انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر تقریباً 6روپے سستا ہوگیا

  جمعرات‬‮ 11 اگست‬‮ 2022  |  14:54

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک )انٹر بینک مارکیٹ میں کاروبار کے دوران امریکی  ڈالر کی قیمت مسلسل گراوٹ کا شکار ۔میڈیا رپورٹس  کے مطابق انٹر بینک مارکیٹ میں کاروبار کے دوران ڈالر کی قیمت میں یہ خبر رپورٹ ہونے تک 5 روپے 91 پیسے کمی ہو چکی ہے جس کے بعد ڈالر

216 روپے پر آ گیاہے ، 10 روز میں ڈالر کی قیمت میں حیران کن طور پر 24 روپے کمی ہو چکی ہے ۔دوسری جانب تاجر رہنما چیئرمین سٹینڈنگ کمیٹی آئرن و سٹیل فیڈریشن آف چیمبرز آف کامرس و انڈسٹریزپاکستان وصدرلوہا مارکیٹ شہید گنج لاہور راجہ وسیم حسن کہا ہے کہ حکومت کی موثر معاشی پالیسیوں اور بروقت اقدامات سے ڈالر کی قیمت میں مسلسل کمی ہورہی ہے اور ڈالر 250روپے سے واپس221روپے کی سطح پر آچکاہے اور اس میں مسلسل کمی ہورہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ اگر ڈالر نہ گرتا تو حکومت مزید کمزور ہوجاتی اور ملک زبردست عدم استحکام کے بعد انتشار کا شکار ہوجات ملک کو انارکی سے بچانے اور معیشت کو مستحکم کرنے کیلئے حکومت کی طرف سے فارن ایکسچینج کمپنیوں اور بینکوں کی مانیٹرنگ شروع کرنے اور منافع خوری میں ملوث کئی کمپنیوں کو اربوں روپے کے جرمانے عائد کرنے سے ڈالر کی قیمتوں میں مصنوعی اضافہ رک گیا اور روپے کی قدر میں استحکام آنا شروع ہوگیا ۔ڈالر کی قیمت میں کمی ملکی معیشت کو بچانے کیلئے انتہائی ضروری تھی۔ڈالر کی قیمت میں کمی اور روپے کی قدر میں اضافہ سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے ساتھ ساتھ بجلی کی قیمتوں اورشربا مہنگائی میں بھی کمی آئے گی ۔ان خیالات کا اظہار انہوںنے آئرن و سٹیل مارکیٹ کے تاجروں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔



موضوعات:

زیرو پوائنٹ

ہم کوئلے سے پٹرول کیوں نہیں بناتے؟

پروفیسر اطہر محبوب اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے وائس چانسلر ہیں‘ یہ چند دن قبل اسلام آباد آئے‘ مجھے عزت بخشی اور میرے گھر بھی تشریف لائے‘ یہ میری ان سے دوسری ملاقات تھی‘ پروفیسر صاحب پڑھے لکھے اور انتہائی سلجھے ہوئے خاندانی انسان ہیں‘ مجھے مدت بعد سلجھی اور علمی گفتگو سننے کا موقع ملا اور میں ابھی تک اس ....مزید پڑھئے‎

پروفیسر اطہر محبوب اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے وائس چانسلر ہیں‘ یہ چند دن قبل اسلام آباد آئے‘ مجھے عزت بخشی اور میرے گھر بھی تشریف لائے‘ یہ میری ان سے دوسری ملاقات تھی‘ پروفیسر صاحب پڑھے لکھے اور انتہائی سلجھے ہوئے خاندانی انسان ہیں‘ مجھے مدت بعد سلجھی اور علمی گفتگو سننے کا موقع ملا اور میں ابھی تک اس ....مزید پڑھئے‎