اتوار‬‮ ، 12 اپریل‬‮ 2026 

دنیا کی انوکھی جیل جس کے قیدی واپس جانے سے انکار کردیتے ہیں‎

datetime 3  جون‬‮  2016 |

اوسلو: ناروے کے دارالحکومت اوسلو کے ساحل سے 75 کلومیٹر کی دوری پر ایک جزیرہ ہے جو بیسٹوئے کہلاتا ہے۔ ہرے بھرے جزیرے کی آبادی 115 افراد پر مشتمل ہے جو لکڑی سے بنے ہوئے مکانوں یا کاٹیجز میں رہتی ہے۔

jj3

جزیرے کے باسی کاشت کاری، گلہ بانی، ماہی گیری جیسے پیشوں سے وابستہ ہیں۔ ان کے پاس گھوڑے بھی ہیں جن پر سوار ہوکر وہ گھڑ سواری سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ یہاں پر ایک ٹینس کورٹ اور سوانا ( بھاپ سے غسل کرنے کی جگہ) کی سہولت بھی موجود ہے۔ جزیرے کے خوب صورت ساحل پر مکین غسل آفتابی سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ جزیرے کے وسط میں ایک مارکیٹ ہے جہاں سے لوگ ضرورت کی اشیاء خریدتے ہیں۔ درج بالا تفاصیل سے آپ کے ذہن میں ایک جزیرے پر بسے ہوئے پُرسکون گائوں کا تصور ابھرا ہوگا جہاں کے باسی خوش و خرم زندگی گزار رہے ہوں۔ مگر آپ یہ جان کر حیران ہوں گے کہ بیسٹوئے پر کوئی گائوں آباد نہیں بلکہ یہ سرکاری جیل ہے، اور یہاں رہنے والے 115 افراد قیدی ہیں! ان قیدیوں میں خطرناک قاتل اور منشیات فروش بھی شامل ہیں۔ تاہم یہ قیدی اس جزیرے پر قیدیوں کی طرح نہیں بلکہ گائوں کے باسیوں کی طرح رہتے ہیں۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ نہ تو جزیرے کے اطراف کوئی حفاظتی دیوار تعمیر ہے اور نہ ہی خارداریں تاریں لگی ہوئی ہیں، نہ یہاں خونخوار کُتوں کی زنجیر تھامے مسلح محافظ گشت کرتے نظر آتے ہیں ( پانچ محافظ ضرور ہیں مگر وہ رات میں صرف چوکیداری کے فرائض انجام دیتے ہیں)، نہ ہی قیدیوں کو کوٹھڑیوں میں رکھا جاتا ہے۔ رات کے کھانے میں قیدیوں کو ان کی من پسند ڈشیں فراہم کی جاتی ہیں۔ البتہ ناشتہ انھیں خود تیار کرنا ہوتا ہے۔ ناشتے کا سامان اور دیگر اشیائے ضرورت خریدنے کے لیے انھیں حکومت کی طرف سے ماہانہ رقم فراہم کی جاتی ہے۔ یہ اشیاء وہ جزیرے پر قائم مارکیٹ سے خرید سکتے ہیں۔ اگر روایتی جیلوں سے موازنہ کیا جائے تو بیسٹوئے، قیدیوں کے لیے جنت سے کم نہیں، جہاں وہ جزیرے کی حدود میں رہتے ہوئے، اپنی مرضی سے شب و روز بسر کرنے اور پتلی دال کے بجائے من چاہا کھانا کھانے کے لیے آزاد ہیں۔ خطرناک قیدیوں کو جیل کی کوٹھری کے بجائے اس ’ جنت ‘ میں رکھنے کا سبب کیا ہے؟ اس بارے میں بیسٹوئے کے سابق گورنر آرنی نیلسن کہتے ہیں کہ اس کی وجہ قیدیوں کو سدھرنے میں مدد دینا ہے۔ روایتی جیلوں کے برعکس اس جیل سے آزاد ہونے والے قیدیوں میں پھر سے جرائم کا ارتکاب کرنے کی شرح بہت کم، محض 16 فی صد ہے۔ جب کہ یورپ میں یہ شرح 70فی صد ہے۔ بیسٹوئے میں آنے والے قیدیوں کو ان کی پسند کے مطابق کام کرنے کی آزادی ہوتی ہے۔ کچھ قیدی گلہ بانی پسند کرتے ہیں، کچھ کاشت کار بن جاتے ہیں، کچھ کھانا پکانے کے شوقین ہوتے ہیں۔ اسی طرح دوسرے قیدی بڑھئی، مکینک، جنرل اسٹور کے مینیجر وغیرہ بن جاتے ہیں۔ وہ صبح ساڑھے آٹھ بجے سے سہ پہر ساڑھے تین بجے تک یہ ذمہ داریاں نبھاتے ہیں۔ اس کے بعد کا وقت جزیرے کی سیر کرنے، سن باتھ لینے، گھڑسواری اور دیگر مشاغل میں گزارتے ہیں۔
بیسٹوئے پر قیدیوں کو فراہم کیا جانے والا آزاد ماحول ان کے ذہن کو بدلنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں سے رہا ہونے والے بیشتر قیدی جرائم کی دنیا سے کنارہ کش ہوجاتے ہیں۔ ایسے واقعات بھی پیش آئے کہ جب کئی قیدیوں نے مدت پوری ہونے کے باوجود بیسٹوئے چھوڑنے سے انکار کردیا۔ وہ اپنی باقی زندگی اسی جزیرے پر گزارنے کے خواہش مند تھے۔جزیرے کی انتظامیہ نے بہ دقت تمام انھیں یہاں سے جانے پر راضی کیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لفظ اضافی ہوتے ہیں


نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)

ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…