامی افغان کو چنا گیا جس کے ساتھ مزید دو بندے رکھے گئے کہ جب وہ اپنا ٹارگٹ پورا کرلے تو اسے بھی وہی ختم کردیں تاکہ ثبوت ہی ختم ہوجائے ان دونوں کو بھی پولیس نے یا وہاں موجود افراد نے مار ڈالا تھا اس واقعہ میں یعنی دو طرح کی باتیں سننے میں آتی ہیں کہ سید اکبر کو پولیس افسروں نے گولی ماری یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ان دو قاتلوں نے اسے قتل کیا۔اگر امریکہ نے کوئی خفیہ دستاویزات اوپن کی ہیں اور یہ کہانی سامنے آئی ہے کہ امریکی سی آئی اے تو ایسے کام ہمیشہ کرتی آئی ہے یہ اس کیلئے نئی بات نہیں ہے۔ پاکستان کو آیندہ اپنے مفادات کا خیال رکھنا ہوگا۔ وزیراعظم لیاقت علی خان نے امریکی طیاروں کو پاکستانی حدود سے نکلنے کا حکم دیا تھا کہ یہ ایئرفورس یا دیگر اداروں کے ریکارڈ میں موجود ہوگا اگر تحقیق کی جائے تواس بارے حقائق سامنے آجائیں گے۔ یہ کیس بڑا الجھا ہوا ہے ایک افسر جو انکوائری رپورٹ لیکر جارہے تھے ان کا طیارہ کریش کر گیا۔ ایک پولیس افسر جو کیس کی دستاویزات لیکر جارہے تھے ان کا طیارہ بھی حادثہ کاشکار ہوگیا۔ اس کیس کی انکوائری سے منسلک افراد اسی طرح غیر قدرتی موت کا شکار ہوئے جو ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ ان سوالات کے جواب تلاش کئے جاسکتے ہیں اگر مکمل تحقیق کی جائے۔

موضوعات:

loading...