card

شناختی کارڈ کی تجدید کرانے دفتر جانیوالے شخص نے جب اپنا ریکارڈ دیکھا تو اس کے پائوں سے زمین نکل گئی

  منگل‬‮ 10 جنوری‬‮ 2017  |  6:00
قاہرہ(این این آئی)مصر میں ایک شخص اپنے شناختی کارڈ کی تجدید کے لیے گیا تو متعلقہ حکام نے تجدید سے انکار کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ وہ شخص ایک سال قبل فوت ہو چکا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق یہ واقعہ مصر کے جنوبی صوبے المنیا کے ایک گاؤں "اسمنت" کے رہائشی مصطفی عبداللطیف کے ساتھ پیش آیا۔ سات برس گزر جانے پر شناختی کارڈ کی میعاد ختم ہونے کے سبب مصطفی اپنے علاقے میں محکمہ کے پاس گیا تاکہ اپنے کارڈ کی تجدید کرا سکے۔ تاہم وہاں موجود اہل کاروں نے یہ کہہ کر اس کے کارڈ کی تجدید سے

(خبر جا ری ہے)

انکار کر دیا کہ ان کے ریکارڈ کے مطابق وہ اس دنیا سے جا چکا ہے۔ مصطفی یہ سن کر غصے سے بپھر گیا اور اس نے اہل کار کو بتایا کہ وہ اس وقت زندہ سلامت کھڑا ہے ایسے میں اسے کس طرح متوفی شمار کر لیا گیا ؟مصطفی نے اہل کار سے مطالبہ کیا کہ وہ مصطفی کا ڈیتھ سرٹفکیٹ جاری کرے تاکہ اہل کار کی بات کی تصدیق ہو جائے۔ تاہم ریکارڈ کی جانچ پر معلوم ہوا کہ اندراج کی گئی معلومات میں غلطی ہو گئی۔ ڈیتھ سرٹفکیٹ پر 25 نومبر 2015 کی تاریخ درج تھی اور

(خبر جا ری ہے)

اس میں متوفی شخص کو رنڈوا لکھا گیا تھا جب کہ مصطفی شادی شدہ اور پانچ بچوں کا باپ ہے۔ اس کے علاوہ مذکورہ فوتگی کا واقعہ اسماعیلیہ کے علاقے میں ہوا تھا جہاں مصطفی زندگی میں کبھی نہیں گیا۔مصطفی نے بتایا کہ متعلقہ اہل کار اس کی بات سے قائل نہ ہوا جس پر مصطفی اپنی مدد کے لیے انسانی حقوق کے ایک مرکز چلا گیا۔مصطفی کے مطابق ذمے دار سرکاری اداروں نے اس سے ہر وہ چیز طلب کی جس سے یہ ثابت ہو کہ وہ ہی مصطفی عبداللطیف علی عبدالرحمن ہے۔ مصطفی نے کامیابی کے ساتھ تمام تر مطلوبہ کاغذات پیش کر دیے۔ المنیا میں سِول اسٹیٹَس کے محکمے نے معاملے کو اسماعیلیہ بھیج دیا جہاں سے فوری جواب موصول ہوا کہ "ریکارڈ میں درج معلومات کو اسی طرح باقی رکھا جائے اور مدعی پر لازم ہے کہ وہ عدلیہ سے رجوع کرے۔اس صورت حال پر مصطفی حیران رہ گیا۔ اب اس نے باور کرایا ہے کہ وہ خود کو زندہ ثابت کرنے کے لیے تمام ذمے داران کے پاس جائے گا۔

قاہرہ(این این آئی)مصر میں ایک شخص اپنے شناختی کارڈ کی تجدید کے لیے گیا تو متعلقہ حکام نے تجدید سے انکار کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ وہ شخص ایک سال قبل فوت ہو چکا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق یہ واقعہ مصر کے جنوبی صوبے المنیا کے ایک گاؤں “اسمنت” کے رہائشی مصطفی عبداللطیف کے ساتھ پیش آیا۔ سات برس گزر جانے پر شناختی کارڈ کی میعاد ختم ہونے کے سبب مصطفی اپنے علاقے میں محکمہ کے پاس گیا تاکہ اپنے کارڈ کی تجدید کرا سکے۔ تاہم وہاں موجود اہل کاروں نے یہ کہہ کر اس کے کارڈ کی تجدید سے انکار کر دیا کہ ان کے ریکارڈ کے مطابق وہ اس دنیا سے جا چکا ہے۔
مصطفی یہ سن کر غصے سے بپھر گیا اور اس نے اہل کار کو بتایا کہ وہ اس وقت زندہ سلامت کھڑا ہے ایسے میں اسے کس طرح متوفی شمار کر لیا گیا ؟مصطفی نے اہل کار سے مطالبہ کیا کہ وہ مصطفی کا ڈیتھ سرٹفکیٹ جاری کرے تاکہ اہل کار کی بات کی تصدیق ہو جائے۔ تاہم ریکارڈ کی جانچ پر معلوم ہوا کہ اندراج کی گئی معلومات میں غلطی ہو گئی۔ ڈیتھ سرٹفکیٹ پر 25 نومبر 2015 کی تاریخ درج تھی اور اس میں متوفی شخص کو رنڈوا لکھا گیا تھا جب کہ مصطفی شادی شدہ اور پانچ بچوں کا باپ ہے۔
اس کے علاوہ مذکورہ فوتگی کا واقعہ اسماعیلیہ کے علاقے میں ہوا تھا جہاں مصطفی زندگی میں کبھی نہیں گیا۔مصطفی نے بتایا کہ متعلقہ اہل کار اس کی بات سے قائل نہ ہوا جس پر مصطفی اپنی مدد کے لیے انسانی حقوق کے ایک مرکز چلا گیا۔مصطفی کے مطابق ذمے دار سرکاری اداروں نے اس سے ہر وہ چیز طلب کی جس سے یہ ثابت ہو کہ وہ ہی مصطفی عبداللطیف علی عبدالرحمن ہے۔ مصطفی نے کامیابی کے ساتھ تمام تر مطلوبہ کاغذات پیش کر دیے۔
المنیا میں سِول اسٹیٹَس کے محکمے نے معاملے کو اسماعیلیہ بھیج دیا جہاں سے فوری جواب موصول ہوا کہ “ریکارڈ میں درج معلومات کو اسی طرح باقی رکھا جائے اور مدعی پر لازم ہے کہ وہ عدلیہ سے رجوع کرے۔اس صورت حال پر مصطفی حیران رہ گیا۔ اب اس نے باور کرایا ہے کہ وہ خود کو زندہ ثابت کرنے کے لیے تمام ذمے داران کے پاس جائے گا۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

loading...

روزانہ کی دس بڑی خبریں بذریعہ ای میل حاصل کریں

بذریعہ ای میل آپ کو دس بڑی خبروں کے ساتھ ساتھ کرنسی اور سونے کے ریٹس بھی بھیجے جائیں گے۔