ہفتہ‬‮ ، 03 اکتوبر‬‮ 2026 

الیکشن کمیشن نے انتخابی تاریخ کے اعلان اور پول ڈے آگے بڑھانے کا اختیار مانگ لیا

datetime 10  اپریل‬‮  2023 |

اسلام آباد (این این آئی)چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا نے چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی اور اسپیکر قومی اسمبلی راجا پرویز اشرف کو خط لکھ دیا۔چیف الیکشن کمشنر نے خط میں کہا کہ یکم مارچ اور چار اپریل کے عدالتی فیصلوں نے الیکشن کمیشن کو آئینی اختیار سے محروم کردیا ہے۔خط میں کہا گیا کہ آئین کے تحت الیکشن کمیشن واحد فیصلہ کرنے والا ہے کہ حالات الیکشن کیلئے سازگار ہیں یا نہیں،

صدر کا الیکشن کی تاریخ دینا آئین کے منافی ہے۔سکندر سلطان راجا کے خط میں کہا گیا کہ الیکشن کمیشن کا اختیار کسی اتھارٹی کے ماتحت نہیں، یکم مارچ اور 4 اپریل کے فیصلے نے الیکشن کمیشن کو آئینی اختیار سے محروم کیا ہے۔چیف الیکشن کمشنر نے اسپیکر اور چیئرمین سینیٹ کے نام لکھے گئے خط میں کہا کہ الیکشن کمیشن نیصاف شفاف انتخابات انعقاد کیلئے کوشش کی۔خط میں کہا گیا کہ ان مثالی کوششوں کی معاونت نہیں کی گئی، الیکشن کمیشن کی رٹ کو منظم طریقے سے چیلنج کیا گیا، عملی طور پر الیکشن کمیشن کے اختیار کو ختم کیا گیا ہے۔خط میں چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے ڈسکہ الیکشن دھاندلی میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کی، جس کے بعد محکمانہ کارروائی کو ایک طرف رکھ دیا گیا۔چیف الیکشن کمشنر نے خط میں موقف اختیار کیا کہ انتظامی افسران کو پیغام گیا کہ وہ سنگین بے ضابطگی کے باجود فیصلوں کے پیچھے چھپ سکتے ہیں، الیکشن کمیشن کی رٹ پر بری طرح سمجھوتا کیا گیا۔خط میں کہا گیا کہ الیکشن کمیشن نے توہین پر نوٹسز جاری کیے تو چیف الیکشن کمشنر اور ممبران کو جان سے مارنے کی دھمکی ملی، ہمیں اور ہمارے اہل خانہ کو ہراساں کیا گیا۔چیف الیکشن کمشنر نے خط میں کہا کہ الیکشن کمیشن کو کہا گیا کہ ان کیسز میں فیصلہ نہ کیا جائے، توہین کے مرتکب افراد نے الیکشن کمیشن کی کمزور ہوتی رٹ کو بھانپ لیا اور کارروائی میں پیش نہ ہوئے، توہین کے مرتکب افراد کے قابل ضمانت وارنٹ کو معطل کیا گیا۔خط میں موقف اپنایا گیا کہ عدالتی دبائوکے بہت سے واقعات ہیں، جہاں الیکشن کمیشن کی رٹ کو مجروح کیا گیا،

سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایسے ماحول میں الیکشن کمیشن صاف شفاف انتخابات کراسکتا ہے؟چیف الیکشن کمشنر نے اپنے خط میں کہا کہ کیا انتظامیہ، سیاسی نمائندے اور ادارے کمیشن کو سنجیدگی سے لیں گے؟ کیا موجودہ حالات میں ان اداروں اور انتظامیہ کے ذریعے پنجاب، خیبر پختونخوا میں صاف شفاف انتخابات کرائے جاسکتے ہیں؟

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…