باباسکول

  اتوار‬‮ 20 مئی‬‮‬‮ 2018  |  0:01

آپ اگر بینکاک سے شمال کی طرف سفر کریں تو 80 کلومیٹر بعد تھائی لینڈ کا صوبہ فرانا خون سی اوتھایا  آ جاتا ہے‘ حکومت نے صوبے کی سب ڈسٹرکٹ چیانگ راک نوئی میں ایک دلچسپ تجربہ کیا‘ یہ دنیا کا دلچسپ ترین تجربہ ہے‘ حکومت نے ٹاؤن میں بزرگوں کا پہلا سکول قائم کر دیا‘ سکول میں صرف 60 سال سے زائد عمر کے لوگ داخلہ لے سکتے ہیں‘ یہ داخلہ تین ماہ کیلئے ہوتا ہے‘ ہفتہ وار کلاسیں ہوتی ہیں اور تمام بزرگ طالب علم

باقاعدہ یونیفارم پہن کر‘ بیگ لے کر اور سکول کی بس میں بیٹھ کر سکول آتے ہیں‘ سکول میں اس وقت30 بزرگ خواتین اوربزرگ حضرات طالب علم ہیں‘ یہ سکول تنہائی اور بے کاری کے شکار بزرگوں کیلئے جنت ہے۔دنیا

میں لوگ عموماً ساٹھ سال کی عمر کے بعد ریٹائر ہو جاتے ہیں‘ یہ اس کے بعد مرنے تک بے کاری کا شکار رہتے ہیں‘ بچے شروع میں والدین کا خیال رکھتے ہیں‘ یہ انہیں وقت بھی دیتے ہیں لیکن پھر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بچوں کے پاس بھی وقت کم ہوتاچلا جاتا ہے‘ یہ لوگ اپنی پروفیشنل لائف اور بچوں کے بکھیڑوں میں پھنس جاتے ہیں اور یوں ان کے بزرگ تنہا سے تنہا ہوتے چلے جاتے ہیں‘ دنیا میں اوسط عمر میں اضافہ ہو رہا ہے‘ دوسری جنگ عظیم تک اوسط عمر پچاس سال ہوتی تھی‘ لوگ پچاس اور ساٹھ کی دہائی کے دوران دنیا سے رخصت ہو جاتے تھے‘ ساٹھ سال کے بعد تک زندہ رہنے والے لوگ طویل العمر اور خوش قسمت سمجھے جاتے ہیں‘ آپ کو شاید یہ جان کر حیرت ہو گی انگریز کے دور میں ہندوستان میں ریٹائرمنٹ کی عمر 45 سال تھی‘ ہندوستان کے تمام سرکاری ملازم 45 سال کی عمر میں نوکری سے فارغ ہو کر گھر چلے جاتے تھے لیکن پھر ریٹائرمنٹ کی عمر میں بھی بتدریج اضافہ ہوتا چلا گیا‘ دنیا میں اس وقت اوسط عمر 72سال ہو چکی ہے‘ امریکا میں خواتین92سال اور مرد90سال تک زندہ رہتے ہیں‘ دنیا میں سو سال سے زائد بوڑھوں کا سب سے بڑا بریگیڈ جاپان میں ہے‘ وہاں

سو سال سے زائد عمر کے 67 ہزار 824 لوگ ہیں جبکہ کل آبادی کے 27 اعشاریہ 7 فیصد لوگوں کی عمریں 65 سال سے زیادہ ہیں‘ یہ 3 کروڑ 51 لاکھ اور 40 ہزار لوگ بنتے ہیں چنانچہ آپ اگر کبھی جاپان جائیں تو آپ کو ہر شہر کی گلیوں‘ سڑکوں اور شاپنگ سنٹروں میں بوڑھے ملیں گے‘ ان میں اکثریت بوڑھی خواتین کی ہو گی‘ جاپان میں چند سال پہلے تحقیق ہوئی تو پتہ چلا بڑھاپے میں مرد خواتین کے مقابلے میں جلد فوت ہو جاتے ہیں‘ سو سال سے زائد عمر کے 67 ہزار 824 لوگوں میں خواتین کی تعداد 53 ہزار 700 ہے

جبکہ مرد صرف 14ہزار 124ہیں گویا سو سال تک پہنچ کر دس میں سے 9 مرد فوت ہو جاتے ہیں صرف ایک بچتا ہے جبکہ دس میں سے 9 خواتین سو سال کی دہلیز پار کر جاتی ہیں‘ جاپان کی تحقیق کے مطابق 2040ء تک جاپان میں بزرگوں کی شرح (65 سے اوپر) آبادی کا 35 اعشاریہ 3 فیصد ہو جائے گی گویا ملک میں ایک تہائی لوگ بزرگ اور بے روزگار ہوں گے اور حکومت کو ان کی ”ٹیک کیئر“ کیلئے اربوں ڈالر درکار ہوں گے‘ تھائی لینڈ بھی جاپان جیسی صورتحال کا شکار ہے‘

