نوازشریف کو زہر دیئے جانے کا خدشہ، برطانوی ڈاکٹر ز کی رپورٹ نے نیا پنڈوراباکس کھول دیا

  ہفتہ‬‮ 14 دسمبر‬‮ 2019  |  11:02

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) لندن کے معروف یونیورسٹی کالج ہسپتال، ہارلے سٹریٹ اور سینٹ تھومس ہسپتال کے کارڈیو تھوراسس سرجن اور ہیما ٹولوجسٹس نے اس بات کا اشارہ دیا ہے کہ اگر نواز شریف کے پلیٹ لیٹس مستحکم نہ ہونے کا کوئی سبب معلوم نہیں ہوسکا اور ان کا علاج نہ ہوسکا تو ان کے ٹوکسیالوجی اسکریننگ کرانے کی ہدایت کی جاسکتی ہے۔روزنامہ جنگ کے مطابق لاہور ہائیکورٹ میں جمع کرائی جانے والی رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر ڈیوڈ آر لارنس نے لکھا ہے اگر پلیٹ لیٹس کی گنتی درست نہ ہوئی تو ممکنہ طورپر ٹوکسیالوجی اسکریننگ کرائی جاسکتی ہے۔انھوں نے کہا


کہ ہم پلیٹ لیٹ 50 سے150 تک چاہتے ہیں تاکہ اینٹی پلیٹ لیٹ تھیراپی کے ذریعے ان کا محفوظ طریقے سے علاج کیا جاسکے۔ڈاکٹر ڈیوڈ آر لارنس کا کہنا ہے کہ انھوں نے 69 سالہ نواز شریف کا لندن میں اپنے کلینک پر معائنہ کیا تھا۔وہ مختلف اہم امراض اور کوموربائیڈائیٹز میں مبتلا ہیں، گیز، سینٹ تھومس ہسپتال اور لندن برج ہسپتال کی ہیماٹولوجی کی ٹیم نےغالباً آئی ٹی پی کا معائنہ کیا اور اس کے اسباب کا پتہ چلانے کی کوشش کی لیکن یہ غیر واضح تھے، تاہم پہلی اور سیکنڈ لائن تھیراپیز کے دوران ان کا ردعمل سست تھا۔ڈاکٹر لارنس نے یہ بھی لکھا ہے کہ حال ہی میں کورونری آرٹری مرض کی بھی تشخیص ہوئی ہے اور مستقل لمپھاڈینوپیتھی اور دوطرفہ کاروٹڈ آرٹری اسٹینوسس بھی موجود ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی شامل ہے کہ ایک لندن برج ہسپتال ہیماٹولوجی کے تحت ایک پیٹ اسکین کیا گیا تھا، اب ان کے لمپھاڈینوپیتھی کا تجزیہ کیا جائے گا۔اسکین کے بعد ان کومپھ نوڈ بایوپسی کرانے کو بھی کہا گیا ہے، کورونری آرٹری بائی پاس سرجری کے دوران وہ بہت اچھے رہے لیکن خمیدہ شریان میں 2 جگہ خرابی، جس کی وجہ سے ان کے دل کے ایک جانب کی دیوار پر خون کی ترسیل میں مستقل کمی ہو رہی ہے۔یاد رہے سابق وزیراعظم کے سب سے بڑے بیٹے حسین نواز نے نواز شریف کے نیب کی حراست کے دوران یہ خدشہ ظاہر کیا تھا کہ ہوسکتا ہے کہ ان کے والد کو زہر دیا گیا ہو، تاہم انھوں نے اس حوالے سے کسی پر الزام عائد نہیں کیا تھا۔

موضوعات: