ماں سے وعدہ کر کے آیا تھا کہ میری آج آخری لڑائی ہو گی ناقابل شکست خبیب نے رنگ کی آخری فائٹ جیت کر ریکارڈ بنا دیا

  اتوار‬‮ 25 اکتوبر‬‮ 2020  |  15:44

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)یو ایف سی چیمپئن شپ کا معرکہ مارنے والے خبیب نارموگو دو نے دبئی میں اپنے دفاع کا میدان مارتے ہوئے ٹائٹل جیتنے کے ساتھ ہی  ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا۔روسی نژاد باکسر نے اپنے شاندار کیرئر کا اختتام بھی بھرپور ناز اور کامیابیکے ساتھ کیا کیونکہ اگر خبیب کے سکور بورڈ یا کامیابی بورڈ کی طرف دیکھا جائے تو وہ 29-0ہے جو کہ ایک شاندار ریکارڈ ہے۔اپنے والد کی ریٹائرمنٹ کے بعد خبیب نے سٹیل رنگ میں قدم رکھا تھااور اپنے والد کے پیشے کی لاج رکھتے ہوئے اپنا مکا ہمیشہ بلند رکھا۔خبیب آج اپنے آخری معرکے


میں بھی اسی قدر چست نظر آیا کہ جتنا وہ یو ایف سی254 میں تھا۔ناقابل شکست خبیب نے آخری مقابلے میں اپنے حریف جسٹن کو شکست دی۔رنگ میں اترتے ہوئے پہلی فرصت میں خبیب نے جبڑوں اور باڈی پر تابڑ توڑ حملے کیے اور اپنے حریف کو پچھاڑ کر رکھ دیا مگر دوسرے رائونڈ میں اس نے اپنی حکمت عملی بدلتے ہوئے اسے نیچے گرایااور اس کی سانس روک دینے جیسا کام کیا۔اس کے بعد جسٹن کی ہمت جواب دے گئی اور وہ مقابلے میں ناک آئوٹ ہو گیا۔پنڈال شور سے گونج اٹھا مگر خبیب کی آنکھوں سے خوشی اور کامیابی کے آنسو کی لڑی چھلک پڑی۔اس کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے جسٹن گویا ہوئے الحمداللہ یہ میریآخری فائٹ تھی۔یہ نہیں ہو سکتا کہ میں کبھی اپنے والد کے بغیر اب یہاں واپس آئوں۔جب یو ایف سی نے مجھے جسٹن کے ساتھ مقابلے کے لیے کال کیا تو میں نے اپنی والدہ سے تین دن تک بات کی۔مگر وہ اس بات پر رضا مند ہونے کو ہی نہیں آ رہی تھی کہ میں مقابلے کے لیے اپنےوالد کے بغیر اکیلا یہاں آئوں۔لہذا میں نے ان سے وعدہ کیا کہ یہ میرے کیرئیر کی آخری فائٹ ہو گی۔اب چونکہ میں وعدہ کر چکا ہوں اس لیے مجھے ہر صورت نبھانا پڑے گا۔لہذا یہاں یہ میری آخری فائٹ تھی۔یوں 32سال کی عمر میں ایک بہترین فائٹر رنگ سے ریٹائرمنٹ لے کر آ گیاہوں۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

بڑے چودھری صاحب

انیس سو ساٹھ کی دہائی میں سیالکوٹ میں ایک نوجوان وکیل تھا‘ امریکا سے پڑھ کر آیا تھا‘ ذہنی اور جسمانی لحاظ سے مضبوط تھا‘ آواز میں گھن گرج بھی تھی اور حس مزاح بھی آسمان کو چھوتی تھی‘ یہ بہت جلد کچہری میں چھا گیا‘ وکیلوں کے ساتھ ساتھ جج بھی اس کے گرویدا ہو گئے‘ اس ....مزید پڑھئے‎

انیس سو ساٹھ کی دہائی میں سیالکوٹ میں ایک نوجوان وکیل تھا‘ امریکا سے پڑھ کر آیا تھا‘ ذہنی اور جسمانی لحاظ سے مضبوط تھا‘ آواز میں گھن گرج بھی تھی اور حس مزاح بھی آسمان کو چھوتی تھی‘ یہ بہت جلد کچہری میں چھا گیا‘ وکیلوں کے ساتھ ساتھ جج بھی اس کے گرویدا ہو گئے‘ اس ....مزید پڑھئے‎