خاشقجی کی گمشدگی : سعودی عرب پر بیرونی ممالک کے دباؤ میں اضافہ

  جمعہ‬‮ 12 اکتوبر‬‮ 2018  |  11:30

لندن/انقرہ /واشنگٹن(انٹرنیشنل ڈیسک)امریکہ، برطانیہ اور ترکی نے سعودی عرب پر اس بات کی وضاحت کے لیے دباؤ بڑھا دیا ہے کہ معروف صحافی جمال خاشقجی اس کے قونصل خانے کی حدود سے کیسے لاپتہ ہو گئے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق امریکہ قانون سازوں نے خبردار کیا کہ اس سے دونوں ملکوں کے فوجی تعلقات مخدوش ہو سکتے ہیں،تاہم صدر ٹرمپ نے کانگریس سے کہا۔وہ سعودی عرب سے دفاعی تعلقات خطرے میں نہیں ڈال سکتے کیوں کہ اس سے امریکیوں کی نوکریاں ختم ہو سکتی ہیں۔ترک صدرنے کہاکہ خاشقجی کو ایک 15 رکنی قاتل ٹیم نے قتل کر دیا ہے جو

دو جہازوں میں استنبول پہنچی تھی۔ تاہم ریاض کے مطابق خاشقجی اس کے قونصل خانے سے چلے گئے تھے۔ترک صدر رجب طیب اردوغان نے سعودی حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ خاشقجی کی روانگی کی ویڈیو پیش کریں۔انھوں نے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہاکہ کیا یہ ممکن ہے کہ قونصل خانے میں، سفارت خانے میں کیمرا سسٹم نصب نہ ہو؟ اگر کوئی پرندہ اڑتا ہے یا مچھر نمودار ہوتا ہے تو وہ بھی سسٹم میں آ جاتا ہے۔ سعودی عرب کے پاس جدید ترین سسٹم ہیں۔ادھر برطانیہ کے خارجہ سیکریٹری جیرمی ہنٹ نے بتایا کہ اگر یہ الزامات درست ہیں تو اس کے سنگین نتائج نکلیں گے کیوں کہ ہماری دوستی اور شراکت داری مشترکہ اقدار پر مبنی ہے۔اقوامِ متحدہ کے حکام نے بھی خاشقجی کی گمشدگی پر تشویش ظاہر کی ہے۔ سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرش کے ترجمان سٹیفن ڈوڑاریک نے کہاکہ اقوامِ متحدہ کے حکام نے اس بارے میں سعودی حکام سے استفسار کیا ہے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں