ہفتہ‬‮ ، 29 ‬‮نومبر‬‮ 2025 

آئی پی ایل میچوں کی براڈکاسٹنگ میں تاخیر، بکیز کے وارے نیارے

datetime 29  اپریل‬‮  2015 |

ممبئی (نیوزڈیسک) آئی پی ایل میچز ٹی وی پر دیکھنے والے ناظرین اگرچہ اس غلط فہمی کا شکار رہتے ہیں کہ وہ یہ میچ لائیو دیکھ رہے ہیں تاہم حقیقت میں وہ 12سیکنڈز قبل کا منظر ٹی وی سکرین پر دیکھتے ہیں اور اس صورتحال کا فائدہ بکیز اٹھاسکتے ہیں۔ آئی پی ایل کے نشریاتی حقوق کی مالک کمپنی کا کہنا ہے کہ کیمرے کی آنکھ سے منظر کو مقید کئے جانے کے بعد سنگاپور بھیجا جاتا ہے اور پھر وہاں سے یہ دنیا بھر میں نشر کیا جاتا ہے، اس عمل میں معمولی سی تاخیر تو ہوتی ہے تاہم حقیقت یہ ہے کہ اصولی طور پر یہ تاخیر زیادہ سے زیادہ پانچ سیکنڈز کی ہونی چاہئے لیکن یہ دوگنا سے زیادہ وقت کی ہے، جس کا سٹیڈیم میں موجود پچ سائیڈرز جو بکیز کے کارندے ہوتے ہیں، آسانی سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ دور جدید میں رابطوں کے تیز ترین ذرائع کی موجودگی کے باعث ان پچ سائیڈرز کیلئے ان معلومات کو بکیز تک پہنچانا جو کہ ناظرین تک 12سیکنڈز بعد پہنچیں گی، کچھ مشکل نہیں۔ چند سیکنڈز کے فرق سے بھی معلومات کی وصولی بکیز کو کروڑوں روپے کا فائدہ پہنچا سکتی ہے۔ شبہہ ہے کہ یہ پچ سائیڈرز اب تقریباً ہر میچ میں موجود ہوتے ہیں۔ حالیہ ورلڈ کپ کے دوران متعدد ایسے پچ سائیڈرز کی گرفتاری اس شبہے کو مزید تقویت بھی بخشتی ہے۔ اس کے علاوہ انٹرنیٹ پر ایسی ویب سائٹس بھی موجود ہیں جہاں ایک گیند یا اوور پر جوا لگانے کی پیشکش کی جاتی ہے، نشریاتی تاخیر کا فائدہ اس ویب سائٹ پر جوا کھیلنے کیلئے بھی اٹھایا جاسکتا ہے۔ آئی سی سی جو کہ کرکٹ کو جوئے سے پاک کرنے کیلئے ہر ممکن اقدام کررہی ہے، فی الوقت ان پچ سائیڈرز سے سخت پریشان ہے، تاہم بہتر ہوگا کہ وہ نشریاتی خدمات کو بھی بہتر بنانے پر زور دے تاکہ سیکنڈز کے فرق کے سبب سٹے بازی کے امکانات کو ختم کیا جاسکے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



جنرل فیض حمید کے کارنامے(چوتھا حصہ)


عمران خان نے 25 مئی 2022ء کو لانگ مارچ کا اعلان کر…

جنرل فیض حمید کے کارنامے(تیسرا حصہ)

ابصار عالم کو 20اپریل 2021ء کو گولی لگی تھی‘ اللہ…

جنرل فیض حمید کے کارنامے(دوسرا حصہ)

عمران خان میاں نواز شریف کو لندن نہیں بھجوانا…

جنرل فیض حمید کے کارنامے

ارشد ملک سیشن جج تھے‘ یہ 2018ء میں احتساب عدالت…

عمران خان کی برکت

ہم نیویارک کے ٹائم سکوائر میں گھوم رہے تھے‘ ہمارے…

70برے لوگ

ڈاکٹر اسلم میرے دوست تھے‘ پولٹری کے بزنس سے وابستہ…

ایکسپریس کے بعد(آخری حصہ)

مجھے جون میں دل کی تکلیف ہوئی‘ چیک اپ کرایا تو…

ایکسپریس کے بعد(پہلا حصہ)

یہ سفر 1993ء میں شروع ہوا تھا۔ میں اس زمانے میں…

آئوٹ آف سلیبس

لاہور میں فلموں کے عروج کے زمانے میں ایک سینما…

دنیا کا انوکھا علاج

نارمن کزنز (cousins) کے ساتھ 1964ء میں عجیب واقعہ پیش…

عدیل اکبرکو کیاکرناچاہیے تھا؟

میرا موبائل اکثر ہینگ ہو جاتا ہے‘ یہ چلتے چلتے…