ایک دفعہ حجاج بن یوسف نے ایک لڑکے پر بہت زیادہ تشدد کیا لڑکا جب شدید زخمی حالت میں گھر پہنچا تولڑ کے کی ماں نے اس سے رونے کی وجہ پوچھی تو لڑکے نے بتایا کہ حجاج بن یوسف نے اس پر تشدد کیا ہے۔اس عورت نے اپنے بیٹے کو ساتھ لیا اور حجاج بن یوسف کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ “حجاج کمزوروں اور غریبوں پر ظلم کرنے سے باز آجا ورنہ اللہ پاک تجھے ایسے
غائب کر دے گاجیسے اس نے قرآن کے پہلے پندرہ سیپاروں میں سے لفظ “کلا”غائب کر دیا ہے “۔حجاج بن یوسف خود حافظ قرآن تھا اس نے فورا ًآنکھیں بند کیں اور پہلے پندرہ پاروں پرنظر دہرائی اور لفظ “کلا” نہ پا کر بولا اگر میں پہلے پندرہ پاروں میں لفظ ” کلا ” پا لیتا توتجھے سزا دیتا اب تو گھر جا سکتی ہے۔دیکھیں اس وقت کے ان پڑھ لوگ کیسی حکمت والی باتیں کیا کرتے تھے





































