حضرت سفیان ثوری رحمتہ اللہ علیہ نے حج کے موقعے پر طواف کے دوران ایک نوجوان کو دیکھا جو قدم قدم پرصرف درود پاک پڑھ رہا تھا۔ اس پر سفیان ثوری رحمتہ اللہ علیہ نے اس سے کہا اے نوجوان ! ہرجگہ کی اپنی دعائیں
اور نوافل و اذکارہیں لیکن تم ہرجگہ صرف درود پاک ہی کیوں پڑھ رہےہو ؟اس نے بتایا کہ میں اور میرا والد گھر سے حج کے ارادے سے نکلے لیکن راستے میں میرا والد شدید بیمار ہو گیا اورانتقال کر گیا۔ موت کے بعد ان کا چہرا سیاه ہو گیا۔ غم سے میری عجیب حالت ہو گئی۔ اسی وقت میری آنکھیں بوجھل ہوئیں اور مجھے نیند آ گئی۔میں نے خواب دیکھا کہ ایک حسین و جمیل شخص جس کا حسن لاجواب و بے مثال ہے اور جن کے وجود سے خوشبو کی لپٹیں آ رہی ہیں میرے والد کے پاس آئے اور اس کے چہرے سے کپڑا ہٹا کر اپنا ہاتھ پھیرا جس سے میرے والد کا چہرا روشن ہو گیا۔ میں نے آگے بڑھ کر ان کا دامن تھام لیا اور پوچھا آپ کون ہیں ؟انھوں نے فرمایا.تم مجھے نہیں پہچانتے ؟ میں تمہارا نبی محمد ﷺہوں۔ تمہارا باپ بہت گناه گار تھالیکن مجھ پر کثرت سے درود پڑھتا تھا۔ اب جب اس پر مصیبت نازل ہوئی تو اس نے مجھ سے فریاد کی اور جوہم سے فریاد کرے تو وه مایوس نہیں رہتا۔





































