یورپی یونین کی مشترکہ فوج ،عالمی منظر نامہ تیزی سے تبدیلی کی جانب گامزن،بڑا قدم اُٹھالیاگیا

  ہفتہ‬‮ 27 اگست‬‮ 2016  |  21:23

وارسا(این این آئی)متعدد مشرقی یورپی ملکوں نے جرمنی کے ساتھ اپنے مذاکرات میں ایک مشترکہ یورپی فوج کے قیام کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ مطالبہ وارسا میں ایک یورپی اجلاس میں سامنے آیا، جس میں بریگزٹ کے بعد کے یورپی مستقبل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔میڈیارپورٹس کے مطابق اس مشاورتی اجلاس میں شریک یورپی یونین کے رکن ملکوں کے رہنماؤں نے زور دیا کہ وقت آ گیا کہ یہ یورپی بلاک اپنی ایک مشترکہ فوج بھی تشکیل دے۔اس اجلاس میں چیک جمہوریہ، جرمنی، پولینڈ اور سلوواکیہ کے لیڈروں کے ساتھ اپنی بات چیت کے بعد ہنگری کے دائیں بازو کی


حکمران سیاسی جماعت سے تعلق رکھنے والے وزیر اعظم وکٹور اوربان نے کہاکہ ہمیں سلامتی امور کو لازمی طور پر اولین ترجیح دینا ہو گی۔ اس کام کا آغاز ایک مشترکہ یورپی فوج کے قیام کے ساتھ کیا جا سکتا ہے۔وارسا میں مشاورت کے بعد چیک جمہوریہ کے بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے وزیر اعظم سوبوتکا نے کہاکہ ہمیں اب اس بارے میں اپنی ایک اجتماعی بحث شروع کر دینا چاہیے کہ آیا یورپ کو اپنی ایک مشترکہ فوج بھی قائم کرنا چاہیے۔اس بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے بھی یونین کے رکن ملکوں کے مابین سلامتی کے شعبے میں زیادہ تعاون اور بہتر نتائج کی حمایت تو کی تاہم انہوں نے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ یورپ کو اس بارے میں بھی احتیاط سے کام لینا ہو گا کہ ایسے مشترکہ سکیورٹی منصوبوں کو عملی شکل کس حد تک اور کس طرح دی جاتی ہے۔میرکل نے کہاکہ سکیورٹی ایک کلیدی موضوع ہے۔ ہم یقیناًسلامتی اور دفاع کے شعبے میں مل کر مزید بہت کچھ کر سکتے ہیں۔‘‘ساتھ ہی تاہم جرمن سربراہ حکومت نے تنبیہ کرتے ہوئے یہ بھی کہاکہ بریگزٹ (برطانیہ کا یورپی یونین سے آئندہ اخراج) صرف ایک واقعہ ہی نہیں ہو گا بلکہ یہ یورپی یونین کی تاریخ میں ایک بہت فیصلہ کن موڑ بھی ہو گا۔ اسی لیے ہمیں اپنے ردعمل میں بھی انتہائی احتیاط سے کام لینا ہو گا۔


موضوعات: