منگل‬‮ ، 11 اگست‬‮ 2026 

بارش سے مویشی منڈیاں دلدل کا منظر پیش کرنے لگیں، بیوپاری اور خریدار پریشان

datetime 26  جون‬‮  2023 |

لاہور ( این این آئی) پری مون سون کی گرج چمک کے ساتھ ہونے والی موسلادھا بارش نے انتظامیہ کی کارکردگی کا پول کھول دیا، شہر میں عید قربان کے موقع پر لگائی جانے والی 10 عارضی مویشی منڈیاں نکاسی آب نہ ہونے کی وجہ سے درہم برہم ہو گئیں۔تیز ہوا اور مسلسل بارش سے منڈیوں میں لگے شامیانے اکھڑ گئے جبکہ متعدد جگہیں دلدل کا منظر پیش کرنے لگیں، صورتحال کے باعث بیوپاری اور خریدار دونوں ہی پریشان ہوگئے۔

عارضی منڈیوں میں دوبارہ لائٹس ٹاور کو بھی فعال نہیں کیا جا سکا۔ایل ڈی اے سٹی، پائن ایونیو، ڈیفنس نائن، پائن ایونیو ون مویشی منڈی میں شامیانے اکھڑ گئے، سگیاں روڈ ، شاہ پور کانجراں، سندر اور حضرت عثمان غنی روڈ منڈی میں شامیانے فعال نہیں ہو سکے، منڈیوں میں جانوروں کے پانی پینے کیلئے بنائی جانے والی سینکڑوں عارضی کھرلیاں بھی ٹوٹ پھوٹ گئیں۔کاہنہ رائیونڈ مانگا منڈی، این ایف سی منڈی بھی تاحال مکمل فعال نہیں ہوسکیں، لکھو ڈیر منڈی میں بھی تاحال سہولیات کا فقدان ہے۔منڈیوں میں بارش سے جگہ جگہ کیچڑ دلدل میں تبدیل ہوگیا، بارشی پانی کی وجہ سے ٹریفک اور پارکنگ کیلئے مختص جگہ کیچڑ میں تبدیل ہو چکی ہے، کمشنر لاہور کی طرف سے منڈیاں دوبارہ فعال کرنے کے احکامات جاری کر دیئے گئے۔بارش رکنے کے بعد انتظامیہ نے عارضی منڈیوں میں دوبارہ انتظامات شروع کئے اور نکاسی آب کے لئے ڈی واٹرنگ سیٹ لگا دیئے گئے۔رات کے اوقات میں لائٹس کی عدم دستیابی کے باعث مویشی منڈیاں اندھیرے میں ڈوبی رہیں، بیوپاریوں نے نگران وزیر اعلی پنجاب محسن نقوی سے اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ منڈیوں کو فورا روشن کیا جائے۔بیوپاریوں کا کہنا ہے کہ لاکھوں روپے مالیت کے جانور لائے ہیں لیکن قانونی حفاظت نہ ہونے کے برابر ہے، اس صورتحال میں جانوروں کے بیمار ہونے کا بھی اندیشہ ہے۔ادھر خریداروں نے بھی مویشی منڈیوں میں انتظامات بہتر بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔دوسری جانب چیف کارپوریشن آفیسر میاں ثاقب کا کہنا ہے کہ بارش کا مقابلہ نہیں مگر عارضی منڈیوں کو فعال کرنے کے لئے عملہ کام میں مصروف عمل ہے، جلد دوبارہ منڈیاں مکمل فعال ہو جائیں گی۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…