بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

’’ آپ کو اللہ کا واسطہ ہے میری بیٹیاں ہیں‘‘ پنجاب حکومت کی بنائی گئی 56 کمپنیوں میں ایک بھی نہیں رہے گی کوئی کام ڈھونڈ لیں اور گھر جائیں ، چیف جسٹس نےبڑا حکم جاری کر دیا

datetime 17  جنوری‬‮  2020 |

اسلام آباد (آن لائن)سپریم کورٹ میں ڈپٹی جنرل منیجر لاہور ٹرانسپورٹ کمپنی کی نوکری پر بحالی کی درخواست کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ لاہور ٹرانسپورٹ کمپنی پرائیویٹ لمیٹڈ پنجاب حکومت کی 56 بنائی گئی کمپنیوں میں سے ایک کمپنی ہے، اب ان کمپنیوں میں کوئی نہیں رہے گا،یہ ساری کمپنیاں ختم ہو جائیں گی۔ کیس کی سماعت چیف جسٹس کی

سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔دوران سماعت درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ محمد حنیف لاہور پرائیویٹ کمپنی لمیٹڈ میں بطور ڈپٹی منیجر کام کر رہا تھا جسے رول کے بغیر نکال دیا،نوکری کا صرف ایک سال رہ گیا ہے،جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ جس عہدے پر کام کررہے تھے وہ عہدہ ہی ختم ہو گیا، درخواست گزار صرف مالی نقصانات کا تقاضا کر سکتا ہے۔اس موقع پر درخواست گزار عدالت میں جذباتی ہو گیا اس نے چیف جسٹس سے التجا کی کہ اس نے کوئی کرپشن نہیں کی کوئی چوری نہیں کی، آپ کو اللہ کا واسطہ ہے میری بیٹیاں ہیں۔ جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ یہاں جذباتی باتوں کا کوئی فائدہ نہیں ۔درخواست گزار کوئی اور کام ڈھونڈ لے ،ان کمپنیوں کے اب سب لوگ گھر جائیں گے،پنجاب کی ان 56 کمپنیوں میں سے اب ایک کمپنی بھی نہیں بچے گی۔عدالت نے لاہور ٹرانسپورٹ کمپنی کی ذیلی کمیٹی کو محمد حنیف کا کیس دوبارہ دیکھنے کی ہدایت کرتے ہوئے محمد حنیف کی طرف سے نوکری پر بحالی کی درخواست خارج کرتے ہوئے معاملا نمٹا دیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…