بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

بارش سے مویشی منڈیاں دلدل کا منظر پیش کرنے لگیں، بیوپاری اور خریدار پریشان

datetime 26  جون‬‮  2023 |

لاہور ( این این آئی) پری مون سون کی گرج چمک کے ساتھ ہونے والی موسلادھا بارش نے انتظامیہ کی کارکردگی کا پول کھول دیا، شہر میں عید قربان کے موقع پر لگائی جانے والی 10 عارضی مویشی منڈیاں نکاسی آب نہ ہونے کی وجہ سے درہم برہم ہو گئیں۔تیز ہوا اور مسلسل بارش سے منڈیوں میں لگے شامیانے اکھڑ گئے جبکہ متعدد جگہیں دلدل کا منظر پیش کرنے لگیں، صورتحال کے باعث بیوپاری اور خریدار دونوں ہی پریشان ہوگئے۔

عارضی منڈیوں میں دوبارہ لائٹس ٹاور کو بھی فعال نہیں کیا جا سکا۔ایل ڈی اے سٹی، پائن ایونیو، ڈیفنس نائن، پائن ایونیو ون مویشی منڈی میں شامیانے اکھڑ گئے، سگیاں روڈ ، شاہ پور کانجراں، سندر اور حضرت عثمان غنی روڈ منڈی میں شامیانے فعال نہیں ہو سکے، منڈیوں میں جانوروں کے پانی پینے کیلئے بنائی جانے والی سینکڑوں عارضی کھرلیاں بھی ٹوٹ پھوٹ گئیں۔کاہنہ رائیونڈ مانگا منڈی، این ایف سی منڈی بھی تاحال مکمل فعال نہیں ہوسکیں، لکھو ڈیر منڈی میں بھی تاحال سہولیات کا فقدان ہے۔منڈیوں میں بارش سے جگہ جگہ کیچڑ دلدل میں تبدیل ہوگیا، بارشی پانی کی وجہ سے ٹریفک اور پارکنگ کیلئے مختص جگہ کیچڑ میں تبدیل ہو چکی ہے، کمشنر لاہور کی طرف سے منڈیاں دوبارہ فعال کرنے کے احکامات جاری کر دیئے گئے۔بارش رکنے کے بعد انتظامیہ نے عارضی منڈیوں میں دوبارہ انتظامات شروع کئے اور نکاسی آب کے لئے ڈی واٹرنگ سیٹ لگا دیئے گئے۔رات کے اوقات میں لائٹس کی عدم دستیابی کے باعث مویشی منڈیاں اندھیرے میں ڈوبی رہیں، بیوپاریوں نے نگران وزیر اعلی پنجاب محسن نقوی سے اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ منڈیوں کو فورا روشن کیا جائے۔بیوپاریوں کا کہنا ہے کہ لاکھوں روپے مالیت کے جانور لائے ہیں لیکن قانونی حفاظت نہ ہونے کے برابر ہے، اس صورتحال میں جانوروں کے بیمار ہونے کا بھی اندیشہ ہے۔ادھر خریداروں نے بھی مویشی منڈیوں میں انتظامات بہتر بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔دوسری جانب چیف کارپوریشن آفیسر میاں ثاقب کا کہنا ہے کہ بارش کا مقابلہ نہیں مگر عارضی منڈیوں کو فعال کرنے کے لئے عملہ کام میں مصروف عمل ہے، جلد دوبارہ منڈیاں مکمل فعال ہو جائیں گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…