ورنہ آپ فارغ ہو جائیں گے

  منگل‬‮ 1 ستمبر‬‮ 2015  |  0:01

ہماری زندگی میں تین قسم کے رشتے ہوتے ہیں‘ ہم ان میں سے دو قسم کے رشتوں کو بدل سکتے ہیں‘ ہمیں دوست پسند نہیں‘ ہم ان سے قطع تعلق کر کے نئے دوست بنا سکتے ہیں‘ ہمیں ہمسائے‘ شہر‘ معاشرہ‘ کلاس فیلوز اور کولیگس پسند نہیں ہیں‘ ہم انہیں بھی چینج کر سکتے ہیں لیکن ہم کچھ بھی کر لیں‘ ہم خواہ لانگ مارچ کریں‘ ہم دھرنا دیں‘ ہم ایک لاکھ موٹر سائیکل سڑک پر لے آئیں یا پھر ہم جوڈیشل کمیشن بنا لیں ‘ہم اپنے خونی رشتوں کو نہیں بدل سکتے‘ ہماری ماں‘ ہماری ماں‘ ہمارا والد ہمارا والد‘ ہماری بہن ہماری بہن اور ہمارے بھائی ہمارے بھائی ہی رہیں گے‘ ہم خون کا رشتہ تبدیل نہیں کر سکیں گے‘ کیوں؟ کیونکہ یہ رشتہ خون کا


ہوتا ہے اور انسان خونی رشتے تبدیل کرنے پر قادر نہیں ہوتا‘ آپ نے زندگی میں بے شمار لوگوں کو اپنے خونی رشتوں سے قطع تعلق کرتے دیکھا ہو گا‘ بھائیوں نے بہن کو چھوڑ دیا ہوگا‘ بیٹا باپ کو چھوڑ کر چلا گیا ہو گا‘ ماں نے مرنے تک بیٹے کا منہ نہیں دیکھا ہو گا اور باپ نے اپنے بیٹے یا بیٹی کو عاق کر دیا ہو گا لیکن کیا اس قطع تعلق کے بعد وہ رشتہ ختم ہو گیا؟ نہیں‘ ہرگز نہیں‘ باپ اولاد کو عاق کرنے کے باوجود اس کا باپ اور بیٹا عاق ہونے کے باوجود بیٹا رہا‘ ماں چالیس سال بچوں کو نہیں ملی لیکن وہ اس کے باوجود ان کی ماں رہی‘ صدر اوبامہ کا والد شادی کے تین سال بعد ان کی والدہ این ڈنہم کو طلاق دے کرکینیا واپس چلا گیا‘ صدر اوبامہ نے اپنے والد کی شکل تک نہیں دیکھی لیکن اس کے باوجود باراک اوبامہ سینئر صدر اوبامہ کے والد ہیں اور یہ ہمیشہ رہیں گے‘ صدر اوبامہ کے والد نے دسمبر 1964ءمیں رتھ بیٹرک بیکر سے تیسری شادی کر لی‘ رتھ بیٹرک سے ان کے دو بچے ہیں‘ صدر اوبامہ چاہیں یا نہ چاہیں‘ یہ بچے بہرحال صدر اوبامہ کے بہن بھائی ہیں اور صدر اوبامہ اس رشتے سے انکار نہیں کر سکتے‘ ہم انسان رشتوں کے اس شکنجے سے کبھی باہر نہیں نکل سکتے! اب سوال یہ ہے ‘ہمارے یہ رشتے بناتا کون ہے؟ ہمارے یہ رشتے ہماری سولائزیشن بناتی ہے‘ انسانی تہذیب نے ان رشتوں تک پہنچنے کےلئے لاکھوں سال پیدل سفر کیا اور یہ پھر انسان کو یہ سمجھانے میں کامیاب ہوئی‘ خونی رشتے پتھر کی لکیر ہوتے ہیں اور انسان کو پتھر کی یہ لکیریں چھیڑنی نہیںچاہئیں‘ انسان کا دوسرا نتیجہ آئین اور تیسرا قانون ہے‘ ہم لاکھوں کروڑوں سال کے سفر کے بعد اس نتیجے پر پہنچے ہیں‘ آئین کے بغیر ریاست اور قانون کے بغیر معاشرہ نہیں ہو سکتا‘ قانون معاشرے کو بناتا ہے اور آئین ریاست کی بنیاد ہے‘ زمین کا کوئی ٹکڑا اس وقت تک صرف زمین کا ٹکڑا رہے گا‘ وہ ریاست نہیں کہلائے گا جب تک