ہفتہ‬‮ ، 03 اکتوبر‬‮ 2026 

شہباز گل پر مبینہ تشدد، عمران خان نے اہم بیان جاری کر دیا

datetime 12  اگست‬‮  2022 |

اسلام آباد (این این آئی)پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے اپنے چیف آف اسٹاف شہباز گل پر دوران حراست مبینہ تشدد کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔تفصیلات کے مطابق شہباز گل کو دو روزہ جسمانی ریمانڈ پورا ہونے کے بعد

جوڈیشل مجسٹریٹ عمر بشیر کی عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔عدالت میں بیان دیتے ہوئے شہباز گل نے اپنی قمیض اٹھا کر دکھائی اور دعویٰ کیا کہ انہیں شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور رات بھر جگائے رکھا گیا، میڈیکل بھی نہیں کرایا گیا اور وکیل سے ملنے کی اجازت بھی نہیں دی جا رہی۔اس معاملے پر چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے سوشل میڈیا پر عمران خان نے لکھا کہ شہباز گل پر ہونے والے تشدد کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہوں۔چیئرمین تحریک انصاف نے پوچھا کہ کس قانون کے تحت اور کس کے کہنے پر ایسا کیا جا رہا ہے؟ اگر شہباز گل نے کوئی قانون توڑا ہے تو اسے صفائی کا پورا موقع ملنا چاہیے۔عمران خان نے لکھا کہ امپورٹڈ غلام حکومت کے لیے بلا خوف آئین اور قانون کی دھجیاں بکھیری جا رہی ہیں۔یاد رہے کہ عدالت نے پولیس کی جانب سے شہباز گل کے جسمانی ریمانڈ میں توسیع کی استدعا مسترد کرتے ہوئے انہیں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…