تھائی لینڈ کے 75 لاکھ لوگوں کی عمریں 65سال سے زیادہ ہیں‘ یہ تعداد 2040ء تک ایک کروڑ 70 لاکھ ہو جائے گی‘ یونائیٹڈ نیشن پاپولیشن فنڈ کے مطابق دنیا میں اس وقت 9 میں سے ایک شخص 60 سال سے اوپر ہے‘ 2050ء تک پانچ میں سے ایک شخص کی عمر 60 سال سے زائد ہو جائے گی‘ یہ تبدیلی سب سے زیادہ ترقی پذیر اور غیرترقی یافتہ ملکوں کو متاثر کرے گی‘ ترقی پذیر ملکوں میں اس وقت نوجوان زیادہ ہیں‘ یہ نوجوان ایکسر سائز بھی کرتے ہیں‘

یہ کھانے اور پینے میں بھی احتیاط کرتے ہیں اور یہ پچھلی نسلوں کی نسبت زیادہ پڑھے لکھے اور سمجھ دار بھی ہیں چنانچہ یہ بڑی آسانی سے ساٹھ سال کی حد عبور کر جائیں گے‘ یہ لوگ اگر 80 سال یا 90 سال زندہ رہتے ہیں تو یہ باقی بیس سے تیس سال کیا کریں گے؟ دنیا میں اس وقت ایسے 18 ممالک ہیں جن میں ایک کروڑ سے زائد بزرگ موجود ہیں‘ ان میں سات ملک ترقی پذیر ہیں‘ پاکستان بھی ان میں شامل ہے‘ پاکستان میں اس وقت ایک کروڑ 13 لاکھ لوگوں کی عمریں 60 سال سے زیادہ ہیں‘

یہ تعداد کل آبادی کا ساڑھے چھ فیصد بنتی ہے‘ یہ لوگ2050ء تک بڑھ کر 4 کروڑ 35 لاکھ ہو جائیں گے اور یہ کل آبادی کا 15اعشاریہ 8 فیصد ہو گا‘ چین‘ بھارت اور فلپائن میں بھی بزرگوں کی تعداد 2050ء تک چار گنا بڑھ جائے گی اور ان تمام لوگوں کو پنشن بھی چاہیے ہو گی‘ صحت بھی‘ گھر بھی اور کیئر بھی اور یہ انہیں کون دے گا؟ دنیا میں اس وقت آبادی‘ بے روزگاری‘ تعلیم اور صحت بہت بڑے مسئلے ہیں‘ آج سے بیس 22 سال بعد بزرگ بھی مسائل کی اس فہرست میں شامل ہو جائیں گے جس کے بعد آپ کو سڑک پر ہر تیسرا شخص بزرگ دکھائی دے گا اور حکومت کو اس بزرگ کی ”ٹیک کیئر“ کرنا پڑے گی۔

یہ مسئلہ کیوں پیدا ہو رہا ہے؟ یہ مسئلہ اچھی خوراک‘ مہلک بیماریوں کے علاج اور ”ہیلتھ اوئیرنیس“ کی وجہ سے پیدا ہو رہا ہے‘ دنیا میں پچھلے چالیس برسوں میں صحت کے ادراک میں اضافہ ہوا‘ لوگ اب ایکسرسائز بھی کرتے ہیں‘ یہ متوازن اور اچھی خوراک بھی کھاتے ہیں‘ یہ بروقت میڈیکل ٹیسٹ کرا کر جان لیوا بیماریوں کا اندازہ بھی کر لیتے ہیں اور یہ ان کا علاج بھی کرا لیتے ہیں چنانچہ لوگوں کی عمریں لمبی ہو رہی ہیں‘ سوال یہ ہے یہ لوگ ریٹائرمنٹ کے بعد زندگی کے اضافی تیس چالیس برسوں میں کیا کریں گے؟

تھائی لینڈ دنیا کا پہلا ملک ہے جس نے اس مسئلے کو محسوس بھی کیا اور اس کے حل کیلئے پہلا اینی شیٹو بھی لیا‘ حکومت نے بزرگوں کا پہلا سکول کھول دیا‘ سکول سے بزرگوں کی زندگی میں تین بڑی تبدیلیاں آئیں‘ بڑھاپے کا پہلا وار تنہائی ہوتا ہے‘ بوڑھوں کے دوست احباب بیمار ہو جاتے ہیں‘ انتقال کر جاتے ہیں یا پھر ان کی موومنٹ کم ہو جاتی ہے‘ بچے اپنی زندگی میں مشغول ہو جاتے ہیں چنانچہ بزرگ اکیلے ہو جاتے ہیں اور یہ لکھی پڑھی بات ہے تنہائی انسان کیلئے سب سے بڑی تکلیف ہوتی ہے‘

