وفاقی بجٹ منظور، سرکاری ملازمین کے ہائوس رینٹ وسیلنگ الائونس میں کتنا بڑا اضافہ کر دیا گیا، گریڈ ایک سے 16 تک کے ملازمین کو بھی بڑی خوشخبری ، جو پاکستانی ٹیکس نہیں دیگا وہ یہ کام نہیں کر سکتا، بڑی پابندی عائد کر دی گئی

  جمعہ‬‮ 18 مئی‬‮‬‮ 2018  |  14:17

اسلام آباد (این این آئی)قومی اسمبلی نے آئندہ مالی سال 2018-19ء کے وفاقی بجٹ کی منظوری دے دی ہے ۔ جمعہ کو قومی اسمبلی کی طرف سے وفاقی بجٹ 2018-19ء کی منظوری دی گئی‘ بجٹ میں سینیٹ اور ارکان اسمبلی کی بجٹ تجاویز کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے مالیاتی بل میں بعض ترامیم پیش کی گئیں جن کی قومی اسمبلی نے کثرت رائے سے منظوری دے دی۔ وفاقی بجٹ 2018-19ء کےتحت سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 10 فیصد ایڈہاک ریلیف الائونس، ہائوس رینٹ سیلنگ اور ہائوس رینٹ الائونس میں 50 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔ زرعی، لائیو


سٹاک اور ماہی گیری کے شعبوں کے لئے ٹیکس مراعات کا اعلان اور دفاعی بجٹ میں 200 ارب روپے سے زائد کا اضافہ کیا گیا ہے جبکہ سرکاری شعبہ کے ترقیاتی پروگرام کے لئے 1030 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ 12لاکھ روپے سالانہ یا ایک لاکھ روپے ماہانہ آمدنی پر وزیر اعظم کے خصوصی اعلان کردہ پیکیج کے تحت انکم ٹیکس استثنیٰ دیا گیا ہے، تنخواہ دار طبقہ کے لئے ٹیکسز کی شرح میں نمایاں کمی کی گئی ہے جس کے مطابق 4 لاکھ سے 8 لاکھ تک آمدن پر ایک ہزار روپے سالانہ جبکہ 8 لاکھ سے 12 لاکھ روپے پر 2 ہزار روپے کا برائے نام انکم ٹیکس لیا جائے گا۔ صوبائی حکومتوں کے اشتراک سے ملک بھر میں کھیلوں کے 100 سٹیڈیم بنائے جائیں گے۔ پنشن کی کم سے کم حد 6 ہزار سے بڑھا کر 10 ہزار روپے کرنے‘ 75 سال سے زائد عمر کے پنشنرز کی کم سے کم پنشن 15 ہزار روپے ماہانہ کردی گئی ہے۔ فاٹا کو قومی دھارے میں لانے کے لئے 100 ارب روپے کی لاگت سے خصوصی ترقیاتی پروگرام مکمل کیا جائیگا۔ آئندہ مالی سال کے لئے ایف بی آر کے محصولات کی وصولی کا ہدف 4435 ارب روپے ہوگا۔ بجلی سے چلنے والی گاڑیوں کی درآمد پر عائد کسٹم ڈیوٹی کیشرح 50 فیصد سے کم کرکے 25 فیصد اور 15 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی کی چھوٹ دے دی گئی ہے۔ ٹیکس گزاروں کی سہولت کے لئے کمپوزٹ آڈٹ کا طریقہ متعارف کرایا جائے گا۔ بنکاری اور نان بنکاری کمپنیوں کے لئے سپر ٹیکس کی شرح سالانہ ایک فیصد کی شرح سے کم کردی جائے گی۔ کارپوریٹ ٹیکس کی شرح کو 2023ء تک 25 فیصد تک لایا جائے گا۔ مقامی طور پر لیپ ٹاپ اورکمپیوٹر میں استعمال ہونے والے 21 اقسام کے پرزوں کی درآمد پر سیلز ٹیکس مکمل ختم کردیا جائے گا۔ سٹیشنری کے لئے سیلز ٹیکس ختم کردیا جائے گا۔ سگریٹ پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی موجودہ شرح بڑھا دی گئی ہے۔ انفرادی ٹیکس کی شرح کو کم کیا گیا ہے۔ 12 لاکھ روپے سالانہ آمدن یا ایک لاکھ ماہانہ آمدن والے افراد کے لیے ٹیکس سے مکمل استثنیٰ کا اعلان کیا گیاہے جو کہ پچھلی حدسے تین گنا ہے۔ ایک لاکھ سے دو لاکھ ماہانہ آمدن والے افراد پر صرف 5 فیصد ٹیکس لاگو ہو گا۔ دو لاکھ سے چار لاکھ ماہانہ آمدن والے افراد پر ٹیکس کی شرح 10 فیصد ہو گی۔ چار لاکھ ماہانہ سے زیادہ آمدن والے افراد پر ٹیکس کی شرح 15 فیصد ہو گی۔ ٹیکس ریٹ میں کمی سے سب سے زیادہ فائدہ متوسّط اور تنخواہ دار طبقہ کو ہو گا۔ ملک میں غربت کے خاتمے کے لئے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرامکے فنڈز تین گنا بڑھا دیئے گئے ہیں۔ اسی طرح بیت المال کا بجٹ دس ارب روپے کردیا گیا ہے۔ ملک میں بجلی کے صارفین کو سستی بجلی کی فراہمی کے لئے 150 ارب روپے کی سبسڈی دی گئی ہے۔ وزیراعظم کی خصوصی ہدایت پر نیا برآمدی پیکج دیا گیا ہے۔ جس کے لئے بجٹ میں 24 ارب روپے مختص کردیئے گئے ہیں۔ آئی ٹی کے شعبے میں کیش ایوارڈ کا اجراء اور اس شعبے پر سیلز ٹیکس 15 فیصدسے کم کرکے پانچ فیصد کردیا گیا ہے۔ تمام کھادوں پر ٹیکس کی شرح کم کرکے دو فیصد کردی گئی ہے۔ کھیتوں میں جپسم کی کمی پوری کرنے کے لئے برآمدات پر 20 فیصد ڈیوٹی عائد کی گئی ہے‘ اس سے ملکی جپسم کی صنعت کو تقویت ملے گی۔ گریڈ ایک سے گریڈ 16 تک دیر تک کام کرنے والے ملازمین کے کنوینس الائونس میں 50 فیصد اضافہ کر دیا گیا ہے۔ کم آمدن والوں کے لئے25 لاکھ روپے تک کے مکان کے ٹیکس میں 50 فیصد کمی کی گئی ہے۔ نان فائلر پر 40 لاکھ روپے تک کی جائیداد خریدنے کی حد کو بڑھا کر 50 لاکھ کر دیا ہے۔ ماچس سازی کی صنعت کو سیلز ٹیکس سے مستثنیٰ کردیا گیا ہے۔قومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال کے بجٹ 2018-19ء کے اعداد و شمار کو آئینی تحفظ فراہم کرنے کیلئے مالیاتی بل 2018ء کی منظوری دے دی گئی جبکہوزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے اپوزیشن کی تنقید مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپوزیشن لیڈر کی تین ٹریلین سے زیادہ خسارے کی بات درست نہیں ہے ٗ بجٹ کا خسارہ 1890 ارب روپے ہوگا ٗہمیں ٹیکس کی بنیاد کو وسعت دینا ہوگی ٗآزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں جو لوگ ٹیکس دے رہے ہیں ان کو ایکٹیو ٹیکس پیئر لسٹ میں شامل کریں گے ٗجو پاکستانی ٹیکس نہیں دے گا، وہ ڈالر اکاؤنٹ نہیں رکھ سکے گا ۔جمعہ کو قومی اسمبلی کا اجلاس سپیکر سردار ایاز صادق کی زیر صدارت ہوا ۔اجلاس کے دور ان سپیکر قومی اسمبلی نے مالیاتی بل 2018ء کی بقیہ شقوں کی شق وار منظوری کا عمل شروع کیا ٗبل کی بعض شقوں میں وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل اور اپوزیشن ارکان نے ترامیم پیش کیں۔گزشتہ روز ارکان کی طرف سے اٹھائے گئے نکات کا جواب دیتے ہوئے وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا کہپٹرولیم لیوی کی شرح میں اضافہ نہیں کیا گیا ہے بلکہ اپر کیپ بڑھانے کی بات کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ لیڈر آف اپوزیشن کی تین ٹریلین سے زیادہ خسارے کی بات درست نہیں ہے۔ بجٹ کا خسارہ 1890 ارب روپے ہوگا۔ اسی طرح نفیسہ شاہ نے درآمدات اور برآمدات میں خلیج بڑھنے کی جو بات کی ہے وہ درست ہے لیکن ہماری جانب سے صورتحال کو بہتر بنانے کے لئے اقدامات کئے جارہے ہیں۔