1940ء میں امریکہ کی سرکس کی دنیا میں بے تاج بادشاہ کہلانے والے برٹریم نے اعلان کیا کہ جو شخص لوچ نیس کو زندہ حالت میں اس تک لائے گا‘ وہ اسے بیس ہزار ڈالر انعام دے گا۔ اس اعلان نے جادوئی اثر کیا اور اس کے بعد سائنسی اداروں سے لے کر عام شکاریوں تک ہر شخص کو یہ خواہش ہوئی کہ وہ اس مخلوق کے بارے میں زیادہ سے زیادہ معلومات حاصل کریں اور کسی طرح اسے زندہ حالت میں پکڑیں تاکہ انعام پا سکیں یا لیبارٹری میں لے جا کر اس پر مزید تحقیقات کریں۔ ان مہمات نے لوچ نیس کے لیے ایک خطرے کی صورت پید ا کی اور یہ سوال عوامی حلقوں سے لے کر سیاسی ایوانوں میں زیر بحث آنے لگا کہ کیا اس سے لوچ نیس جیسی نایاب مخلوق کی جان کو خطرہ لاحق نہ ہوجائے گا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ سکاٹ لینڈ کی مجلس دستور ساز میں طویل بحث کے بعد یہ قانون منظور ہو گیا کہ اس مخلوق کو پکڑنا یا اسے مارنا قانوناً جرم ہے۔ یہ قانون آج بھی موجود اور نافذالعمل ہے اور اس کا فائدہ یہ ہوا کہ اس مخلوق کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی مہمات میں تو کمی نہ ہوئی لیکن اس کو پکڑنے یا اسے مارنے کی کوششیں ختم ہوگئیں۔
لوچ نیس کے اسطور سے متعلق حقائق منظر عام پر لانے کے لیے پہلی باقاعدہ سائنسی مہم کا آغاز 1962ء میں ہوا۔ اس مہم کی سربراہی فطرتی مظاہر کے ماہر پیٹر سکاٹ نے کی۔ اس نے اپنے ساتھ تین سائنس دانوں کو اس مہم میں لیا اور ہائی لینڈز کے قریب اس مقام پر جہاں لوچ نیس کی موجودگی کے آثار ملے تھے‘ جہاز کو لنگر انداز کرلیا۔ مختلف وقفوں سے یہ مہم دس سال تک جاری رہی اور چاروں سائنس دان نہایت دل جمعی سے کام کرتے رہے۔ ان کے پاس بڑے اور طاقتور لینزوں والے کیمرے موجود تھے جن کو انہوں نے اپنے جہاز میں مختلف جگہوں پر نصب کیا تھا تاکہ جونہی لوچ نیس کہیں دکھائی دے تو اس کی تصویریں کھینچی جا سکیں۔ اس مہم کے نتیجے میں لوچ نیس کی ڈیڑھ سو سے زائد تصویریں کھینچی گئیں جو اس وقت لندن کے نیچرل ہسٹری میوزیم میں محفوظ ہیں۔
لوچ نیس کی تصویروں کے حوالے سے سب سے زیادہ شہرت امریکہ ہی کے ایک فوٹوگرافر فرینک سیرلے کو حاصل ہوئی۔ وہ اپنے شعبے میں ایک جنونی ماہر کی حیثیت سے جانا جاتا ہے۔ اس نے اٹھارہ ماہ ہائی لینڈز میں اس مقام کے گردا گرد گزارے جہاں لوچ نیس کی موجودگی کے آثار ملے تھے۔ اس دوران میں اس نے لوچ نیس کی ایک سو بتیس تصویریں اتاریں جو بعدازاں دو لاکھ پچاس ہزار ڈالر کی مالیت میں فروخت ہوئیں۔ تاہم اس کی تصویروں کے حوالے سے خاص بات یہ تھی کہ اس نے صرف ایک لوچ نیس ہی کی نہیں بلکہ اس کی پوری برادری کی تصویریں اتاریں۔ اس کی تصویروں کے مطابق یہ تعداد میں بیس کے قریب ہیں اور اس سے یہ بات بھی سامنے آئی کہ اس مقام پر سمندر کی گہرائیوں میں ان کی پوری کالونی موجود ہے جو اس طرح کے سینکڑوں لوچ نیس پر مشتمل ہوسکتی ہے۔ ان تصویروں نے سائنس کی دنیا میں ایک تہلکہ مچا دیا اور یہ حقیقت بالکل واضح ہو کر سامنے آئی کہ لوچ نیس کی اسطورہ میں غلط بیانی نہیں ہے بلکہ یہ زندہ حقیقت ہے جس کی تحقیق سے سائنس زیر آب موجود زندگی کے بارے میں بہت کچھ جاننے کے قابل ہوسکتی ہے۔گو آج تک سائنس دان اس مخلوق کے رہن سہن اور اس کے آغاز و ارتقاء کے بارے میں زیادہ تفصیلات حاصل نہیں کرسکے ہیں لیکن اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں ہے کہ اگر وہ اس بارے میں کچھ مزید جاننے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو اس کا نتیجہ سائنس میں حیات سے متعلق جانکاری کے ایک نئے دور کے آغاز کی صورت میں ہوگا۔
دنیا کی محبوب ترین بلا لوچ نیس مونسٹر
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
مرنے کے علاوہ
-
پاکستان میں بارشوں کا طاقتور سلسلہ داخل ہونے کی پیشگوئی، الرٹ جاری
-
خاتون سے دوران ڈکیتی زیادتی کرنے والے دو افغان ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
-
سرگودھا میں شرمناک واقعہ: ٹیچر کی ہدایت پر2طلبہ کی طالبعلم سے جنسی زیادتی، استاد ویڈیو بناتا رہا
-
بیرونِ ملک سے موبائل فونز لانے والوں کے لئے بڑی خوشخبری آگئی
-
دورانِ ڈکیتی شوہر اور بچوں کے سامنے زیادتی ڈرامہ نکلا، ماسٹر مائنڈ گرفتار
-
احسن بھون اور اعظم نذیر تارڑ کو استعفیٰ دینا پڑے گا، کیپٹن (ر)محمد صفدر
-
حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کردیا
-
اسٹیٹ بینک کا بڑا فیصلہ، شرح سود اب کتنی ہوگئی؟
-
حکومت نے تمام صوبوں کی مشاورت سے گندم کی فی من قیمت مقرر کر دی
-
بجلی صارفین کے لیے بڑی خوشخبری، 200 یونٹ سے متعلق اہم تبدیلی متوقع
-
اسلام آباد میں مبینہ پولیس مقابلہ، زیرحراست دو افغان باشندے ہلاک
-
سردیوں میں گیس کا شیڈول تیار، صارفین کیلئے اہم خبر آگئی
-
مری میں افسوسناک حادثہ، ایک ہی خاندان کے 7 افراد جاں بحق



















































