بدھ‬‮ ، 26 اگست‬‮ 2026 

زہریلا پھوڑا

datetime 8  اپریل‬‮  2019 |

حضرت عروہ بن زبیر، عبدالملک کے پاس گئے ہوئے تھے۔ ایک روز وہ اپنے لڑکے کو ہمراہ لے کر شاہی اصطبل دیکھنے گئے۔ یہ لڑکا ایک گھوڑے پر سوار ہوا جس نے اسے پٹخ دیا اور اس کے صدمے سے وہ جاں بحق ہو گیا۔ اس کے بعد ہی عروہ کے پاؤں میں ایک نہایت زہریلا پھوڑا ہوگیا۔

اطباء نے کہا۔ ’’پاؤں کاٹ دینا چاہیے ورنہ زہر سارے جسم میں پھیل کر ہلاکت کا باعث ہو گا۔‘‘ حضرت عروہؓ نے اپنا پاؤں کٹوانے کے لیے بڑھا دیا۔ طبیب نے کہا ’’تھوڑی سی شراب پی لیجئے تاکہ تکلیف کا احساس کم ہو۔‘‘ ’’جس مرض میں مجھ کو صحت کی امید بھی ہو، میں اس میں بھی حرام شے سے مدد نہیں لوں گا۔‘‘ حضرت عروہؓ نے جواب دیا۔ طبیب نے اوزاروں سے پاؤں کاٹ دیا۔ حضرت عروہؓ نہایت استقلال سے بیٹھے رہے اور زبان تسبیح و تہلیل میں مشغول رہی۔ جب خون بند کرنے کے لیے زخم کو داغا گیا تو درد کی شدت سے بے ہوش ہو گئے۔ جب ہوش میں آئے تو کٹا ہوا پاؤں منگا کر دیکھا اور الٹ پلٹ کر اس سے فرمایا۔ ’’اس ذات کی قسم جس نے تجھ سے میرا بوجھ اٹھوایا۔ اس کو خوب معلوم ہے کہ میں تیرے ساتھ کسی حرام راستے پر گامزن نہیں ہوا۔‘‘ بیٹے کے انتقال اور پاؤں کٹنے کی مصیبت پر بھی اللہ کا شکر کرتے اور کہتے۔ ’’اللہ تیرا شکر ہے کہ میرے چار ہاتھ پاؤں میں سے تو نے ایک ہی لیا اور تین باقی رکھے اگر تو نے کچھ لیا ہے تو بہت کچھ باقی رکھا ہے، اگر کچھ مصیبت میں مبتلا کیا ہے تو بہت دنوں عافیت میں بھی رکھ چکا ہے۔ (یاد ماضی صفحہ 27) اس سے یہ سبق حاصل ہوتا ہے کہ اللہ والے ہر حال میں خوش اور راضی برضائے حق رہتے ہیں اور حرام چیز سے ہر حال میں بچتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…