سکول نے بزرگوں کو ادھیڑ عمری میں نئے دوست بنانے کا موقع فراہم کر دیا‘ بوڑھے اکٹھے ہوتے ہیں‘ یہ بچوں کی طرح ایک دوسرے کے ساتھ مکس اپ ہوتے ہیں اور یہ دوستیاں بنانا شروع کر دیتے ہیں‘ بڑھاپے کا دوسرا ایشو ایکٹویٹی کی کمی ہوتی ہے‘ بزرگ نے کہیں جانا نہیں ہوتا‘ یہ سارا سارا دن گھر پر رہ کر بے زار اور چڑچڑے ہو جاتے ہیں‘ یہ ایکٹویٹی پیدا کرنے کیلئے بچوں اور بہوؤں سے لڑنا شروع کر دیتے ہیں یا پھر یہ ہمسایوں کے ساتھ چخ چخ میں لگ جاتے ہیں‘ سکول نے بزرگوں کو ایکٹویٹی دے دی‘ یہ اب سکول کیلئے اٹھتے ہیں‘ یونیفارم پہنتے ہیں‘ بیگ تیار کرتے ہیں‘

چھوٹے بچے کی طرح سکول بس میں سوار ہوتے ہیں‘ لیکچر سنتے ہیں‘ نوٹس لیتے ہیں اور ہوم ورک لے کر گھر جاتے ہیں‘ یہ سکول میں بچوں کی طرح سپورٹس بھی کرتے ہیں اور بڑھاپے کا تیسرا اور آخری ایشو بے مقصدیت ہوتا ہے‘ انسان اپنی زندگی کو بے مقصد اورلایعنی سمجھنے لگتاہے‘ سکول نے بزرگوں کو زندگی کا مقصد دے دیا‘ یہ اب سکول سے زندگی کے آخری فیز کو بامقصد بنانے کا آرٹ سیکھ رہے ہیں‘ سکول آہستہ آہستہ ایسا سلیبس تشکیل دے رہا ہے جو بزرگوں کے بڑھاپے کو زیادہ سے زیادہ بامقصد بنا دے گا۔

بزرگوں کے سکول نے بوڑھوں کی زندگی میں کیا کیا تبدیلیاں برپا کیں یہ آپ سومجیت تیراروج سے سنئے‘ سومجیت کی عمر 77 سال ہے‘ اس کا کہنا ہے ”میں پورا ہفتہ سکول کا انتظار کرتی ہوں‘ میں سکول کے دن یونیفارم پہنتی ہوں‘ بال بناتی ہوں اور اسی طرح تیار ہو کر سکول کیلئے نکلتی ہوں جس طرح میں بچپن میں جاتی تھی‘ بس میں میرے ساتھ میرے ہم عمر بھی ہوتے ہیں‘ ہم سفر کے دوران بچوں کی طرح ہنسی مذاق بھی کرتے ہیں اور ایک دوسرے کو چھیڑتے بھی ہیں یوں ہماری تنہائی بھی دور ہو جاتی ہے اور ہم خوش بھی ہو جاتے ہیں“

سومجیت کا کہنا تھا ”میرے خاوند کا انتقال 40 سال پہلے ہو گیا تھا‘ میں نے ملازمتیں کیں‘ اپنے بچوں کو پالا‘ بچے بڑے ہوئے‘ ان کی شادیاں ہوئیں‘ بچوں کے بچے ہو گئے اور یہ اب اپنے بچوں میں مصروف ہو گئے ہیں‘ میں اکیلی ہو چکی ہوں‘ میرے بچے ہفتے میں ایک دن میرے پاس آتے ہیں لیکن میری تنہائی کم نہیں ہوتی‘ سکول نے میرا اکیلا پن ختم کر دیا‘ میں اب خوش ہوں“ چو جارٹ سکول کی ایک دوسری طالبہ ہیں‘ چوجارٹ نے سکول کے آخری دن الوداعی گاؤن پہن رکھا تھا‘ وہ بار بار کہہ رہی تھی ”بڑھاپے میں ایک ایک دن گن کر زندگی گزارنا آسان نہیں ہوتا‘

میں دن گن گن کر موت کی طرف بڑھ رہی تھی لیکن پھر میری زندگی میں یہ سکول آیا اور میں بچپن میں واپس چلی گئی‘ میرے نئے دوست بنے‘ میں نے بے شمار نئی چیزیں سیکھیں اور میں آج بہت خوش ہوں“۔تھائی لینڈ کا یہ تجربہ آنے والے دنوں میں پوری دنیا کیلئے نیا ٹرینڈ بن جائے گا‘ کاش ہمارے ملک میں بھی کوئی درد دل رکھنے والا شخص یہ تجربہ کرے‘ یہ بوڑھوں کا پہلا سکول بنائے اور لاکھوں بزرگوں کی دعائیں سمیٹے‘ بڑھاپا کتنا اذیت ناک ہوتا ہے آپ یہ بوڑھوں سے پوچھئے اور آپ پھر ان بوڑھوں کو ایک دن کیلئے کسی سکول میں داخل کرا کر دیکھئے‘ آپ کو ان کی اذیت رحمت میں تبدیل ہوتی نظر آئے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں