چند روز کے دوران امریکی ڈالر 15 روپے 75 پیسے سستا ہو گیا

  بدھ‬‮ 5 اکتوبر‬‮ 2022  |  11:23

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک /این این آئی) پاکستانی روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی گراوٹ کا سلسلہ جاری ہے۔ گزشتہ 8روزکے دوران پاکستانی روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی قدر میں 15 روپے 75 پیسے کی کمی واقع ہو چکی ہے۔بدھ کے روز بھی کاروباری دورانیے میں انٹربینک اور اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت مزید کم ہوگئی۔حکومت کی جانب سے شرح تبادلہ میں بینکوں کے

کردار پر تحقیقات کی اطلاعات اور سٹے بازی پر گہری نظر رکھے جانے کے باعث بدھ کو بھی ڈالر کے مقابلے میں روپیہ تگڑا رہا اور تسلسل سے تنزلی کے باعث ڈالر کے انٹربینک ریٹ 225 اور 224روپے بھی نیچے آگئے جب کہ اوپن مارکیٹ ریٹ بھی گھٹ کر 227روپے کی سطح پر آگیا۔انٹربینک مارکیٹ میں بدھ کو بھی کاروباری دورانیے کے آغاز ہی سے ڈالر تنزلی کا شکار رہا جس سے ایک موقع پر ڈالر کی قدر گھٹ کر 223.60 روپے کی سطح پر آگئی تھی تاہم بعد دوپہر ڈیمانڈ قدرے بڑھتے ہی ڈالر کی قدر 1.69روپے کی مزید کمی سے 223.94روپے کی سطح پر بند ہوئی۔ اسی طرح اوپن کرنسی مارکیٹ میں بھی ڈالر کی قدر مزید 1.50روپے کی کمی سے 227روپے کی سطح پر بند ہوئی۔مارکیٹ ذرائع کے مطابق بینکوں کی جانب سے درآمدی لیٹر آف کریڈٹس کھولتے وقت امپورٹرز سے مارکیٹ ریٹ کی نسبت زائد قیمت پر ڈالر کی فروخت کی نشاندہی پر وزارت خزانہ اور متعلقہ ریگولیٹر کی 8بینکوں کے خلاف کارروائی کرنے عندیے سے گزشتہ ڈیڑھ ہفتے سے ڈالر کو ریورس گئیر لگ گئے ہیں۔مارکیٹ میں تیز رفتار اڑان بھرنے والے ڈالر اپنی حقیقی قدر پر آنا شروع ہوگیا ہے۔ اسی طرح نئے وزیرخزانہ کے دیگر اقدامات جن میں سٹہ بازی کے علاوہ ڈالر کی افغانستان اسمگلنگ پر قابو پانا بھی شامل ہیں، پاکستانی روپے کے استحکام کا باعث بن گئے ہیں۔ منی مارکیٹ کے ذرائع کے مطابق گزشتہ طویل دورانیے سے ایل سیز کھولنے کے لیے درآمدکنندگان کو بلند شرح پر ڈالر کی فروخت نے روپے کو تیزی سے کمزور کیا ہے تاہم وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے پالیسی بیان اور اقدامات کی بدولت ڈالر تنزلی کی جانب گامزن ہوگیا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ایف اے ٹی ایف کی تمام شرائط پوری ہونے کے نتیجے میں رواں ماہ پاکستان کو گرے لسٹ سے نکال کر وائٹ لسٹ میں شامل کرنے کی توقعات اور بیرونی دنیا سے سیلاب ریلیف فنڈ کی آمد سے سٹے بازوں کی ڈالر میں کاروباری سرگرمیاں محدود ہوگئی ہیں، جس سے توقع ہے کہ آنے والے دنوں میں روپیہ مزید مضبوط ہوگا۔



زیرو پوائنٹ

عاشق مست جلالی

میری اظہار الحق صاحب سے پہلی ملاقات 1994ء میں ہوئی‘ یہ ملٹری اکائونٹس میں اعلیٰ پوزیشن پر تعینات تھے اور میں ڈیلی پاکستان میں میگزین ایڈیٹر تھا‘ میں نے اس زمانے میں مختلف ادیبوں اور شاعروں کے بارے میں لکھنا شروع کیا تھا‘ اظہار صاحب نے تازہ تازہ کالم نگاری شروع کی تھی‘ان کی تحریر میں روانی‘ ادبی چاشنی اور ....مزید پڑھئے‎

میری اظہار الحق صاحب سے پہلی ملاقات 1994ء میں ہوئی‘ یہ ملٹری اکائونٹس میں اعلیٰ پوزیشن پر تعینات تھے اور میں ڈیلی پاکستان میں میگزین ایڈیٹر تھا‘ میں نے اس زمانے میں مختلف ادیبوں اور شاعروں کے بارے میں لکھنا شروع کیا تھا‘ اظہار صاحب نے تازہ تازہ کالم نگاری شروع کی تھی‘ان کی تحریر میں روانی‘ ادبی چاشنی اور ....مزید پڑھئے‎