پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

عالمی سطح پر سولر پینل سستے، پاکستان میں بھی کسٹم نے درآمدی ویلیو گرا دی ،درآمدی سولر پینلز کیلئے نئی مالیت مقرر

datetime 22  جولائی  2025 |
سولر پینلز کی قیمتیں
سولر پینلز کی قیمتیں

کراچی(این این آئی)ڈائریکٹوریٹ جنرل آف کسٹمز ویلیوایشن کراچی نے دنیا بھر سے درآمد کیے جانے والے سولر پینلز کی نئی کسٹمز ویلیو 0.08 ڈالر فی واٹ سے 0.09 ڈالر فی واٹ مقرر کر دی ہے۔ یہ فیصلہ عالمی مارکیٹ میں سولر پینلز کی قیمتوں میں نمایاں کمی کے بعد کیا گیا ہے۔جاری کردہ ویلیوایشن رولنگ(نمبر 2012 آف 2025)کے مطابق، ڈائریکٹوریٹ کو مختلف درآمد کنندگان کی جانب سے متعدد درخواستیں موصول ہوئی تھیں،جن میں کہا گیا کہ عالمی منڈی میں قیمتیں کم ہو چکی ہیں، لہٰذا ان مصنوعات کی موجودہ کسٹمز ویلیو کا ازسر نو تعین ضروری ہے۔

اس ضمن میں پاکستان سولر ایسوسی ایشن (پی ایس اے)نے 21 جنوری 2025 کو باقاعدہ نمائندگی کرتے ہوئے پرانی ویلیوایشن رولنگ(نمبر 1894/2024مورخہ 4 جولائی 2024)پر نظرثانی کی درخواست دی تھی۔ انہوں نے اس بات کی نشان دہی کی کہ مقرر کردہ کسٹمز ویلیو عالمی قیمتوں کے مقابلے میں زیادہ ہے، جس سے درآمد کنندگان کو بینکوں کے ساتھ لین دین میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ کئی کیسز میں کسٹمز ویلیو، ڈیکلئیر کردہ ٹرانزیکشن ویلیو سے زیادہ تھی، جس سے کلیئرنس میں تاخیر ہو رہی تھی۔19 فروری 2025 کو ہونے والی ابتدائی مشاورت میں بیشتر اسٹیک ہولڈرز اور درآمد کنندگان نے پچھلی ویلیوایشن رولنگ میں درج ٹیئر بیسڈ کٹیگریزیشن کے تسلسل پر اتفاق کیا۔ شرکا نے موقف اختیار کیا کہ جولائی 2024 کے بعد سے سولر پینلز کی قیمتوں میں نمایاں کمی آئی ہے۔ مقامی ڈسٹری بیوٹرز اور پاکستان میں جاری سولر نمائشوں سے مارکیٹ ویری فکیشن کی بھی درخواست کی گئی۔

یہ بھی واضح کیا گیا کہ کچھ بڑے درآمد کنندگان ابتدائی اجلاس میں شرکت نہیں کر سکے کیونکہ وہ چین میں ہونے والی ایک بین الاقوامی نمائش میں مصروف تھے، جو تقریبا دو ماہ پر محیط ہے۔بعدازاں ہونے والے اجلاس میں بھی بیشتر شرکا نے قیمتوں میں کمی کے موقف کو دہرایا اور کسٹمز ویلیو میں کمی کی درخواست کی۔ اس سلسلے میں انہوں نے تجارتی انوائسز، جی ڈی دستاویزات اور دیگر شواہد جمع کرائے جو مختلف اقسام کے سولر پینلز کی موجودہ قیمتوں کو ظاہر کرتے تھے۔مزید برآں، گزشتہ 90 دنوں کا کلئیرنس ڈیٹا حاصل کر کے اس کا بغور جائزہ لیا گیا تاکہ فیصلہ میرٹ اور شفافیت کی بنیاد پر کیا جا سکے۔کسٹمز ویلیو کے تعین کے لیے کسٹمز ایکٹ 1969 کے سیکشن 25 کے تحت دستیاب طریقہ کار کا جائزہ لیا گیا۔ تاہم، سیکشن 25(1) میں دیے گئے ٹرانزیکشن ویلیو میتھڈ کو درکار معلومات کی عدم دستیابی کی وجہ سے لاگو نہیں کیا جا سکا۔ آئیڈینٹیکل گوڈز ویلیو میتھڈ کے تحت کچھ قیمتیں قابل عمل پائی گئیں، تاہم مکمل شواہد نہ ہونے کے باعث صرف ان پر انحصار نہیں کیا گیا۔کسٹمز ڈائریکٹوریٹ کی جانب سے طے کردہ نئی ویلیو نہ صرف درآمدی لاگت کو کم کرے گی بلکہ بینکنگ عمل اور کلیئرنس کو بھی سہل بنائے گی، جس سے ملک میں قابلِ تجدید توانائی کے فروغ کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…