عالمی عدالت فیصلہ، ویانا کنونشن جاسوسوں پر لاگو نہیں ہوتا، جج کا اختلافی نوٹ سامنے آ گیا

  بدھ‬‮ 17 جولائی‬‮ 2019  |  20:31

دی ہیگ (این این آئی)عالمی عدالت انصاف نے بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کی بریت اور بھارت واپسی اور پاکستان کی فوجی عدالت سے سزا ختم کر نے کی درخواستیں مسترد کرتے ہوئے کہاہے کہ پاکستان کلبھوشن کو قونصلر رسائی دے اور دی جانے والی سزا پر نظر ثانی کرے،کلبھوشن یادیو کو سنائی جانے والی سزا کو ویانا کنونشن کے آرٹیکل 36 کی خلاف ورزی تصور نہیں کیا جاسکتا۔بدھ کو بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو سے متعلق کیس کا فیصلہ عالمی عدالت انصاف کے صدر جج عبد القوی احمد یوسف نے سنایا۔اٹارنی جنرل انور منصور کی قیادت میں پاکستانی ٹیم فیصلہ سننے


نیدر لینڈ کے شہر دی ہیگ میں موجود تھی۔جج عبدالقوی احمد یوسف نے کلبھوشن یادیو کی بریت کی بھارتی درخواست مسترد کرتے ہوئے مؤقف اپنایا کہ پاکستان کی جانب سے کلبھوشن کو سنائی جانے والی سزا کو ویانا کنونشن کے آرٹیکل 36 کی خلاف ورزی تصور نہیں کیا جاسکتا۔عالمی عدالت نے کلبھوشن یادیو کو سزائے موت کا پاکستانی فوجی عدالت کا فیصلہ منسوخ کرنے اور حوالگی کی بھارتی استدعا بھی مسترد کردی اور حسین مبارک پٹیل کے نام سے کلبھوشن کے دوسرے پاسپورٹ کو بھی اصلی قرار دیا۔جج عبدالقوی احمد یوسف نے کہا کہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ کلبھوشن بھارتی شہری ہے، بھارت نے ویانا کنونشن کے تحت کلبھوشن تک قونصلر رسائی مانگی تھی جبکہ پاکستان کا موقف تھا کہ کیس میں ویانا کنونشن کا اطلاق نہیں ہوتا اس لئے کلبھوشن کو قونصلر رسائی نہیں دی جاسکتی تاہم پاکستان اور بھارت ویانا کنونشن کے فریق ہیں اور ویانا کنونشن، جاسوسی کرنیوالے قیدیوں کو قونصلر رسائی سے محروم نہیں کرتا جبکہ پاکستان نے کنونشن میں طے شدہ قونصلر رسائی کے معاملات کا خیال نہیں رکھا، لہٰذا پاکستان کلبھوشن کو قونصلر رسائی دے تاہم وہ پاکستان کی تحویل میں ہی رہے گا جبکہ پاکستان کی دائرہ اختیار سماعت کی درخواست مسترد کی جاتی ہے۔عالمی عدالت نے پاکستان سے کلبھوشن کی سزائے موت کے فیصلے پر نظر ثانی کا بھی کہا۔پاکستان کے ایڈہاک جج جسٹس تصدق جیلانی نے عالمی عدالت انصاف کے فیصلے پر اختلافی نوٹ لکھتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ ویانا کنونشن جاسوسوں پر لاگو نہیں ہوتا۔جسٹس تصدق جیلانی نے لکھا کہ ویانا کنونش لکھنے والوں نے جاسوسوں کو شامل کرنے سوچا بھی نہیں ہوگا، بھارتی درخواست قابلِ سماعت قرار نہیں دی جانی چاہیے تھی۔ بھارت مقدمے میں حقوق سے ناجائز فائدہ اٹھانے کا مرتکب ہوا۔واضح رہے کہ کلبھوشن یادیو کو 3 مارچ 2016 کو بلوچستان کے علاقے سے گرفتار کیا گیا تھا، اس پر پاکستان میں دہشت گردی اور جاسوسی کے سنگین الزامات ہیں اور بھارتی جاسوس نے تمام الزامات کا مجسٹریٹ کے سامنے اعتراف بھی کیا ہے۔10 اپریل 2017 کو کلبھوشن یادیو کو جاسوسی، کراچی اور بلوچستان میں تخریبی کارروائیوں میں ملوث ہونے پر سزائے موت سنائی گی تھی لیکن بھارت کی جانب سے عالمی عدالت میں معاملہ لے جانے کے سبب کلبھوشن کی سزا پر عمل درآمد روک دیا گیا ہے۔پاکستان نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر 25 دسمبر 2017 کو کلبھوشن یادیو کی اہلیہ اور والدہ سے ملاقات کرائی جب کہ اس ملاقات میں کلبھوشن نے والدہ اور اہلیہ کے سامنے جاسوسی کا اعتراف کیاتھا۔

loading...