اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )نجی ٹی وی پروگرام میں سینئرتجزیہ کار عامر متین نے کہا ہے کہ جنرل باجوہ توسیع نہ لینے کے بیان کے بعد حالات بدل گئے ہیں ، ہر ایک کی خواہش ہو گی کہ نئے آرمی چیف اپنی تین سالہ مدت نیوٹرل طریقے سے گزاریں ، لانگ مارچ کی دھمکیاں آرہی ہیں ،
میرا خیال ہے کہ کال نہ آنے پر پیچھے تین چار بڑے مسئلے ہیں ، پہلا کال دینا عمران خان کا ٹرمپ کارڈ ہے ، اگر ٹرمپ کارڈ نہیں چلتا تو پھر اسی تنخواہ میں گزارا کرنا پڑے گا ۔ دوسرا 16اکتوبر کو 10سیٹوں پر ضمنی الیکشن آگئے ، عمران خان جا کر الیکشن لڑیں گے یا دھرنا دیں گے ، تیسرا وہی استعفوں کا مسئلہ عدالت میں چل رہا ہے ۔ استعفے تحریک انصاف کی فاش غلطی تھی ، یہ بند گلی میں چلے گئے ہیں ، پی ٹی آئی کا سمبلی میں واپس جانا ضروری ہے ، دھرنا ہوا تو پورا اسلام آباد بند ، حکومت پر دبائو آئے گا ، مگر لاشیں گرنے اور فسادہونے سے سب کا نقصان ہے ۔ پروگرام میں موجود سینئر اینکر پرسن و تجزیہ کار حامد میر نے کہا ہے کہ آرمی چیف کی تقرری میں ابھی کافی دن پڑے ہیں ، ہو سکتا ہے کہ اگلے دو یا تین ہفتے کے دوران فیصلہ ہو جائے ، اس مہینے کے آخر میں پراسیس شروع ہو جائے گا ۔ 92کے پروگرام میں انہوں کا مزید کہنا تھا کہ مجھے تو اگلے سال اگست ستمبر میں الیکشن نظر نہیں آرہے ، میرا خیال ہے کہ یہ مارچ اور اپریل میں الیکشن کی کوئی تاریخ آسکتی ہے ۔ حامد میر کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی میں ایک مضبوط گروہ کہہ رہا ہے کسی طریقے سے اسمبلی میں واپس جانا چاہیے ، لیکن عمران خان سمیت کچھ اور لوگ اس سے اتفاق نہیں کر رہے ، اگلے دو تین دن میں نتیجہ سامنے آجائے گا ۔ اگلے چند ہفتوں میں کچھ نہیںہونے والا ۔ تھریک انصاف کے گروپ کے مسلم لیگ ن کیساتھ رابطے چل رہے ہیں
لیکن پیپلز پارٹی راستے کا کانٹا بنی ہے ، لگتا ہے کہ عمران کان اگلے دو یا تین دن میں کوئی اعلان کر دیں گے ۔ سینئر صحافی کا کہنا تھا کاہ اب آڈیو لیکس میں سے ویڈیو لیکس نکلے گی ،مزید گند پڑے گا، اس معاملے پر شہباز شریف کیا تحقیقات کریں گے ؟ کیا شہباز شریف اور عمران خان کو نہیں پتہ کہ آڈیو لیکس کہاں سے آئی ہیں ، حکومت کو تحقیقات کے پنگے میں نہیں پڑنا چاہیے ۔



















































