جمعہ‬‮ ، 11 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان ٹائیفائیڈ سے بچاؤ کی ویکسین مہم چلانے والا پہلا ملک بن گیا

datetime 26  اپریل‬‮  2018 |

اسلام آباد (این این آئی)پاکستان دنیا کا پہلا ملک بن گیا ہے جس نے بچوں میں ٹائیفائیڈ سے بچاؤ کی ویکسین مہم کا اعلان کیا ہے تاکہ اس وبا پر قابو پایا جاسکے جس پر اب دوا کا اثر ختم ہوتا جارہا ہے۔برطانوی روزنامے ٹیلگراف کی ایک رپورٹ کے مطابق یہ نئی ویکسین بچوں کی معمول کی ویکسینیشن شیڈول میں شامل کی جائے گی اور اس کی وجہ ٹائیفائیڈ کے ایسے جراثیموں کا پھیلنا ہے جو کہ 5 مختلف اقسام کی اینٹی بایوٹیکس ادویات کے خلاف مزاحمت کرتے ہیں۔

ٹائیفائیڈ کی یہ قسم نومبر 2016 میں سب سے پہلے حیدرآباد میں دریافت ہوئی تھی اور پھر ملک بھر میں پھیل گئی جس کے نتیجے میں 4 افراد ہلاک اور 800 بیمار ہوئے چونکہ ٹائیفائیڈ خوراک اور پانی کے ذریعے تیزی سے پھیلتا ہے خصوصاً ایسے مقامات جہاں نکاسی آب کا نظام ناقص ہو، تو طبی ماہرین کو خدشہ تھا کہ اس بیماری کے وہ جراثیم جن پر دوائیں بے اثر ثابت ہورہی ہیں، بڑے پیمانے پر پاکستان میں لوگوں کو متاثر کرسکتے ہیں بلکہ دیگر ممالک تک بھی پھیل سکتے ہیں۔اینٹی بایوٹیکس ادویات کے خلاف جراثیموں کی مزاحمت پسماندہ اور ترقی پذیر ممالک جیسے پاکستان اور بھارت میں بڑھتا ہوا مسئلہ ہے۔حکومت پاکستان نے اس ٹائپ بار۔ ٹی سی وی ویکسین کو استعمال کرنے کیلئے فنڈز کے حصول کا فیصلہ کیا ہے جس کی منظوری عالمی ادارہ صحت نے رواں سال کے شروع میں دی تھی جو ویکسین الائنس جی اے وی آئی کی جانب سے سامنے آئی۔رواں ماہ کے شروع میں جی اے وی آئی نے اعلان کیا تھا کہ وہ اب تک ترقی پذیر ممالک کیلئے 8 کروڑ 50 لاکھ ڈالرز کا فنڈ اکھٹا کرچکی ہے جس کا مقصد وہاں ویکسین کو متعارف کرانا ہے۔طبی ماہرین کے مطابق یہ ٹائیفائیڈ ویکسین سابقہ ورڑنز سے زیادہ موثر ہے اور 6 ماہ تک کی عمر کے بچوں کو دی جاسکتی ہے۔انہوں نے کہاکہ ٹائیفائیڈ ویکسین ہمارے بچوں کے اندر اس مرض کے خلاف دفاعی صلاحیت پیدا کرنے کے لیے ایک اور قدم ہے۔

کراچی کی آغا خان یونیورسٹی کے ماہرین نے سب سے پہلے ٹائیفائیڈ کے ادویات کے خلاف مزاحمت کرنے والی قسم کو شناخت کیا تھا، جس کا تجزیہ برطانیہ میں بھی کیا گیا۔اس نئی ویکسین کو رواں سال جنوری میں حیدرآباد میں ایک ہنگامی مہم کے دوران بھی استعمال کیا جاچکا ہے۔آغا خان یونیورسٹی کی پیڈیا ٹرکس کی ایسوسی ایٹ پروفیسر فرح قمر کے مطابق ویکسی نیشن ہی اس سپر بگ کے خلاف موثر آپشن ہے اور چونکہ یہ ویکسین محفوظ ثابت ہوچکی ہے تو ہمیں اپنی کوششوں کو بڑھا کر اسے پاکستان کے ہر بچے تک توسیع دینا چاہیے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…