ہفتہ‬‮ ، 16 مئی‬‮‬‮ 2026 

انسانی آنکھ کی پلک جتنا دنیا کا سب سے بڑا بیکٹیریا دریافت

datetime 25  جون‬‮  2022 |

واشنگٹن(این این آئی)سائنسدانوں نے کیریبین جزیرے گواڈیلوپ کے ایک دلدل میں دنیا کا سب سے بڑا بیکٹیریا دریافت کیا ہے جس کا سائز انسانی پلکوں جتنا ہے اور دیکھنے میں سفید دھاگے کی طرح ہے۔تھائیومارگاریٹا میگنیفیکا نامی یہ بیکٹیریا ایک سینٹی میٹر لمبا ہے اور اب تک دریافت ہونے والے بڑے بیکٹیریا کی دیگر اقسام سے 50 گنا زیادہ بڑا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق پتلے سفید دھاگوں

نما بیکٹیریا سمندری دلدل میں گلتے ہوئے مینگروو کے پتوں کی سطح پر دریافت ہوا، یہ دریافت اس لیے حیران کن ہے کیونکہ سیل میٹابولزم کے ماڈلز کے مطابق بیکٹیریا اتنا بڑا نہیں ہوسکتا۔نئے بیکٹیریا کی دریافت سے قبل سائنسدانوں نے بیکٹیریا کے سائز کی ممکنہ حد اس سے 100 گنا چھوٹی طے کی تھی۔اس بیکٹیریا کو دریافت کرنے والی ٹیم میں شامل لارنس بارکلے نیشنل لیبارٹری کی ماہر جین میری وولینڈ نے اس کا دیگر بیکٹیریا سے موازنہ سمجھانے کے لیے بتایا کہ آپ تصور کریں کہ ایک انسان کا کسی ایسے دوسرے انسان سے سامنا ہوجائے جو ماونٹ ایورسٹ جتنا لمبا ہو۔اس بیکٹیریا کو یونیورسٹی ڈیس اینٹیلیس میں سمندری حیاتیات کے پروفیسر اولیور گروس نے گواڈیلوپ میں اس وقت دریافت کیا جب وہ مینگروو ماحولیاتی نظام میں سمبیوٹک بیکٹیریا کی تلاش کر رہے تھے۔انہوں نے بتایا کہ جب ہم نے اس بیکٹیریا کو دیکھا تو ہمیں عجیب لگا، جب ہم نے خوردبین میں اس کا جائزہ لیا تو معلوم ہوا کہ یہ ایک واحد سیل ہے۔

جین میری وولینڈ نے کہا کہ بیکٹیریا کی زیادہ تر اقسام میں ڈی این اے خلیات کے اندر آسانی سے گردش کرتا ہے مگر تھائیومارگاریٹا میگنیفیکا بظاہر اپنے ڈی این اے کو خلیات کے مختلف جھلیوں میں زیادہ منظم طریقے سے رکھتا ہے جو کسی بیکٹیریا کے لیے بہت عجیب بات ہے۔

اس بیکٹیریا میں دیگر اقسام کے بیکٹیریا کے مقابلے میں 3 گنا زیادہ جینز موجود ہیں اور ہر خلیے میں جینوم کی لاکھوں نقول ہیں جو اسے غیر معمولی طور پر پیچیدہ بناتی ہیں۔سائنس دانوں کو تاحال یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ یہ بیکٹیریا اتنا بڑا کیسے بنا؟ ایک امکان یہ ہے کہ اس نے شکار سے بچنے کے لیے خود کو اس طرح ڈھال لیا ہے۔

جین میری وولینڈ نے کہا کہ اگر آپ اپنے شکاری سے سینکڑوں یا ہزاروں گنا بڑے ہوتے ہیں تو آپ اس کا شکار نہیں بن سکتے۔تاحال یہ بیکٹیریا دیگر مقامات پر نہیں ملا ہے اور جب محققین حال ہی میں واپس گواڈیلوپ آئے تو یہ وہاں سے بھی غائب ہوچکا تھا جس کی ممکنہ وجہ اس کا موسمی جاندار ہونا ہوسکتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آئی سٹل لو یو


یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…

گریٹ گیم(چوتھا حصہ)

لیویونگ زنگ اور اس کا بھائی لیویونگ ہو چین کی…