جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

ﻋﺼﺮ ﮐﮯ ﻭﻗﺖ ﺭﻭﺯﮦ ﺗﻮﮌ ﺩﯾﺎ

datetime 29  ‬‮نومبر‬‮  2016
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

ﺣﻀﺮﺕ ﺧﻮﺍجہ ﻏﻼﻡ ﻓﺮﯾﺪ رحمۃ اللہ علیہ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﺮﯾﺪﻭﮞ ﮐﮯ ﺟﮭﺮﻣﭧ ﻣﯿﮟ ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻓﺮﻣﺎ ﺗﮭﮯ.۔ ﺭﻣﻀﺎﻥﺍﻟﻤﺒﺎﺭﮎ ﮐﺎ مہینہ ﺗﮭﺎ۔ ﺳﺐ ﯾﺎﺩ ﺍﻟﮩﯽ ﻣﯿﮟ ﻣﺸﻐﻮﻝﺗﮭﮯ کہ ﻋﺼﺮﮐﮯ ﻭﻗﺖ ﺍﯾﮏ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﮨﻨﺪﻭ ﺟﻮﮌﺍ ﺣﺎﺿﺮِ ﺧﺪﻣﺖ ﮨﻮﺍ۔ جو آپکے لیے ﺷﮑﺮ ﮐﺎ ﺷﺮﺑﺖ ﺗﯿﺎﺭ ﮐﺮ ﮐﮯ ﻻﯾﺎ ﺗﻬﺎ۔ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯﺷﺮﺑﺖ ﭘﯿﺶ ﮐﯿﺎ ﺗﻮ ﺧﻮﺍجہ ﻓﺮﯾﺪ رح ﻧﮯ ﺷﺮﺑﺖ ﺍﻓﻄﺎﺭﯼ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﯾﮏ ﻃﺮﻑ ﺭﮐﮫ ﺩﯾﺎ۔ یہ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﮨﻨﺪﻭ ﺑﻮﻻ: ﺣﻀﺮﺕ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺧﻮﺍﮨﺶ ﮨﮯ کہ ﺁﭖ یہ ﺷﺮﺑﺖ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﻧﻮﺵ ﻓﺮﻣﺎﺋﯿﮟ.

