طبی ماہرین کا بڑھاپے سے بچانے والی دوا کی تیاری کا دعویٰ

  جمعرات‬‮ 10 جنوری‬‮ 2019  |  9:30
امریکا(مانیٹرنگ ڈیسک) ویسے تو عمر بڑھنے سے جسم میں آنے والی تبدیلیوں کی روک تھام لگ بھگ ناممکن ہے مگر سائنسدانوں کے خیال میں وہ بڑھاپے کی آمد کو روک سکتے ہیں۔ رحقیقت وہ یہ کام ایک دوا کے ذریعے کرنا چاہتے ہیں اور اس میں انہوں نے کافی حد تککامیابی کا دعویٰ بھی کیا ہے۔ سائنسدانوں نے مختلف ادویات کے امتزاج سے ایسی دوا کو دریافت کیا ہے جو کہ جسم میں ایسے خلیات کو صاف کرتا ہے جو کہ بڑھاپے کے آثار کا باعث بنتے ہیں۔ یہ دعویٰ امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا۔ مایو کلینک، ویک فوریسٹ باپسٹ ہاسپٹل کی مشترکہ تحقیق کے دوران لوگوں کو کینسر کے مریضوں کو استعمال کرائی جانے والی دوا اور نباتاتی کیورسیٹین سپلیمنٹ کا استعمال کرایا گیا۔ یہ جز پیاز اور سبز چائے میں پایا جاتا ہے اور دیکھا گیا کہ یہ ان خلیات پر کس طرح اثرانداز ہوتا ہے۔ تین ہفتے میں ہی ان افراد میں مثبت تبدیلیاں دیکھنے میں آئیں اور سائنسدانوں کے خیال میں اس طرح عمر بڑھنے سے جسم پر طاری ہونے والے اثرات اور امراض کی روک تھام ممکن ہوسکتی ہے۔ محققین کے مطابق یہ خلیات کم از کم 20 سنگین امراض کا خطرہ بڑھاتے ہیں مگر اس طریقہ کار سے ان سے بچنا ممکن ہوسکے گا۔ اس کاک ٹیل دوا کی پہلی آزمائش چوہوں پر کی گئی تھی اور اب انسانوں پر اس کا کامیاب تجربہ کیا گیا ہے۔ بزرگ افراد کو اس دوا کا استعمال کرایا گیا اور نتائج سے معلوم ہوا کہ اس دوا کے استعمال سے چہل قدمی کے ٹیسٹ میں ان کی کارکردگی نمایاں حد تک بہتر ہوئی جبکہ وہ کرسی سے 2 سیکنڈ زیادہ تیزی سے کھڑے ہونے لگے۔ محققین نے اس دوا کے عام استعمال سے پہلے مزید تحقیق کی ضرورت پر زور دیا۔ اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے دی لانسیٹ میں شائع ہوئے۔

موضوعات:

loading...