مفتاح اسماعیل نے کہا کہ یہ کہنا درست نہیں کہ اس بجٹ میں غریب اور متوسط طبقے کے لئے کچھ نہیں کیا گیا۔ بجٹ میں مڈل اور لوئر مڈل کلاس کے لئے 118 ارب روپے کا ٹیکس ریلیف دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جائیداد کی خریداری کے لئے فائلر ہونے کی شرط اس لئے بھی ضروری ہے کہ ٹیکس کے دائرہ کار کو توسیع دینے کی بات تمام جماعتوں نے کی ہے۔ ہمیں ٹیکس کی بنیاد کو وسعت دینا ہوگی۔انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں جو لوگ ٹیکس دے رہے ہیں ان کو ایکٹیو ٹیکس پیئر لسٹ میں شامل کریں گے۔ قومی اسمبلی سے مالیاتی بل 2018ء کو زیر غور لانے کی تحریک کی منظوری کے بعد ڈپٹی سپیکر نے بل کو شق وار منظوری کیلئے ایوان میں پیش کیا۔ بل کی مختلف شقوں میں اپوزیشن کی طرف سے ڈاکٹر عذرا فضل‘ صاحبزادہ طارق اللہ‘ شگفتہ جمانی‘ شازیہ مریاور دیگر اپوزیشن ارکان کی طرف سے ترامیم پیش کی گئیں جو ایوان نے مسترد کردیں جبکہ وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل اور سید نوید قمر کی چیئرمین سینیٹ ‘ سپیکر ‘ ڈپٹی چیئرمین سینیٹ اور ڈپٹی سپیکر کی مراعات سمیت دیگر ترامیم کی قومی اسمبلی نے بل میں شامل کرنے کی منظوری دے دی۔ اس طرح قومی اسمبلی نے مالیاتی بل 2018ء کی منظوری دے دی۔ قبل ازیں پیپلز پارٹی کےپارلیمانی لیڈر سید نوید قمر نے ٹیکس ایمنسٹی سکیم کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ عام ٹیکس دھندہ کو مایوس کرنا چاہیں گے۔ جو لوگ ٹیکس دے رہے ہیں ان کا قصور کیا ہے‘ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر آپ ایماندار ہیں تو آپ کے لئے کوئی مراعات نہیں لیکن اگر آپ ٹیکس چور ہیں یا منی لانڈرنگ کر رہے ہیں تو آپ کو سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔ ہم پوری ایمنسٹی سکیم کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہیںجسے فنانس بل کا حصہ بنایا گیا ہے۔ سید نوید قمر نے کہا کہ غریب طبقے پر پٹرولیم لیوی کے نام پر ٹیکس لاگو کردیا گیا ہے۔ سید نوید قمر نے کہا کہ تیل کی قیمتیں بڑھانے سے دیگر اشیاء کی قیمتیں بھی بڑھ جاتی ہیں۔ اس سے نقل و حمل کے اخراجات بڑھ جاتے ہیں۔ کھادوں پر ٹیکس کم کیا گیا لیکن ڈیزل پر ٹیکسوں میں اضافہ ہوا اس لئے کاشت کاروں اور زمینداروں کو اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ملک کے اقتصادی چیلنجز بہت زیادہ ہیں۔ فنانشل ٹاسک فورس کا اجلاس دوبارہ ہو رہا ہے اور اگر پاکستان بلیک لسٹ میں چلا گیا تو ہماری معیشت پر اثرات مرتب ہوں گے۔ پی ٹی آئی کی ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا کہ ہم اپنے موقف پر قائم ہیں کہ بجٹ کو ہم مسترد کرتے ہیں کیونکہ آئندہ مالی سال کیلئے بجٹ موجودہ حکومت کا مینڈیٹ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ فنانشل ٹاسک فورس کے اجلاس کےتناظر میں بھی ایمنسٹی سکیم نہیں لانی چاہیے تھی‘ اس سے ملک بلیک لسٹ میں چلا جائے گا۔ زراعت کے لئے کچھ نہیں کیا گیا۔ گنے‘ پانی اور زراعت سے متعلق دیگر مسائل کے حل کے لئے کوئی کام نہیں کیا گیا اور اس شعبے کو نظر انداز کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کے دور میں جتنی صنعتیں بند ہوئی ہیں اس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔ پانچ سال میں لوڈشیڈنگ کا مسئلہ حل نہیں ہو سکا۔غریب غریب تر اور امیر امیر تر ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے پانچ سالوں میں عام آدمی کے مالیاتی بوجھ کو کم کرنے کیلئے کچھ نہیں کیا۔ ایم کیو ایم کے ایس اے اقبال قادری نے پٹرولیم لیوی پر تنقید کی اور کہا کہ مسلم لیگ (ن) جب اپوزیشن میں تھی تو اسے جگا ٹیکس قرار دیا تھا اور اب خود اسے نافذ کردیا ہے ٗیہ ایک ظالمانہ فیصلہ ہے جس کے عام آدمی پر اثرات مرتب ہوں گے۔اسی طرح کلاز فائیو کے تحت اگر کوئی انکم ٹیکس نہیں دیتا تو وہ گاڑیاں نہیں خرید سکے گا۔ یہ کلاز آئین کے خلاف ہے۔ جماعت اسلامی کے پارلیمانی لیڈر صاحبزادہ طارق اللہ نے کہا کہ ہم اپنے موقف پر قائم ہیں کہ موجودہ حکومت صرف چار ماہ کے لئے بجٹ بنائے۔ انہوں نے فنانس بل میں اپنی ترامیم شامل کرنے کی استدعا کی۔ پیپلز پارٹی کی ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو نے پٹرولیم مصنوعات پرلیوی کی مخالفت کی اور اسے اصلی شرح پر لاگو کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کلاز تین سمیت فنانس بل کی متعدد شقوں کی مخالفت کی۔ پی ٹی آئی کے غلام سرور خان نے کہا کہ کرپشن ‘ منی لانڈرنگ اور ملک لوٹنے والوں کو سہولیات نہیں ملنی چاہئیں۔ موجودہ حکومت نے زراعت کے شعبے کو نظر انداز کردیا ہے۔ وفاقی حکومت نے کوئی زرتلافی نہیں دی ہے‘ ایک طرف ہندوستان ہمارا پانی روک رہا ہےاور دوسری طرف نئے ڈیموں کی تعمیر پر توجہ نہیں دی جارہی۔ انہوں نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشنز میں اضافے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ صنعتی کارکنوں کے لئے وفاقی حکومت کے پاس فنڈز موجود ہیں لیکن وہ نہیں دیئے جارہے۔ ایم کیو ایم کے علی رضا عابدی نے کہا کہ اقتصادی اصلاحات میں انڈر انوائسنگ کے مسئلہ سے نمٹنے کے لئے اقدامات کئے جائیں۔ درآمدات اور برآمدات میںخلیج بڑھ رہی ہے۔ ایمنسٹی سکیم ٹیکس دینے والے شہریوں کے ساتھ زیادتی ہے۔ ماضی میں اس طرح کی سکیموں کا کوئی فائدہ نہیں ہوا تھا۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے اقتدار میں آنے سے قبل ایس آر اوز جاری نہ کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن اس کے باوجود سب سے زیادہ ایس آر اوز اسی دور میں لائے گئے۔ اسی طرح گردشی قرضوں کا مسئلہ بھی بدستور موجود ہے۔ جماعت اسلامی کی عائشہ سیدنے مالی بل 2018ء کی مخالفت کی اور کہا کہ غریب اور عام آدمی کے لئے بجٹ میں کچھ نہیں ہے۔ ملک قرضوں اور سود کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔ نوجوان روزگار کے لئے دربدر ہیں۔ تنخواہوں میں دس فیصد اضافہ مہنگائی سے مطابقت نہیں رکھتا۔ کم سے کم اجرت 14500 میں ایک خاندان کا بجٹ نہیں بنایا جاسکتا۔ قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے کہا کہ بجٹ میں 3740 ارب روپے کا خسارہ بتایا گیا ہے۔