لندن (این این آئی)برطانیہ میں مظاہرین پاکستانی انڈر 19 کرکٹ ٹیم کو تارکینِ وطن سمجھنے کی غلطی کر بیٹھے،
ان کے ہوٹل کے دروازے کھٹکھٹا دئیے تاہم کھلاڑیوں نے ذمے داری کا مظاہرہ کیا اور صورتِ حال کو کشیدہ نہیں ہونے دیا۔برطانوی میڈیا رپورٹس کے مطابق مظاہرین نے پورٹسماتھ کے ہوٹل کے باہر جمع ہو کر پاکستانی کرکٹرز کو احتجاج کا ہدف بنا لیا،ری فارم پارٹی کے کائونٹی کونسلر جارج میڈوک کے مطابق شام تقریباً 30سے 40 افراد ہوٹل کے باہر جمع ہوئے۔انہوں نے سوشل میڈیا پوسٹ میں لوگوں سے ہوٹل نہ آنے کی اپیل کرتے ہوئے لکھا کہ ہوٹل کے عملے نے مجھے ثبوت دکھائے ہیں کہ وہاں قیام کرنے والے افراد دورے پر موجود پاکستانی انڈر 19قومی کرکٹ ٹیم کے ارکان ہیں۔ہمپشائر پولیس نے اس واقعہ کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اطلاع موصول ہونے پر اہلکاروں نے ہوٹل پہنچ کر مظاہرین سے بات کی اور انہیں سمجھایا کہ ان کے خدشات درست نہیں ہیں۔انہوں نے بتایا کہ اہلکاروں کو کسی جرم کے ارتکاب کے شواہد نہیں ملے جبکہ شام ساڑھے 6 بجے ہوٹل کے باہر جمع ہونے والا مظاہرین کا گروپ رات 9 بجے منتشر ہو گیا۔دوسری جانب پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف آپریٹنگ افسر سمیر سید نے بتایا کہ مظاہرین میں سے ایک گروپ اس منزل تک پہنچ گیا
جہاں پاکستانی ٹیم ٹھہری ہوئی تھی اور ان کے دروازے کھٹکھٹائے، تاہم کھلاڑیوں نے ذمے داری کا مظاہرہ کیا اور صورتِ حال کو کشیدہ ہونے نہیں دیا،سمیر سید کے مطابق پاکستانی ٹیم نے اگلے روز اپنا طے شدہ میچ بھی کھیلا۔بی بی سی کے مطابق انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ نے پاکستان انڈر 19 اسکواڈ کی خیریت دریافت کی ہے اور دورے کے باقی حصے کیلئے سیکیورٹی انتظامات کا جائزہ لے رہا ہے۔واضح رہے کہ یہ واقعہ اس واقعے کے 2 روز بعد پیش آیا جب ایک کشتی میں سوار تقریباً 120تارکینِ وطن کو ساحل پر لائے جانے کے بعد سینکڑوں مظاہرین نے شہر کی سڑکیں بند کر دی تھیں۔



















































