کراچی(این این آئی)نیشنل بزنس گروپ پاکستان کے چیئرمین، پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولزفورم وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدراورسابق صوبائی وزیرمیاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ گردشی قرضہ ملکی معیشت کے لئے بہت بڑا خطرہ ہے حکومت گردشی قرضے کے خاتمے کو ایک چیلنج سمجھ کر اس کے خاتمہ کو یقینی بنائے تاکہ اقتصادی ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔
میاں زاہد حسین نے کاروباری برادری سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی معیشت کو لاحق خطرات میں غیر تسلی بخش برآمدات اور گردشی قرضہ سرفہرست ہیں۔ ماضی میں ہر حکومت نے اس قرضے کو ختم کرنے کے اعلانات کئے اور عوام کو خوشخبریاں بھی سنائی مگر اس کو ختم کرنے یا کم کرنے کے بجائے اسے بڑھایاہے۔ گزشتہ چند ماہ میں بجلی کے ٹیرف میں بہت زیادہ اضافہ کیا گیا ہے جس سے عوام سمیت ہر شعبہ متاثر ہوا ہے مگر اس سے بھی گردشی قرضہ کم نہیں ہوا بلکہ بڑھا ہے اور اب اسکا حجم22,52,750 ملین روپے تک جا پہنچا ہے۔ گردشی قرضے کی وجوہات میں بجلی کی ترسیل و تقسیم کے نظام کی کمزوری، کرپشن، چوری اور لائن لاسز شامل ہیں۔ گردشی قرضہ کی ایک وجہ درآمد شدہ ایندھن سے بجلی بنانا اور بجلی کی پیداوار کے سستے ذرائع کو نظر انداز کرنا ہے۔ جب تک شمسی توانائی کی سرپرستی نہیں کی جاتی اس وقت تک ایندھن کا امپورٹ بل کم نہیں ہو سکتا آلودگی میں کمی نہیں آسکتی اور نہ ہی بجلی سستی کر کے عوام اور کاروباری برادری کو کوئی حقیقی ریلیف دیا جا سکتا ہے۔ میاں زاہد حسین نے مزید کہا کہ سرکاری شعبہ نہ تو خود کوئی کام کرتا ہے اور نہ ہی نجی شعبہ کو کچھ کرنے دیتا ہے۔ بعض بیوروکریٹس نے سولر پاور سیکٹر کی حوصلہ شکنی کے لئے اسے چاروں طرف سے گھیر لیا ہے اور اسے نقصان پہنچانے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے مگر ارباب اختیار میں کوئی اس کا نوٹس لینے پر تیار نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ جب تک بجلی کے شعبہ میں نجی شعبہ کو بھرپور شرکت کی اجازت نہیں دی جاتی بلوں کی ریکوری کو بہتر نہیں بنایا جاتا اور ڈیفالٹروں کی بجلی نہیں کاٹی جاتی اس وقت تک اس اہم سیکٹر کا پیروں پر کھڑا ہونا، ملک میں مناسب سرمایہ کاری، غربت میں کمی اور پاور سیکٹر کامعیشت کے فروغ میں مثبت کردار ادا کرنا ناممکن ہے۔



















































