جمعرات‬‮ ، 13 اگست‬‮ 2026 

دنیا کی محبوب ترین بلا لوچ نیس مونسٹر

datetime 18  اکتوبر‬‮  2015 |

لیکن اس مخلوق کے حوالے سے توہمات اب بھی موجود تھے کیونکہ اس کے حوالے سے کوئی ٹھوس ثبوت فراہم نہیں کیا جاسکا تھا اور اس کا تذکرہ اب بھی کہانیوں کی ہی صورت میں کیا جاتا تھا۔ لیکن دسمبر 1933ء میں ایک واقعہ ہوا جس نے سائنس کے سنجیدہ طالب علموں اور ماہرین کو اس کی کھوج لگانے پر مائل کیا۔ ہوا یوں کہ برطانیہ کی ’Zoological Society‘ کے ایک سائنس دان مائیکل ویدرل کو لوچ نیس کے پیروں کے نشانات ملے۔ اس سے یہ بات سامنے آئی کہ یہ مخلوق پانی کے ساتھ ساتھ خشکی پر بھی رہ سکتی ہے اور لوگوں سے چھپ کر ساحل پر چہل قدمی کرتی ہے۔ یہ نشانات ایسی مخلوق کے تھے جس کے چار پیر تھے۔ ہر پیر کا حجم آٹھ انچ تھا۔ جبکہ ان نشانات سے ماہرین نے اندازہ لگایا کہ یہ مخلوق اپنی جسامت میں بیس فٹ لمبی ہوگی۔ یہ مخلوق لوچ نیس ہی تھی جیسا کہ بعد میں اس حوالے سے ہونے والی تحقیقات کے نتیجے میں ثابت ہوا۔ مائیکل ویدرل نے ان نشانات کے پلاسٹر آف پیرس کی مدد سے سانچے تیار کئے اور انہیں لندن کے نیچرل ہسٹری میوزیم کو بھیج دیا جہاں ان پر مزید تحقیقات شروع ہوئیں۔
تاہم لوچ نیس کی اسطور کے حوالے سے سب سے ٹھوس ثبوت نیدر لینڈ کے ایک شخص ناڈیم کیمر نے فراہم کئے۔ وہ ایک مقامی اخبارکے لیے فوٹوگرافر کے طور پر کام کرتا تھا۔ اس نے بھی ایک ایسی ہی مہم میں حصہ لیا تھا جو لوچ نیس کے بارے میں معلومات حاصل کرنے نکلی تھی۔ وہ مہم کے دوسرے کئی لوگوں کے ساتھ ہائی لینڈز کے اس مقام کے گرداگرد گھوم رہا تھا جہاں لوچ نیس کے ظاہر ہونے سے متعلق کہانیاں مشہور ہوئی تھیں تو اچانک لوگوں نے پہاڑ کے عقب میں ایک چٹان سی ابھرتی ہوئی دیکھی اور انہیں اس بات میں کوئی شک نہیں رہا کہ اب جو کچھ بھی ظاہر ہوگا‘ وہ لوچ نیس کے سوا اور کچھ نہیں ہوگا۔ ناڈیم کیمر نے فوراً ہی اپنی طاقتور لینز والے کیمرے سے اس منظر کو کیمرے میں محفوظ کرنا شروع کیا۔ جہاز اگرچہ پہاڑ سے کافی دور تھا اور اس کے لوچ نیس کے قریب پہنچنے تک مونسٹر پھر سے پانی میں غائب ہو چکا تھا لیکن اس دوران ناڈیم کیمر ایسا کام کرچکا تھا جس نے اسے فوری طور پر عالمی شہرت عطا کرنی تھی اور یہ کام لوچ نیس کی اولین فوٹو گرافس اتارنے کا تھا۔ یہ واقعہ جون 1935ء میں ہوا۔ آج بھی سائنس دانوں کے پاس لوچ نیس کے حوالے سے سب سے ٹھوس اولین ثبوت یہ فوٹوگرافس ہی ہیں جنہیں بنیاد بنا کر وہ اپنے تحقیقات کو آگے بڑھا رہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…