اس کا کوئی آئین نہیں بن جاتا اور لوگوں کا ہجوم اس وقت تک ہجوم رہے گا‘ معاشرہ نہیں بنے گا جب تک وہ اپنے لئے قانون نہیں بنا لیتا‘ پیچھے رہ گیا انصاف! انصاف رشتے‘ آئین اور قانون تین پائیوں کا تخت ہوتا ہے‘ دنیا کی جس مملکت میں رشتے‘ آئین اور قانون نہ ہوں اس مملکت میں انصاف نہیں ہوتا‘ دنیا کی جس مملکت میں یہ تینوں پائے کمزور ہوں‘ اس میں انصاف بھی کمزور ہوتا ہے اور جس مملکت میں یہ تین پائے مضبوط ہوں‘ اس میں انصاف کا عمل‘ انصاف کا تخت بھی توانا ہوتا ہے‘ آپ مجھے دنیا کا کوئی ایسا ملک دکھائیں جس میں آئین اور قانون نہیں لیکن وہاں انصاف موجود ہے یا آپ مجھے دنیا کا کوئی ایسا ملک دکھا دیں جس میں آئین اور قانون کمزور ہیں لیکن انصاف کا نظام مضبوط ہے‘ آپ کو 245 ملکوں میں کوئی ایسا ملک نہیں ملے گا‘ اب سوال یہ ہے رشتوں کو رشتہ‘ آئین کو آئین اور قانون کو قانونی شکل کیسے ملتی ہے؟ نکاح رشتے کو رشتہ‘ آئینی ادارے آئین کو آئین اور قانون نافذ کرنے والے ادارے قانون کو قانون بناتے ہیں‘ ملک‘ ریاست یا معاشرے میں نکاح کا نظام جتنا واضح اور ٹھوس ہو گا‘ رشتے بھی اتنے ہی ٹھوس اور واضح ہوں گے‘ آئینی ادارے جس قدر صاف‘ شفاف اور غیر متنازعہ ہوں گے‘ ملک کا الیکشن کمیشن جتنا معزز‘ شفاف اور آزاد ہو گا‘ پارلیمنٹ جتنی خود مختار‘ طاقتور اور صاف ہو گی‘ احتساب کے ادارے جس قدر معتبر اور باوقار ہوں گے اور چیف جسٹس‘ افواج کے سربراہان‘ صدر اور گورنرز جس قدر اپ رائٹ اور بے داغ ہوں گے‘ ملک کا آئین بھی اتنا ہی صاف‘ معزز اور قابل احترام ہو گا اور ملک کے قانونی ادارے بھی جتنے مضبوط‘ بے لچک اور خودمختار ہوں گے‘ پولیس مجرم کی شکل نہیں جرم دیکھے گی‘ ایف آئی اے ملزم کا عہدہ نہیں دیکھے گی‘ جرم دیکھے گی اور احتساب کے اہلکار بھی صرف قاعدے کے مطابق کام کریں گے‘ حکومتوں کی مصلحت اور آقاﺅں کی منشاءکی تلوار نہیں اٹھائیں گے تو قانون بھی مضبوط ہو جائے گا اور جب رشتے‘ آئینی ادارے اور قانونی محکمے مضبوط ہوں گے تو ملک میں انصاف بھی آ جائے گا‘ دنیا کی کوئی طاقت اسے آنے سے نہیں روک سکے گی۔ ہمیں یہ ماننا ہو گا‘ ہمارے ملک کے آئینی اور قانونی ادارے کمزور بھی ہیں اور یہ حکومتوں اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے غلام بھی ہیں اور ہمیں یہ بھی ماننا ہوگا ‘ہم جب تک ان اداروں کی اصلاح نہیں کریں گے‘ ملک میں اس وقت تک حقیقی تبدیلی نہیں آئے گی‘ اب سوال یہ ہے ان اداروں کی اصلاح کون کرے گا؟ ملک کے آئینی‘ قانونی اور سماجی اداروں کی ”اوورہالنگ“ کس کی ذمہ داری ہے اور یہ تمام اصلاحات ہوں گی کہاں؟ یہ اصلاحات بہرحال پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں میں ہوں گی اور یہ ہمارے سیاستدانوں ہی کو کرنی پڑیں گی‘ دنیا میں دس ہزار سال کی روایات توڑ کر نئی روایات قائم کرنا مشکل لیکن ان کی اصلاح کرنا آسان ہوتا ہے لیکن ہم مدت سے آسان کی بجائے مشکل کام کرنا چاہ رہے ہیں‘ ہم نے پولیس کا ڈیڑھ سو سال پرانا ادارہ توڑ کر نیا بنانے کی کوشش کی‘ ہم ناکام ہو گئے‘ ہم نے ڈی سی سسٹم ختم کیا‘ ہم نیا نہ بنا سکے‘ ہم اب الیکشن کمیشن کے پیچھے پڑ گئے ہیں‘ کیا ہم اس میں کامیاب ہو جائیں گے‘ ہو سکتا ہے ہم اس بار کامیاب ہو جائیں لیکن ہمیں ہتھوڑے چلانے سے قبل موجودہ سسٹم کا جائزہ لے لینا چاہیے‘ الیکشن کمیشن چار ارکان اور چیف الیکشن کمشنر پر مشتمل ہوتا ہے‘ اٹھارہویں ترمیم سے قبل چیف الیکشن کمشنر کا تقرر صدر کرتے تھے جبکہ ارکان کا فیصلہ چیف الیکشن کمشنر کی صوابدید پر ہوتا تھا‘ چیف نشست خالی ہونے پر ہائی کورٹس کے چیف جسٹس صاحبان سے ججز کی فہرست منگواتے تھے‘ اس میں سے کوئی جج منتخب کرتے تھے‘ اس کا نام صدر کو بھجوا دیتے تھے اور صدر نوٹیفکیشن جاری کر دیتے تھے‘ 8 اپریل 2010ءکو اٹھارہویں ترمیم ہوئی اور یہ سسٹم بدل دیا گیا‘ اب چیف الیکشن کمشنر اور چاروں ارکان کا فیصلہ وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر مل کر کرتے ہیں‘ یہ اگر کسی نام پر متفق نہ ہوں تو یہ ایشو بارہ رکنی پارلیمانی کمیٹی کے پاس چلا جاتا ہے‘ کمیٹی میں پارلیمنٹ میں موجود ارکان کی تعداد کے مطابق تمام سیاسی جماعتوں کی نمائندگی ہے‘ چیئرمین کا فیصلہ ارکان کرتے ہیں‘ یہ کمیٹی الیکشن کمیشن کے چیف اور ارکان کا فیصلہ کرتی ہے‘ الیکشن کمیشن کے ارکان کا تقرر پانچ سال کےلئے ہوتا ہے‘ انہیں کمیشن سے فارغ نہیں کیا جا سکتا‘ حکومت یا کوئی جماعت انہیں فارغ کرنا چاہے تو اس کے صرف دو طریقے ہیں‘ یہ ارکان خود مستعفی ہو جائیں یا پھر ان کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں باقاعدہ ریفرنس دائر کیا جائے‘ یہ کونسل رکن کو فارغ کرنے کےلئے وہی طریقہ اختیار کرے گی جو سپریم کورٹ کے ججوں کو نکالنے کےلئے کیا جاتا ہے‘ یہ قانونی اور آئینی طریقہ ہے‘ آپ کچھ بھی کر لیں‘ آپ دھرنا دے لیں یا بھوک ہڑتال پر چلے جائیں‘ آئین آئین ہی رہے گا‘ قانون قانون ہی رہے گا‘ آپ اسے دھرنے کے ذریعے نہیں بدل سکیں گے‘ ہم اب یہ فرض کر لیتے ہیں‘ الیکشن کمیشن کے ارکان عمران خان کے دھرنے سے گھبرا کر مستعفی ہو جاتے ہیں‘ اس کے بعد کیا ہو گا؟ اس کے بعد ایک بار پھر وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر سید خورشید نئے ارکان کا فیصلہ کریں گے‘ یہ دونوں اگر فیصلہ نہیں کرتے تو فیصلہ پارلیمانی کمیٹی میں جائے گا اور وہاں پی ٹی آئی کے پاس صرف ایک یا دونشستیں ہوں گی چنانچہ وہاں بھی فیصلہ وہ لوگ کریں گے جنہیں آپ دو سال سے لتاڑ رہے ہیں اور وہ فیصلہ کیا ہوگا اس کا اندازہ آپ آج ہی لگا سکتے ہیں لہٰذا پھر اس ساری جدوجہد کا ایک اور ناکامی کے سوا کچھ نتیجہ نہیں نکلے گا‘ آپ پھر اپنے آپ اور اپنے کارکنوں کو نئی مصیبت میں ڈالنے کی بجائے وہ سیدھا اور سادہ طریقہ استعمال کیوں نہیں کرتے جس سے آپ کی آرزو بھی پوری ہو جائے اور سسٹم بھی ٹھیک ہو جائے‘ پاکستان پیپلز پارٹی اس ایشو پر آپ کی مدد کےلئے تیار ہے‘ شاہ محمود قریشی اور خورشید شاہ کے درمیان ملاقات بھی ہو چکی ہے‘ آپ قومی اسمبلی میں تحریک پیش کریں اور یہ طریقہ کار بدل دیں‘ آپ یہ معاملہ اصلاحاتی کمیٹی میں بھی لے جا سکتے ہیں‘ آپ وہاں الیکشن کمیشن کے ارکان کی تقرری اور برخاستگی دونوں کا نیا طریقہ کار وضع کر لیں‘ ہمارے پاس جب قانونی اور آئینی طریقہ موجود ہے تو ہم اس پر عمل کیوں نہیں کرتے؟ عمران خان پورا سال سڑکوں پر رہے‘ کیا حاصل ہوا؟ فیصلہ بہرحال آئینی جوڈیشل کمیشن اور آئینی ٹریبونل ہی نے کیا چنانچہ یہ دھرنا بھی پچھلے دھرنے کی طرح ناکام ہو جائے گا‘ اگر ایسا نہ ہوا اور الیکشن کمیشن کے چاروں ارکان مستعفی ہو گئے تو ملک میں ایک نیا آئینی بحران پیدا ہو جائے گا‘ الیکشن کمیشن ٹوٹ جائے گا‘ بلدیاتی الیکشن اور ضمنی الیکشن دونوں ملتوی ہو جائیں گے اور الیکشن کمیشن کے نئے ارکان کی تقرری کےلئے سیاسی لڑائی شروع ہو جائے گی‘ حکومت آئین کے دائرے میں رہ کر تقرری کی پابند ہے اور یہ پابندی عمران خان کےلئے قابل قبول نہیں ہوگی‘ یہ اپنی مرضی کرانا چاہیں گے‘ حکومت نے اگر اس وقت ”انجوائے“ کرنے کا فیصلہ کر لیا تو یہ عمران خان کی بات مان کر پی ٹی آئی کو شادیانے بجانے کا موقع دے دے گی‘ نئے ارکان منتخب ہوں گے لیکن ان کا انتخاب سپریم کورٹ میں چیلنج ہو جائے گا اور یوں وہ ادارہ جس نے ملک کو طاقتور ترین آئینی ادارے دینے ہیں وہ معطل ہو کر رہ جائے گا اور اگر عمران خان کا مقصد یہ ہے تو پھر یہ مقصدجلد پورا ہو جائے گا اور یہ اگر واقعی ملک کو جعلی الیکشنز اور جعلی اسمبلیوں سے بچانا چاہتے ہیں تو پھر انہیں آئینی طریقہ اختیار کرنا چاہیے‘ ہمارے پاس جب دروازہ موجود ہے تو پھر ہم کھمبے کے ذریعے گھر میں داخل ہونے کی کوشش کیوں کر رہے ہیں؟ ہم اپنے ہی گھر کی کھڑکی توڑ کر گھر میں داخل کیوں ہونا چاہتے ہیں؟ میری عمران خان سے درخواست ہے‘ آپ سسٹم کے اندر رہ کر سسٹم تبدیل کریں‘ یہ ملک رہنے کے قابل بن جائے گا ورنہ دوسری صورت میں آپ کھمبے سے گر کر فارغ ہو جائیں گے اور یہ نظام اور اس نظام کی بدبو جوں کی توں رہ جائے گی‘ ملک تبدیلی کے ایک اور موقع سے محروم ہو جائے گا۔