کراچی (این این آئی)اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے مانیٹری پالیسی کا اعلان کر دیا ہے جس کے مطابق شرح سود 15فیصد پر برقرار ہے،رواں سال مہنگائی کی شرح 19 سے 20 فیصد پر رہنے کی توقع ہے،حکومت کی جانب سے سیلاب کے نقصانات کا جو جائزہ لیا جارہا ہے،تکمیل کے بعد بہتر قیاس کے ساتھ پیش گوئیاں کی جاسکیں گی،موجودہ دستیاب معلومات کے مطابق
مالی سال 23ء میں جی ڈی پی نمو گر کر لگ بھگ 2 فیصد ہوجائے گی،حکومت اب تک بجٹ کے فنڈز کو دوبارہ مختص کرنے اور دوبارہ حصول کے ذریعے فوری اخراجات کی ضروریات کو پورا کرنے میں کامیاب رہی ہے،مستقبل میں گرانٹس سمیت آنے والی اضافی رقوم سے کسی بھی قسم کے مالیاتی ضیاع کی تلافی کرنے میں مدد ملنی چاہیے۔ اس سال کے بعد، وسط مدت کے دوران تعمیرِ نو اور بحالی کے لیے بین الاقوامی برادری کی مدد سے اضافی اخراجات کی ضرورت ہوگی، زری پالیسی کمیٹی مہنگائی، مالی استحکام اور نمو کے وسط مدتی اقدامات پر اثرانداز ہونے والے حالات کا بغور جائزہ لیتی رہے گی۔پیر کو جاری اعلامیہ کے مطابق زری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) نے اجلاس میں پالیسی ریٹ کو 15 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیاہے۔ اعلامیہ کے مطابق ایم پی سی نے نوٹ کیا کہ گذشتہ اجلاس کے بعد معاشی سرگرمی میں سست روی آتی رہی نیز عمومی مہنگائی اور جاری کھاتے کے خسارے میں کمی آئی۔ اعلامیہ کے مطابق حالیہ سیلاب سے معاشی منظرنامہ تبدیل ہوگیا ہے اور اس کے اثرات کا مکمل جائزہ لینے کا عمل جاری ہے۔ فی الوقت دستیاب معلومات کے مطابق ایم پی سی کا نقطہ نظر یہ تھا کہ موجودہ زری موقف سیلاب کے بعد مہنگائی سے
نمٹنے اور نمو کو برقرار رکھنے کے درمیان مناسب توازن قائم رکھتاہے،ایک طرف، غذائی قیمتوں کو پہنچنے والے رسدی دھچکے کی وجہ سے مہنگائی زیادہ بلند اور زیادہ عرصے تک رہ سکتی ہے اور اس بات کو یقینی بنانا ضروری ہے کہ یہ اضافی تحریک معیشت میں دیگر اشیا کی قیمتوں تک نہ پھیل جائے۔
دوسری جانب، نمو کے امکانات کمزور ہوئے ہیں جس سے طلبی دباؤ کم ہونا چاہیے اور مضمر مہنگائی میں کمی آنی چاہیے،ان پریشان کن حالات کی روشنی میں ایم پی سی نے یہ فیصلہ کیا کہ زری پالیسی کی سیٹنگز کو اس مرحلے پر تبدیل نہ کیا جائے۔



















































