پٹرول کی 62روپے فی لیٹر قیمت تسلیم کرنے کے باوجود 108روپے میں فروخت کس کی جیبیں گرم کرنے کیلئے ہے؟اہم سیاسی جماعت نے بڑے سوال اُٹھادیئے

  اتوار‬‮ 5 مئی‬‮‬‮ 2019  |  20:19

پشاور(این این آئی) عوامی نیشنل پارٹی نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ مسترد کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت عوام کو ریلیف دینے کی بجائے ان کی مشکلات میں اضافے سے گریز کرے،اے این پی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کابینہ کی منظوری کے بغیر خود ساختہ اضافہ قابل افسوس اور ناقابل برداشت ہے،ماہ صیام سے قبل پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھا کر حکومت نے عوام دشمنی کا ثبوت دے دیا ہے،اب اس بات میں کوئی شک و شبہ


باقی نہیں کہ حکومت آئی ایم ایف کے پاس ہے،انہوں نے کہا کہ گورنر سٹیٹ بنک اور چیئرمین ایف بی آر کو ہٹا کر ادارے آئی ایم ایف کے کنٹرول میں دے دیئے گئے ہیں تاکہ وہ اپنی مرضی سے قوم کی کھال اتار سکیں، مہنگائی کے اس طوفان میں غریب عوام پہلے ہی کچلے جا رہے ہیں اور اب وہ مزید بوجھ برداشت کے نے کے قابل نہیں ہیں،انہوں نے کہا کہ سینیٹ کی کمیٹی میں حکومت تسلیم کر چکی ہے کہ ہمیں پٹرول62روپے فی لیٹر مل رہا ہے،معیشت کے ارسطو بتائیں اب 108روپے فی لیٹر کس کی جیبیں بھرنے کیلئے فروخت کیا جا رہا ہے؟ ایک جانب بجلی کی ناروا اور خود ساختہ لوڈ شیڈنگ اور کم وولٹیج نے عوام کو ذہنی مریض بنا دیا ہے جبکہ دوسری طرف بابرکت مہینے سے قبل مہنگائی اور اب پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے نے جلتی پر تیل کام کیا ہے، انہوں نے کہا کہ جی ایس ٹی میں 10فیصد مزید اضافہ ناقابل فہم ہے، ملکی ادارے آئی ایم ایف کے پاس گروی رکھ دیئے گئے ہیں،حکمران ناکامی کا اعتراف کرتے ہوئے اقتدار سے الگ ہو جائیں،حکومتپٹرولیممصنوعات پر ٹیکسوں اور قیمتوں میں اضافہ واپس لے،اسفندیار ولی خان  نے کہا کہ پی ٹی آئی کی 6 سالہ بدترین صوبائی حکومت نے غریب عوام کو کہیں کا نہیں چھوڑا، بے روزگاری اپنی انتہا کو ہے جبکہ ٹیکسوں کی بھرمار سے عام آدمی سے جینے کا حق چھین لیا گیا ہے،عوام کی قوت خرید ختم ہو چکی ہے کاروبار اور روزگار تباہ ہو چکے ہیں جبکہ تجارتی سرگرمیاں ختم ہو چکی ہیں،انہوں نے کہا کہ حکمرانوں نے اشیائے ضروریہ سمیت تیل کی قیمتوں میں اضافہ کر کے عوام کو مہنگائی کے سونامی میں ڈبودیا،اس اضافے سے آنے والا مہنگائی کا سونامی سب کچھ بہا کر لے جائے گا، انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پٹرولیم مصنوعات میں باربار اضافے اوراس پرعائد ٹیکس اور ڈیوٹیاں فی الفور واپس لی جائیں اور بیرونی قرضوں کا بوجھ ٹیکسوں اور مہنگائی کے ذریعے عوام پر مت ڈالاجائے، حکومت نے تیزی سے گرتی ہوئی ملکی معیشت کو نہ سنبھالا تو ملک سنگین تباہی سے دوچار ہو جائے گا،اسفندیار ولی خان  نے مزید کہا کہ عوام کی قوت خرید پہلے ہی جواب دے چکی ہے ایسے میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ عوام دشمنی کے سوا کچھ نہیں، انہوں نے کہا کہ حکومت عوام کو ریلیف دینے میں ناکام ہو چکی ہے اور ملکی وسائل و آمدن میں اضافے میں ناکامی کی وجہ سے غریب عوام پر روزانہ بوجھ ڈالنے کے منصوبے پر عمل پیرا ہے۔جب ملک میں بقول وزیر اعظم لٹیروں کی حکومت تھی تو پیٹرول65روپے،گیس 100روپے،بجلی کا بل 800روپے،کھاد 2400روپے، آٹا600روپے، چاول3000روپے،ڈالر100روپے، سونا45000 روپے، اسٹاک مارکیٹ53000پوائنٹس پر تھی۔اب جبکہ ایمانداروں کی حکومت آئی ہے تو پٹرول108روپے، گیس180روپے،بجلی کا بل2000روپے،کھاد 3500روپے،آٹا 1450روپے، چاول 4500روپے، ڈالر 140.38روپے اور سونا70ہزار تک پہنچ چکاہے۔

موضوعات:

loading...