ہفتہ‬‮ ، 20 جون‬‮ 2026 

1976میں ہونیوالا وہ مقابلہ جسے دیکھنے 50ہزار پاکستانی آگئے تھے جاپانی پہلوان نے پھر اسلام قبول کر لیا

datetime 19  دسمبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)جاپان کے انوکی پہلوان کے نام سے شاید ہی کوئی ایسا پاکستانی ہو جو ناواقف ہو۔ انوکی پہلوان اگلے ہفتے پاکستان آنیوالے ہیں اور ان کے دورے کے تمام انتظامات مکمل کر لئے گئے ہیں۔ دنیائے ریسلنگ میں اپنا منفرد اعزاز رکھنے والے انوکی پہلوان کی پاکستان میں شہرت کی وجہ 1976میں ہونیوالا ایک شاندار دنگل تھا۔ پاکستان کے نامور پہلوان اکرم عرف اکی نے

جاپان کے انوکی پہلوان کو چیلنج کیا تھا جس کو قبول کرتے ہوئے جاپانی انوکی پاکستان پہلوان اکی کے چیلنج کو قبول کرتے ہوئے پاکستان دنگل لڑنے پہنچ گئے تھے۔ 1976میں ہوئے اس عظیم الشان تاریخی دنگل کی یادیں تازہ کرتے ہوئے انوکی پہلوان کا کہنا تھا کہ ایک پاکستانی پہلوان کی جانب سے چیلنج کرنا میرے لئے حیران کن تھا۔ انوکی بتاتے ہیں کہ میرے اور اکی پہلوان کے دنگل کو دیکھنے کیلئے تقریباً پچاس ہزار تماشائی آئے تھے۔ میں اور اکی نہ صرف مدمقابل تھے بلکہ ہم دونوں کا تعلق مختلف ممالک اور کلچر سے ہونے کی وجہ سے دنگل دلچسپ اور خطرناک ہو چکا تھا ، دنگل کا ماحول ایسا تھا کہ زندگی اور موت کی جنگ کا منظر لگ رہا تھا۔ آمنے سامنے آنے کے بعد ہم دونوں نے پہلے تو ایک دوسرے کی طاقت کا اندازہ لگانے کی کوشش کی اور پھر یہ دنگل ہر گزرتے لمحے کے ساتھ خطرناک اور دلچسپ ہوتا گیا، 50ہزار تماشائی اور اس وقت دنیائے ریسلنگ کے دو عظیم پہلوان ، یہ ایک ایسا ماحول تھا جو شاید ہی کوئی دیکھنے والااپنی آخری سانس تک بھول سکتا ہو۔ انوکی بتاتے ہیں کہ میری کلائی پر آج بھی اکیّ پہلوان کے دانتوں کا نشان موجود ہے۔ اکی پہلوان نے میری کلائی منہ میں دبوچی تھی جس کو چھڑانے کے لئے میں نے ان کی آنکھوں میں انگلیاں چبھو دیں”۔انوکی کا کہنا ہے کہ اکیّ پہلوان کے ساتھ دنگل میں جیت کبھی بھی ان کے لئے باعث فخر نہیں رہی۔

بعد میں اکیّ پہلوان کے بھتیجے زبیر عرف جھارا سے کشی کے متعلق بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ “یہ دنگل برابر رہا تھا، لیکن میں نے کشتی کے بعد جھارے کا ہاتھ پکڑ کر اوپر اٹھا دیا”۔انوکی آج بھی اکی پہلوان کو یاد کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ وہ کئی سالوں سےاکی پہلوان کی قبر پر فاتحہ کے لئے جانا چاہتےتھےلیکن مصروفیت کی وجہ سے نہ جا سکے۔ انوکی سے متعلق ایک دلچسپ بات یہ بھی ہے

کہ انوکی نے دورہ عراق کے دوران 1990میں کربلا کی زیارت کے دوران اسلام قبول کر لیاتھا۔ انوکی بتاتے ہیں کہ میں نے 1990میں مسجد میں باقاعدہ کلمہ شہادت پڑھ کر اسلام قبول کیا تھا اور دو دنبے صدقے کے طور پردئیے تھے۔ جاپان کے انوکی پہلوان بتاتے ہیں کہ اسلام قبول کرنے کے بعد لوگوں کی جانب سے مجھے اسلامی نام رکھنے کی تجویز دی گئی اور میرا نام محمد علی تجویز کیا گیا

مگر یہ تجویز قبول نہ کرنے کی وجہ یہ تھی کہ اس صدی کے عظیم مسلمان امریکی باکسر محمد علی بھی اس وقت موجود تھے اور ان سے میرا مقابلہ بھی ہو چکا تھا ، دو عالمی شہرت یافتہ شخصیات کا ایک جیسانام کنفیوژن کا باعث ہو سکتا تھا اس لئے ایک اور نام محمد حسین پر اتفاق کر لیا گیا اور میں محمد حسین انوکی ہو گیا۔ انوکی پہلوان اپنے نام کے حوالے سے ایک دلچسپ انکشاف کرتے ہوئے

بتاتے ہیں کہ ان کے نام محمد حسین میں سے ’’حسین‘‘اس وقت کے عراقی صدر صدام حسین سے متاثر ہو کر ان کے نام سے لیا گیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



فلم میں بھی ہارنے سے انکار


یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…