اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

میں میانوالی کے پٹرول پمپ پر بیٹھا کہ میرے پاس مصباح الحق آیا اور کہا کہ بیروزگاری ہے، کرکٹر بھی نہیں بن سکتاجس پر میں نے۔۔ مصباح الحق قومی ٹیم کا حصہ کس وزیر کی سفارش پر بنے تھے؟تہلکہ خیز انکشاف سامنے آگیا

datetime 25  ستمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)ملک کے معروف صحافی مظہر برلاس نے اپنے کالم میں انکشاف کیا ہے کہ قومی کرکٹ ٹیم میں سفارش پر کھلاڑیوں کو شامل کیا جاتا ہے اور پاکستان کے کامیاب ترین کپتان مصباح الحق بھی اسی طرح کی ایک سفارش کی بدولت قومی کرکٹ ٹیم کا حصہ بنے تھے۔ مظہر برلاس لکھتے ہیں کہ سرفراز آسیب کا سایہ بنتا جا رہا ہے گزشتہ تین چار دنوں میں کرکٹ دیکھنے

کا اتفاق ہوا ہے۔سرفراز ایک ڈری ہوئی، سہمی ہوئی ٹیم کے ساتھ میدان میں اترتے ہیں، ٹیم کا یہ خوف میچ کی آخری گیند تک نہیں جاتا ۔اگر کھیل کو دیکھا جائے تو صاف پتہ چلتا ہے کہ پاکستانی ٹیم سفارشیوں سے بھری پڑی ہے، ہو سکتا ہے کہ اس میں کرپشن کا بھی دخل ہو، پچھلے چیئرمین پی سی بی کے انتہائی قریب سمجھے جانے والوں میں راشد لطیف بھی شامل تھے، سمجھداروں کیلئے نام ہی کافی ہے ۔کون کس کا بھانجا ہے ؟کون کس کا رشتے دار ہے ؟قومی ٹیم کی سلیکشن اس سے ہٹ کر ہونی چاہئے۔ لاہور، کراچی اور اسلام آباد سمیت دو تین دیگر شہروں سے ٹیم سلیکٹ کر لی جاتی ہے، جو کھلاڑی اس وقت قومی ٹیم میں کھیل رہے ہیں ان سے کہیں اچھے اور بہتر کھلاڑی ہمارے قصبوں، چھوٹے شہروں اور دیہاتوں میں موجود ہیں مگر سفارش اور رسائی نہ ہونے کے باعث ان بےچاروں کو چانس بھی نہیں ملتا،آپ کی تسلی کیلئے میں ایک واقعہ لکھ رہا ہوں۔قومی اسمبلی کے رکن امجد علی خان بتاتے ہیں کہ ’’….میںمیانوالی میں اپنے پٹرول پمپ پر بیٹھا تھا میرے والد ڈاکٹر شیر افگن خان نیازی وفاقی وزیر تھے، میرے پاس مصباح الحق آ گیا مصباح الحق میانوالی کے ایک بی کلاس کلب میں کھیلتا تھا، میں نے مصباح سے حال احوال معلوم کیا تو مصباح بتانے لگا کہ حالات اچھے نہیں ہیں، بیروزگاری ہے، کرکٹ میں بھی آگے جانے کا کوئی چانس نہیں مل رہا، مجھ سے مصباح کی

پریشانی نہ دیکھی گئی اور میں نے اپنے والد کو اسلام آباد فون کر دیا کہ چیئرمین کرکٹ بورڈ ڈاکٹر نسیم اشرف سے کہیں کہ وہ ہمارے میانوالی کے ایک لڑکے کو چانس تو دیں اگر اس میں صلاحیتیں ہوئیں تو وہ قومی ٹیم میں شامل ہو جائے گا اور اگر اس قابل نہ ہوا تو واپس میانوالی آجائے گا، خیر مصباح الحق کو چانس ملا وہ قومی ٹیم میں شامل ہوا پھر کپتان بنا، کھلاڑی بھی کامیاب رہا اور کپتان بھی کامیاب رہا .

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…