ہفتہ‬‮ ، 21 مارچ‬‮ 2026 

عالمی سطح پر سولر پینل سستے، پاکستان میں بھی کسٹم نے درآمدی ویلیو گرا دی ،درآمدی سولر پینلز کیلئے نئی مالیت مقرر

datetime 22  جولائی  2025 |
سولر پینلز کی قیمتیں
سولر پینلز کی قیمتیں

کراچی(این این آئی)ڈائریکٹوریٹ جنرل آف کسٹمز ویلیوایشن کراچی نے دنیا بھر سے درآمد کیے جانے والے سولر پینلز کی نئی کسٹمز ویلیو 0.08 ڈالر فی واٹ سے 0.09 ڈالر فی واٹ مقرر کر دی ہے۔ یہ فیصلہ عالمی مارکیٹ میں سولر پینلز کی قیمتوں میں نمایاں کمی کے بعد کیا گیا ہے۔جاری کردہ ویلیوایشن رولنگ(نمبر 2012 آف 2025)کے مطابق، ڈائریکٹوریٹ کو مختلف درآمد کنندگان کی جانب سے متعدد درخواستیں موصول ہوئی تھیں،جن میں کہا گیا کہ عالمی منڈی میں قیمتیں کم ہو چکی ہیں، لہٰذا ان مصنوعات کی موجودہ کسٹمز ویلیو کا ازسر نو تعین ضروری ہے۔

اس ضمن میں پاکستان سولر ایسوسی ایشن (پی ایس اے)نے 21 جنوری 2025 کو باقاعدہ نمائندگی کرتے ہوئے پرانی ویلیوایشن رولنگ(نمبر 1894/2024مورخہ 4 جولائی 2024)پر نظرثانی کی درخواست دی تھی۔ انہوں نے اس بات کی نشان دہی کی کہ مقرر کردہ کسٹمز ویلیو عالمی قیمتوں کے مقابلے میں زیادہ ہے، جس سے درآمد کنندگان کو بینکوں کے ساتھ لین دین میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ کئی کیسز میں کسٹمز ویلیو، ڈیکلئیر کردہ ٹرانزیکشن ویلیو سے زیادہ تھی، جس سے کلیئرنس میں تاخیر ہو رہی تھی۔19 فروری 2025 کو ہونے والی ابتدائی مشاورت میں بیشتر اسٹیک ہولڈرز اور درآمد کنندگان نے پچھلی ویلیوایشن رولنگ میں درج ٹیئر بیسڈ کٹیگریزیشن کے تسلسل پر اتفاق کیا۔ شرکا نے موقف اختیار کیا کہ جولائی 2024 کے بعد سے سولر پینلز کی قیمتوں میں نمایاں کمی آئی ہے۔ مقامی ڈسٹری بیوٹرز اور پاکستان میں جاری سولر نمائشوں سے مارکیٹ ویری فکیشن کی بھی درخواست کی گئی۔

یہ بھی واضح کیا گیا کہ کچھ بڑے درآمد کنندگان ابتدائی اجلاس میں شرکت نہیں کر سکے کیونکہ وہ چین میں ہونے والی ایک بین الاقوامی نمائش میں مصروف تھے، جو تقریبا دو ماہ پر محیط ہے۔بعدازاں ہونے والے اجلاس میں بھی بیشتر شرکا نے قیمتوں میں کمی کے موقف کو دہرایا اور کسٹمز ویلیو میں کمی کی درخواست کی۔ اس سلسلے میں انہوں نے تجارتی انوائسز، جی ڈی دستاویزات اور دیگر شواہد جمع کرائے جو مختلف اقسام کے سولر پینلز کی موجودہ قیمتوں کو ظاہر کرتے تھے۔مزید برآں، گزشتہ 90 دنوں کا کلئیرنس ڈیٹا حاصل کر کے اس کا بغور جائزہ لیا گیا تاکہ فیصلہ میرٹ اور شفافیت کی بنیاد پر کیا جا سکے۔کسٹمز ویلیو کے تعین کے لیے کسٹمز ایکٹ 1969 کے سیکشن 25 کے تحت دستیاب طریقہ کار کا جائزہ لیا گیا۔ تاہم، سیکشن 25(1) میں دیے گئے ٹرانزیکشن ویلیو میتھڈ کو درکار معلومات کی عدم دستیابی کی وجہ سے لاگو نہیں کیا جا سکا۔ آئیڈینٹیکل گوڈز ویلیو میتھڈ کے تحت کچھ قیمتیں قابل عمل پائی گئیں، تاہم مکمل شواہد نہ ہونے کے باعث صرف ان پر انحصار نہیں کیا گیا۔کسٹمز ڈائریکٹوریٹ کی جانب سے طے کردہ نئی ویلیو نہ صرف درآمدی لاگت کو کم کرے گی بلکہ بینکنگ عمل اور کلیئرنس کو بھی سہل بنائے گی، جس سے ملک میں قابلِ تجدید توانائی کے فروغ کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)


برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…