اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

گند م سے الرجی کا شکار رہا ،مجھے بچپن میں تندور کی روٹیاں پسند تھیں اب آٹا کی روٹی نہیں کھا سکتا ،شفقت محمودکے اپنی زندگی سے متعلق اہم انکشافات

datetime 13  جون‬‮  2019 |

اسلام آباد (این این آئی) وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے کہاہے کہ میں خود بھی گند م سے الرجی کا شکار رہا ہوں ،مجھے بچپن میں تندور کی روٹیاں پسند تھیں اب آٹا کی روٹی نہیں کھا سکتا ،روٹی منع کر نے پر لوگ سمجھتے ہیں یہ بڑا آدمی ہوگیا ہے حالانکہ اصل وجہ بیماری ہے ۔ جمعرات کو گندم سے الرجی سے متعلق آگاہی سیمینار سے خطاب کرتے

ہوئے کہاکہ وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے کہاکہ میں خود بھی گندم سے الرجی کا شکار رہا ہوں انہوں نے کہاکہ مجھے بچپن میں تندور کی روٹیاں پسند تھیں ،کچھ عرصہ قبل مجھے درد اور جلن محسوس ہوئی ۔انہوں نے کہاکہ بہت درد کے بعد میں نے ٹیسٹ کروایا تو پتہ لگا کہ ایسا مرض ہے کہ جس کا نام پہلے نہیں سنا تھا ۔ انہوں نے کہاکہ مجھے آٹا اور روٹی منع کر دی گئی ۔ انہوں نے کہاکہ اس بیماری میں بہت سارے امتحانات سے گزرنا پڑتا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ جہاں روٹی کھانی ہوتی تھی اب چاول کھانے ہوتے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ روٹی منع کرنے پر لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ بڑا آدمی ہو گیا ہے لیکن اصل وجہ بیماری ہے ،اس بیماری کا یہ مسئلہ ہے کہ آپ کو روٹی آٹا نہیں کھانا ہوتا ۔ انہوں نے کہاکہ کافی مشکلات تو ہیں اس بیماری میں لیکن برداشت تو کرنی ہوتی ہیں۔ انہوںنے کہاکہ اس کا علاج صرف پرہیز ہے جو واحد حل ہے ،اس بیماری کی آگاہی بہت ضروری ہے ۔انہوں نے کہاکہ میڈیا پر اس کی تشہیر ضروری ہے تاکہ لوگ سمجھ سکیں ۔ انہوں نے کہاکہ میں اس کو بیماری نہیں سمجھتا بلکہ یہ ایک کیفیت کا نام ہے ، یہ سیمینار منعقد کرانا بہت احسن اقدام ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ڈاکٹر کمیونٹی کو چاہیے کہ لوگوں کو اس بیماری سے آگاہ رکھیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…