جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

سرکاری ملازمین کی خوشیاں ماند پڑگئیں، حکومت کو بڑا جھٹکا وفاقی بجٹ 2018-19کالعدم؟سپریم کورٹ سے آنیوالی خبر نے ہلچل مچا دی

datetime 25  مئی‬‮  2018 |

لاہور(آئی این پی ) وفاقی بجٹ برائے سال 2019-2018 کو کالعدم قرار دینے کے لئے درخواست سپریم کورٹ رجسٹرار آفس کے اعتراضات دور کر کے دوبارہ دائر کر دی گئی درخواستگزار نے موقف اختیار کیا ہے کہ موجودہ حکومت کو مدت پوری ہونے کی بنا پر وفاقی بجٹ پیش کرنے کا اختیار ہی حاصل نہیں، مفتاح اسماعیل کو بجٹ پیش کرنے کا غیر قانونی اختیار سونپاگیا ۔

ہفتہ کو سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں قانون دان شفقت محمود چوہان کی وساطت سے وفاقی بجٹ برائے سال 2019-2018 کو کالعدم قرار دینے کے لئے درخواست سپریم کورٹ رجسٹرار آفس کے اعتراضات دور کر کے دوبارہ دائر کر دی گئی ہے دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ وفاقی بجٹ کے خلاف درخواست کی سماعت کا ملک میں کوئی اور فورم موجود نہیں۔ آئین کے آرٹیکل 80 کے تحت حکومت اپنی معیاد کے اندر رہتے ہوئے سالانہ بجٹ ہر سال پیش کرنے کی پابند ہے،موجودہ حکومت کو مدت پوری ہونے کی بنا پر وفاقی بجٹ پیش کرنے کا اختیار ہی حاصل نہیں، حکومت نے وفاقی بجٹ پیش کر کے اپنے اختیار سے تجاوز کیا جو کہ ماورائے آئین اقدام ہے۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ آئین کے تحت ایوان بالا اور ایوان زیریں سے تعلق نہ رکھنے والا کوئی شخص بجٹ پیش ہی کرنے کا مجاز نہیں، حکومت نے وزیر اعظم کے مشیر مفتاح اسماعیل کو وفاقی وزیر خزانہ کا درجہ دے کر بجٹ پیش کرنے کا غیر قانونی اختیار سونپا جو حکومتی بدنیتی کو ظاہر کرتا ہے۔ آئین کے آرٹیکل 86 کے تحت نگران حکومت اپنی آمدن اور اخراجات خود پورا کرنے کی پابند ہے جبکہ حکومتی مدت پوری ہونے کی بنا پر جانے والی حکومت نئی آنے والی حکومت کا سالانہ بجٹ پیش نہیں کر سکتی درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ ووٹرز نے موجودہ حکومت کو پانچ سال کے لئے اعتماد اور ووٹ دیا تھا ۔

موجودہ حکومت نے معیاد مکمل ہونے کے باوجود وفاقی بجٹ پیش کر کے ووٹرز کے اعتماد، خواہشات اور ان کے ووٹوں کی توہین کی ہے، معیاد مکمل ہونے کی بنا پرحکومت کو وفاقی بجٹ پیش کرنے اور ووٹرز کے استحقاق کو مجروع کرنے کا کوئی اختیارحاصل نہیں،موجودہ حکومت وفاقی بجٹ پیش کر کے ماورائے آئین اقدام کی مرتکب ہوئی ہے لہذا عدالت بدنیتی پر مبنی وفاقی بجٹ کے اقدام کو کالعدم قرار دے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…