امریکہ میں ملعون سلمان رشدی پر چاقو سے حملہ

  جمعہ‬‮ 12 اگست‬‮ 2022  |  23:30

نیویارک (این این آئی)امریکا میں ملعون سلمان رشدی پر چاقو سے حملہ میں زخمی ہوگیا۔برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق شاتمِ رسول سلمان رشدی پر حملہ امریکی ریاست نیویارک کے علاقے شوٹاکوا میں اس وقت ہوا جب وہ ایک تقریب

سے خطاب کیلئے اسٹیج پر پہنچا۔رپورٹ کے مطابق جمعے کی صبح سی ایچ کیو 22 کے عنوان سے منعقدہ تقریب میں سلمان رشدی کو خطاب کرنا تھا اور جیسے ہی وہ اسٹیج پر آیا ایک شخص نے اس پر حملہ کردیا۔رپورٹ کے مطابق حملہ آور نے اسٹیج پر آکر سلمان رشدی اور انٹرویو لینے والے ایک شخص پر چاقو سے حملہ کیا۔ بی بی سی کے مطابق سلمان رشدی کی گردن پر زخم آیا ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق حملے کے فوری بعد ملعون سلمان رشدی کو وہاں سے لے جایا گیا جبکہ حملہ آور کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ملعون سلمان رشدی کو طبی امداد کیلئے ہیلی کاپٹر کے ذریعے ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔حملے کے بعد اسٹیج پر ہی ملعون سلمان رشدی کو فوری طبی امداد فراہم کرنے والی ڈاکٹر ریتا لینڈ مین نے بتایا کہ سلمان رشدی کے جسم پر چاقو کے متعدد زخم ہیں جبکہ گردن پر دائیں جانب ایک بڑا زخم موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ اسٹیج پر حملے کے بعد رشدی کا کافی خون بہہ گیا تھا لیکن لوگ کہہ رہے تھے کہ نبض چل رہی ہے۔گورنر نیویارک کیتھے ہوچل کا کہنا ہے کہ ملعون مصنف سلمان رشدی زندہ ہے۔ اس بات کی تصدیق انہوں نے پریس کانفرنس کے دوران کی۔گورنر نے مزید کہا کہ سلمان رشدی کو ہسپتال میں ضروری طبی امداد فراہم کی جارہی ہے اور حملہ آور کے حوالے سے

مزید معلومات اکھٹی کی جارہی ہیں۔خیال رہے کہ ملعون سلمان رشدی کو گستاخانہ تصنیف کی وجہ سے ماضی میں بھی قتل کی دھمکیاں ملتی رہی ہیں اور 1988 میں اس معاملے پر برطانیہ میں بھی متعدد مظاہرے ہوئے تھے۔پاکستان نے سلمان رشدی کی گستاخانہ کتاب پر پابندی عائد کردی تھی جبکہ ایران کے آیت اللہ خمینی نے 1989 میں رشدی کو واجب القتل قرار دینے کا فتویٰ دیا تھا۔



موضوعات:

زیرو پوائنٹ

ہم کوئلے سے پٹرول کیوں نہیں بناتے؟

پروفیسر اطہر محبوب اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے وائس چانسلر ہیں‘ یہ چند دن قبل اسلام آباد آئے‘ مجھے عزت بخشی اور میرے گھر بھی تشریف لائے‘ یہ میری ان سے دوسری ملاقات تھی‘ پروفیسر صاحب پڑھے لکھے اور انتہائی سلجھے ہوئے خاندانی انسان ہیں‘ مجھے مدت بعد سلجھی اور علمی گفتگو سننے کا موقع ملا اور میں ابھی تک اس ....مزید پڑھئے‎

پروفیسر اطہر محبوب اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے وائس چانسلر ہیں‘ یہ چند دن قبل اسلام آباد آئے‘ مجھے عزت بخشی اور میرے گھر بھی تشریف لائے‘ یہ میری ان سے دوسری ملاقات تھی‘ پروفیسر صاحب پڑھے لکھے اور انتہائی سلجھے ہوئے خاندانی انسان ہیں‘ مجھے مدت بعد سلجھی اور علمی گفتگو سننے کا موقع ملا اور میں ابھی تک اس ....مزید پڑھئے‎