ملزم کے خلاف مالی بے ضابطگی کی کوئی شہادت نہیں مل سکی،تفتیشی آفیسر کے اعتراف کے باوجودڈاکٹر شاہد مسعود کے ساتھ ایسا کام ہوگیا کہ کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ ہوگا

  جمعہ‬‮ 21 دسمبر‬‮ 2018  |  23:35

اسلام آباد (آن لائن) اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے معروف اینکر پرسن ڈاکٹر شاہد مسعود کی ضمانت منسوخ کردی۔ ایف آئی اے کے تفتیشی آفیسر کی طرف سے عدالت کے روبرو تسلیم کیا گیا کہ ملزم کے خلاف مالی بے ضابطگی کی کوئی شہادت نہیں مل سکی۔ فاضل عدالت نے اس کے باوجود معروف اینکر کی ضمانت منسوخی کا حکم سنا دیا۔تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے اینکر شاہد مسعود کی ضمانت سے متعلق جمعرات کو دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا تھا۔ دوران سماعت جسٹس محسن


اختر کیانی نے ایف آئی اے کے تفتیشی آفیسر سے استفسار کیا کہ ملزم سے تفتیش کے دوران کونسا مواد ملا ہے جس سے یہ ثابت ہوتا ہوکہ اس نے سرکاری خزانے کو نقصان پہنچایا ہے۔ ایف آئی اے کی طرف سے بتایا گیا کہ ملزم کے خلاف مالی بے ضابطگی یا سرکاری خزانے سے مالی فوائد لینے بارے کوئی ثبوت نہیں ملے البتہ سرکاری دستاویزات پر ملزم کے دستخط ضرور تھے جبکہ ڈاکٹر شاہد مسعود کے وکیل بیرسٹر قاسم نواز عباسی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ میرا مؤکل صاف وشفاف کردار کامالک ہے اور اس نے اپنے شعبے میں اچھی روایات قائم کی ہیں اب چونکہ ایف آئی اے نے بھی اس بات کو تسلیم کرلیا ہے کہ میرے مؤکل کے خلاف سرکاری خزانے کو نقصان پہنچانے کا کوئی ثبوت نہیں ہے تو پھر ضمانت پررہائی ملزم کا بنیادی حق ہے۔ فاضل عدالت نے کارروائی مکمل کرکے فیصلہ محفوظ کرلیا تھا جو کہ جمعہ کو سنا دیا گیا۔ تاہم شاہ خاور ایڈووکیٹ جو کہ ڈاکٹر شاہد مسعود کے سینئر وکیل ہیں نے آن لائن سے رابطہ کرنے پر کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کو ہم چند روز میں سپریم کورٹ میں چیلنج کردیں گے اور ہمیں پوری امید ہے کہ عدالت عظمیٰ سے ہمیں ضرور انصاف ملے گا۔

موضوعات:

loading...