زرداری اور فریال تالپور کی ضمانتیں بھی ختم ،منی لانڈرنگ کیس کراچی سے راولپنڈی منتقل،آصف علی زرداری کا حیرت انگیز ردعمل سامنے آگیا

  جمعہ‬‮ 15 مارچ‬‮ 2019  |  19:44
کراچی(این این آئی)بنکنگ کورٹ نے سابق صدراور پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری اوران کی ہمشیرہ فریال تالپور کے خلاف منی لانڈرنگ کیس کو کراچی سے راولپنڈی منتقل کردیا ہے جبکہ عدالت نے سابق صدر آصف زرداری،ان کی ہمشیرہ فریال تالپور اوردیگرملزمان کی ضمانتیں منسوخ کرنے سمیت تمام ملزمان کی زر ضمانت بھی خارج کرنے کا حکم دیدیاہے،آصف علی زرداری اور فریال تالپور کی جانب سے بینکنگ کورٹ کے آرڈرز کو چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔اس موقع پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیئے گئے تھے ۔جمعہ کو بنکنگ کورٹ میں میگا منی لانڈرنگ کیس کی سماعت ہوئی،آصف علی زرداری عدالت میں پیش ہوئے تاہم ان کی ہمشیرہ فریال تالپور پیش نہیں ہوئیں،حسین لوائی، عبدالغنی مجید و دیگر نے بھی عدالت میں پیش ہوکر حاضری لگائی۔آصف علی زرداری اور فریال تالپور فیصلے کے وقت نہیں پہنچ سکے۔ آصف زرداری اور فریال تالپور کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے عدالت کو بتایا کہ دونوں آرہے ہیں۔آصف علی زرداری کچھ دیربعدعدالت میں پیش ہوگئے تاہم ان کی ہمشیرہ فریال تالپور عدالت میں پیش نہیں ہوئیں۔ وکیل کی جانب سے طبعیت ناساز ہونے پر استثنیٰ کی درخواست دائر کی گئی۔سماعت کے دوران عدالت نے میگا منی لانڈرنگ کیس کو کراچی سے راولپنڈی منتقل کرنے سے متعلق نیب کی درخواست پر محفوظ فیصلہ سنایا۔ فیصلے کے بعد انور مجید کے بیٹے نمر مجید، ذوالقرنین اور علی کمال گرفتاری کے خوف سے عدالت سے چلے گئے۔تاہم کچھ دیر بعد وہ واپس بینکنگ کورٹ آ گئے۔عدالت نے نیب کی درخواست منظور کرتے ہوئے آصف زرداری کے خلاف کیس کو راولپنڈی منتقل کرنے کا حکم دیا جبکہ آصف علی زرداری، ہمشیرہ فریال تالپور، نمر مجید اور ذوالقرنین مجید سمیت علی مجید کی عبوری ضمانتیں بھی منسوخ کردی گئیں۔عدالت کے تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ مقدمہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق منتقل کیا گیاہے، جیل میں قید ملزمان کو راولپنڈی عدالت میں پیش کیا جائے جبکہ آصف علی زرداری اور فریال تالپور سمیت 19 ملزمان کی عبوری ضمانت بھی منسوخ کردی گئی۔آصف علی زرداری فیصلہ سنائے جانے کے بعد عدالت پہنچے اور اپنی حاضری لگائی ۔آصف علی زرداری حاضری لگانے کے بعد عدالت سے روانہ ہوگئے۔ جانے سے قبل آصف علی زرداری نے کمرہ عدالت میں اپنے وکلا سے قانونی مشاورت بھی کی ۔ مشاورت میں شہادت اعوان، ابوبکر زرداری ، حسین لوائی اورعبدالغنی مجید بھی شامل تھے۔مشاورت کے بعد آصف علی زرداری اور فریال تالپور کی جانب سے بینکنگ کورٹ کے آرڈرز کو چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ بینکنگ کورٹ کے فیصلے کے خلاف ایک دو روز میں ہائی کورٹ سے رجوع کیا جائے گا۔عدالت پہنچنے پر صحافیوں نے آصف علی زرداری سے سوال کیا کہ آپ کا کیس اسلام آباد منتقل ہوگیا کیا کہیں گے، جس پر سابق صدرنے کہاکہ کیس منتقل ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا، ججز اور ماہرین وکلا ہی اس بارے میں اپنی رائے دے سکتے ہیں۔سابق صدر کی آمد پر عدالتی احاطے میں سخت سکیورٹی انتظامات کئے گئے تھے، پی پی کارکنان اور رہنما سعیدغنی، سینٹر قیوم سومرو، راشد ربانی بھی عدالت پہنچے۔آصف زرداری اور فریال تالپورکے وکیل فاروق ایچ نائیک نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ حکمت عملی طے کی جارہی ہے میں سمجھتا ہوں نیب کے پاس گرفتاری کا اختیار ہے۔لیکن انوسٹی گیشن کا اختیار نیب کے پاس موجود نہیں ہے۔ایف آئی اے کی درخواست اب نیب کورٹ میں ریفرنس کے طور ٹریٹ کی جائے گی۔نیب عدالت کو اختیار ہے کہ ملزمان کے وارنٹ جاری کرے یا سمن جاری کرے۔

موضوعات:

loading...