جہانگیر ترین کو 18 ہزار 500 ایکڑ زمین کس نے دی؟اس زمین کا جہانگیر ترین نے کیا، کیا؟پنجاب حکومت کیا کررہی تھی؟پی آئی اے کا جہاز کس نے بیچا اور وہ اب کہاں ہے؟جاوید چودھری کے حیرت انگیزانکشافات‎

  منگل‬‮ 10 اکتوبر‬‮ 2017  |  22:00

آج پنجاب حکومت نے ایک بہت اچھا ”اینی شیٹو“ لیا‘ لاہور میں پہلی موٹر سائیکل ایمبولینس سروس کا آغاز کر دیا گیا‘ یہ موٹر سائیکل ان تنگ گلیوں میں بھی پہنچ جائیں گے جہاں ایمبولینس نہیں پہنچ سکتی‘ یہ زخمی یا مریض کو طبی امداد دیں گے اور پھر اسے فولڈنگ سٹریچر پر ڈال کر بڑی ایمبولینس تک پہنچا دیا جائے گا‘ پنجاب حکومت بہت جلد اس پراجیکٹ کو 9 ڈویڑنل ہیڈ کوارٹرز تک پھیلا دے گی‘ میں سمجھتا ہوں یہ سروس بہت اچھا آئیڈیا ہے اور یہ سروس پورے ملک میں ہونی چاہیے‘اس سے لاکھوں لوگ فائدہ اٹھائیں گے


اور ان لاکھوں لوگوں کی دعائیں میاں شہباز شریف تک پہنچیں گی۔ یہ سروس ثابت کرتی ہے حکومت (ان) گلیوں تک بھی پہنچنا چاہتی ہے جہاں گاڑی داخل نہیں ہو سکتی لیکن آپ دوسری طرف حکومت کا کمال دیکھئے‘ اکتوبر 2016ء میں پی آئی اے کا ایک A-310جہاز غائب ہو گیا اور حکومت کو دو ماہ تک جہاز کی غیر موجودگی کا علم نہ ہو سکا‘ یہ ایشو پہلی مرتبہ پیپلز پارٹی کے سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے 14دسمبر2016ءکو اٹھایا‘ حکومت نے تحقیقات کیں تو پتہ چلا پی آئی اے نے فلم کی شوٹنگ کیلئے جہاز کرائے پر دیا تھا‘ یہ جہاز مالٹا گیا اور پھر وہاں سے جرمنی لے جا کر بیچ دیا گیا‘ جہاز اس وقت بھی جرمنی میں کھڑا ہے‘ یہ پاکستان کو واپس ملے گا یا پھر یہ اب وہیں رہے گا‘ پوری حکومت کے پاس اس سوال کا کوئی جواب موجود نہیں‘ آپ ایک طرف بلندی دیکھئے ہم موٹر سائیکل ایمبولینس بنا رہے ہیں اور دوسری طرف پستی ملاحظہ کیجئے‘ ہمارے جہاز غائب ہو جاتے ہیں اور ہمیں دوماہ تک ان کا علم نہیں ہوتا‘ یہ ملک کب تک اس طرح چلتا رہے گا‘ ہم کب سیریس ہوں گے‘ یہ آج کا سب سے بڑا سوال ہے اور ہم اس سوال کا جواب وقت پر چھوڑتے ہیں۔ آج جہانگیر ترین کے وکیل نے سپریم کورٹ میں انکشاف کیا ترین صاحب نے 2010ءمیں 18 ہزار 500 ایکڑ زمین لیز پر لی تھی‘اس زمین پر گنا کاشت کیا اور یہ گناان کی شوگر مل میں استعمال ہوا‘ یہ لیز کس نے دی؟ کس نے لی اور اس دوران پنجاب حکومت کہاں تھی؟

موضوعات:

loading...