بدھ‬‮ ، 09 ستمبر‬‮ 2026 

زہریلا پھوڑا

datetime 8  اپریل‬‮  2019 |

حضرت عروہ بن زبیر، عبدالملک کے پاس گئے ہوئے تھے۔ ایک روز وہ اپنے لڑکے کو ہمراہ لے کر شاہی اصطبل دیکھنے گئے۔ یہ لڑکا ایک گھوڑے پر سوار ہوا جس نے اسے پٹخ دیا اور اس کے صدمے سے وہ جاں بحق ہو گیا۔ اس کے بعد ہی عروہ کے پاؤں میں ایک نہایت زہریلا پھوڑا ہوگیا۔

اطباء نے کہا۔ ’’پاؤں کاٹ دینا چاہیے ورنہ زہر سارے جسم میں پھیل کر ہلاکت کا باعث ہو گا۔‘‘ حضرت عروہؓ نے اپنا پاؤں کٹوانے کے لیے بڑھا دیا۔ طبیب نے کہا ’’تھوڑی سی شراب پی لیجئے تاکہ تکلیف کا احساس کم ہو۔‘‘ ’’جس مرض میں مجھ کو صحت کی امید بھی ہو، میں اس میں بھی حرام شے سے مدد نہیں لوں گا۔‘‘ حضرت عروہؓ نے جواب دیا۔ طبیب نے اوزاروں سے پاؤں کاٹ دیا۔ حضرت عروہؓ نہایت استقلال سے بیٹھے رہے اور زبان تسبیح و تہلیل میں مشغول رہی۔ جب خون بند کرنے کے لیے زخم کو داغا گیا تو درد کی شدت سے بے ہوش ہو گئے۔ جب ہوش میں آئے تو کٹا ہوا پاؤں منگا کر دیکھا اور الٹ پلٹ کر اس سے فرمایا۔ ’’اس ذات کی قسم جس نے تجھ سے میرا بوجھ اٹھوایا۔ اس کو خوب معلوم ہے کہ میں تیرے ساتھ کسی حرام راستے پر گامزن نہیں ہوا۔‘‘ بیٹے کے انتقال اور پاؤں کٹنے کی مصیبت پر بھی اللہ کا شکر کرتے اور کہتے۔ ’’اللہ تیرا شکر ہے کہ میرے چار ہاتھ پاؤں میں سے تو نے ایک ہی لیا اور تین باقی رکھے اگر تو نے کچھ لیا ہے تو بہت کچھ باقی رکھا ہے، اگر کچھ مصیبت میں مبتلا کیا ہے تو بہت دنوں عافیت میں بھی رکھ چکا ہے۔ (یاد ماضی صفحہ 27) اس سے یہ سبق حاصل ہوتا ہے کہ اللہ والے ہر حال میں خوش اور راضی برضائے حق رہتے ہیں اور حرام چیز سے ہر حال میں بچتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)


لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…