اس خسارے کو کیسے پورا کیا جائے گا۔ پاکستان پر قرضے 24 ہزار ٹریلین تک پہنچ گئے ہیں۔ اگر یہ خسارہ بھی قرضے لے کر پورا کیا گیا تو ملکی قرضے 28 ہزار ٹریلین ہو جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اٹھارہویں ترمیم کے بعد کاشتکار جو صوبے کو ٹیکس دیتا ہے اسے بھی فائلر کا درجہ دیا جانا چاہیے۔ پیپلز پارٹی کی شازیہ مری نے کہا کہ عام آدمی کو ریلیف دینے کی بجائے ایمنسٹی سکیم کے ذریعےبڑے لوگوں کو نوازا جارہا ہے۔ ہم غیر منقولہ جائیداد اور گاڑیوں کی خرید و فروخت سے متعلق شقوں کی بھی مخالفت کرتے ہیں۔ بعض ٹیکس صوبوں سے متعلق ہیں اور ان میں وفاق کا کوئی کردار نہیں ہوتا۔ فنانس بل میں سینما گھروں کو بہت زیادہ ریلیف ملا ہے لیکن کیا اس سے پاکستان کی فلمی صنعت ترقی کرے گی یا نہیں یا صرف بعض سینما گھروں کے مالان کو فائدہ پہنچایا جارہا ہے۔فنانس بل میں ایک ایکٹ بھی شامل کیا گیا ہے۔ اس کا نوٹس لیا جائے۔ پی ٹی آئی کے ساجد نواز نے کہا کہ ایمنسی سکیم کی طرح بجلی کے نادہندہ صارفین کے لئے بھی رعایتی سکیم کا اعلان کیا جائے۔ اس ضمن میں ایسے صارفین کو نئے میٹرز بھی دیئے جائیں، اس سے ریونیو میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پی ایس ڈی پی کے ذریعے ایم این ایز کو فنڈز نہ دیئے جائیں بلکہ فنڈز بلدیاتی اداروںکے نمائندوں کو ملنے چاہئیں۔ انہوں نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ اور کم ترقی یافتہ علاقوں کو گیس اور دیگر سہولیات فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔ جماعت اسلامی کے شیر اکبر خان نے ایمنسٹی سکیم اور پٹرولیم لیوی ٹیکس واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ زراعت کے شعبے کے لئے سبسڈی دی جائے۔ ضلع بونیر میں عالمی معیار کے ورجینیا ٹوبیکو کی پیداوار حاصل ہوتی ہےمگر اس کے کسان کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ بی ایس آئی پی سروے میں غریب اور مستحق خاندانوں کو شامل کرنا ضروری ہے۔ بجٹ میں بیروزگار نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی پر توجہ دی جائے۔ اسی طرح لوڈشیڈنگ کے خاتمہ کے لئے عملی اقدامات کئے جائیں۔ مالیاتی بل 2018ء کی ایم کیو ایم کے رکن شیخ صلاح الدین اور پیپلز پارٹی کے رکن عبدالستار بچانی نے بھیمخالفت کی۔پیپلز پارٹی کی رکن ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے کہا کہ اصولی طور پر فنانس بل میں ترمیم کے لئے 24 گھنٹے کا وقت دینا چاہیے تھا لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔ اسمبلی کے رولز اینڈ پروسیجر کا خیال رکھا جائے۔ پاکستان ایک فیڈریشن ہے اور آئین کے طریقہ کار کے تحت وسائل کی تقسیم ہوتی ہے۔ بجٹ میں اس اصول کا عملی مظاہرہ ہونا چاہیے۔ تنخواہ دار طبقے کو ایک طرف ریلیف دیا ہےاور دوسری طرف پٹرولیم لیوی کے نام پر ان سے مراعات واپس لی گئی ہیں۔ اس بجٹ میں خواتین کے لئے کچھ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اشرافیہ کا بجٹ ہے جسے وہ مسترد کرتی ہیں۔

موضوعات:

loading...