۔ یہ ﺳﻦ ﮐﺮ ﺧﻮﺍجہ ﻓﺮﯾﺪ رحمۃ اللہ علیہ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﺍﭼﮭﺎ ﻻؤ ﺷﺮﺑﺖ۔ ﺍﻭﺭ ﻋﺼﺮ ﮐﮯ ﻭﻗﺖ ﮨﯽ ﺭﻭﺯﮦ ﺗﻮﮌ ﺩﯾﺎ۔ یہ ﻣﻨﻈﺮ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﮨﻨﺪﻭ ﺟﻮﮌﺍ ﺑﮩﺖ ﺧﻮﺵ ﮨﻮﺍ کہ ﺁﭖ ﻧﮯ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﺷﺮﺑﺖ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﮨﯽ ﺑﺮﺗﻨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﭘﯽ ﮐﺮ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺧﻮﺍﮨﺶ ﭘﻮﺭﯼ ﮐﺮ ﺩﯼ۔ﺟﺐ ﻭﮦ ﭼﻠﮯ ﮔﺌﮯ ﺗﻮﻣﺮﯾﺪﻭﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﺁﭖ ﭘﺮ ﺷﺪﯾﺪ ﺗﻨﻘﯿﺪ ﮨﻮﺋﯽ کہ ﮨﻨﺪﻭ ﺟﻮﮌﮮ ﮐﯽ ﻭجہ ﺳﮯ ﺭﻭﺯﮦ ﺗﻮﮌﺍ۔ ﺍﺏ ﮐﻔﺎﺭﮦ ﺍﺩﺍ ﮐﺮﻧﺎ ﮨﻮ ﮔﺎآپ ﺳﺐ ﮐﯽ ﺳﻨﺘﮯ ﺭﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ کہ ﺁﭖ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﯽ ﺑﺎﺗﻮﮞ ﮐﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﻣﯿﮟﮐﻞ ﺩﻭﮞ ﮔﺎ۔ ﺍﮔﻠﮯ ﺭﻭﺯ ﮨﻨﺪؤﻭﮞ ﮐﯽ ﭘﻮﺭﯼ ﺑﺴﺘﯽ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﮯ لیئے ﺣﺎﺿﺮ ﮨﻮ گئی۔ ﻭﮨﯽ ﻣﺮﯾﺪﯾﻦ ﺧﻮﺍجہ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﮯ ﺍﺭﺩ ﮔﺮﺩ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﮐﭽﮫ ﺑﻮﮌﮬﮯ ﮨﻨﺪﻭ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﮯ کہ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﺟﻮﮌﮮ ﮐﺎ ﺍﺻﺮﺍﺭ ﺗﻬﺎ کہ ﻭﮦ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺷﺮﺑﺖ ﭘﻼﺋﯿﮟ گے۔ ﮨﻢ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﺑﮩﺖ ﺳﻤﺠﮭﺎﯾﺎ کہ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﺎ ﺩﺭﻭﯾﺶ ﮨﻨﺪؤﻭﮞ ﮐﺎ ﺷﺮﺑﺖ ﻧﮩﯿﮟ پیے ﮔﺎ۔ ﻟﯿﮑﻦ ﻭﺍﭘﺴﯽ ﭘﺮ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺑﺘﺎﯾﺎ کہ ﺁﭖ ﻧﮯ نہ ﺻﺮﻑ ﺷﺮﺑﺖ ﭘﯿﺎ بلکہ ﻋﺼﺮ ﮐﮯ ﻭﻗﺖ ﺍﭘﻨﺎ ﺭﻭﺯﮦ ﺑﮭﯽ ﺗﻮﮌ ﺩﯾﺎ۔ ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﮨﻢ یہ ﺳﻮﭼﻨﮯ ﭘﺮ ﻣﺠﺒﻮﺭ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ کہ ﺁﭖ ﻟﻮﮒ ﮐﺘﻨﮯ ﻋﻈﯿﻢﺍﻟﺸﺎﻥ ﻣﺬﮨﺐ ﮐﮯ ﻟﻮﮒ ہیں ﺟﻮ ﺭﻭﺯﮦ ﺗﻮ ﺗﻮﮌ ﺩﯾﺘﮯ ہیں ﻟﯿﮑﻦ ﺍﻧﺴﺎﻧﻮﮞ ﮐﺎ ﺩﻝ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﻮﮌﺗﮯ۔ پس ﮨﻢ ﭘﻮﺭﯼ ﺑﺴﺘﯽ ﻭﺍﻟﮯ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﮨﻮﻧﮯ ﺁ ﮔﺌﮯ۔پنجاب میں صوفیانہ مسلک چشتیہ کے احیاء کا سرا خواجہ نور محمد مہاردی کے سر ہے ۔ یہاں مٹھن کوٹ کے مرکز کے نگران خواجہ محمد عاقل تھے

جو خواجہ نور محمد مہاروی کے خلفیہ اور خواجہ غلام فرید کے جد امجد تھے ۔ خواجہ فرید 1844ء میں یہیں پیدا ہوئے ۔ خواجہ فرید کے والد کو سجادہ نشینی کے بعد بہاول پور کے نواب سکھوں کے عہد حکومت میں مٹھن کوٹ سے اپنی ریاست میں لے آئے اور انہوں نے چاچران نامی گاؤں میں رہائش اختیار کر لی ۔ خواجہ غلام فرید کے بڑے بھائی خواجہ غلام فخر الدین نے ان کی تعلیم و تربیت پر خصوصی توجہ دی اہری علوم

کے ساتھ ساتھ باطنی علوم سے بھی بہرہ ور کیا ۔خواجہ فرید اپنے انہی برادر بزرگ کے مرید ہوئے اور عبادات اور ریاضتوں میں غرق ہو گئے ۔ اٹھائیس برس کی عمر میں برادر و مرشد کے انتقال کے بعد صاحب سجادہ ہوئے مگر سجادگی کی ذمہ داریاں پوری کرنے کی بجائے گوشہ نشینی اختیار کرنے کو ترجیح دی ، نامی صحراو بیابان کا رخ کیا اور کم و بیش اٹھارہ برس تک بیابانوں کو آباد کرتے رہے ۔

 

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…