اب ہوگا دما دم مست قلندر، مولانا کے نوازشریف اور زرداری سے رابطے،پی ٹی آئی حکومت کیخلاف طبل جنگ بجا دیا

7  فروری‬‮  2022

اسلام آباد (آن لائن)پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے سابق وزیر اعظم نواز شریف اور سابق صدر آصف علی زرداری سے الگ الگ ٹیلی فونک رابطہ کیا ہے جس میں فیصلہ کن حکومت مخالف تحریک کے لئے مختلف آپشنز پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے ،پی ڈی ایم کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ن لیگ کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس

سے پہلے نواز شریف اور فضل الرحمن کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے ،دونوں رہنمائوں نے حکومت مخالفت تحریک کو فیصلہ کن بنانے کے لئے مشاورت کی جبکہ نواز شریف نے پی ڈی ایم کا سربراہی اجلاس بھی جلد بلانے کی درخواست کی جس پر مولانا فضل الرحمن نے آئندہ ہفتے پی ڈی ایم کا اجلاس بلانے کا عندیہ دیدیا ہے ،دونوں رہنمائوں کے درمیان اپوزیشن کے مشترکہ لانگ مارچ بارے پیپلز پارٹی کی تجاویز پر بھی تبادلہ خیال ہوا ،نواز شریف کا کہنا تھا کہ ن لیگ تنہا پرواز کے بجائے پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے کئے گئے فیصلوں کی پابند ہے اس حکومت سے نجات ناگزیر ہو چکی ہے اور بلاتاخیر اس کو گھر بھجوا کر نئے انتخابات کروائے جائیں ،اپوزیشن متحد ہو کر اس حکومت کو گھر بھیج سکتی ہے جس پر مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ اس حکومت کو گھر بھیجنے کے لئے تمام آئینی ،قانونی اور عوامی آپشنز استعمال کئے جائیں گے ،اس وقت ملک میں مہنگائی کا طوفان برپا ہے اور عوام شدید مشکلات کا شکار

ہے،عوام کو اس عذاب سے بچانے کیلئے حکومت کے خلاف ہر حربہ استعمال کریں گے ،ذرائع کے مطابق آصف زرداری اور فضل الرحمن کے درمیان ٹیلی فونک رابطے میں بھی چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی ،سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر،وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار اور وزیرا عظم عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کے لئے بات چیت ہوئی

اور اس حوالے سے پارلیمنٹ کے اندراپوزیشن جماعتیں مشترکہ حکمت عملی اختیار کرے گی ،آصف زرداری نے ن لیگ قیادت کے ساتھ اپنی ملاقاتوں بارے بھی فضل الرحمن کو اعتماد میں لیا اور کہا کہ عدم اعتماد ایک آئینی اور قانونی راستہ ہے اور اسٹیبلشمنٹ بھی اس وقت نیوٹرل دکھائی دیتی ہے لہذا ہمیں عدم اعتماد کے ذریعے اس حکومت کو گھر بھیجنا ہوگا ۔

موضوعات:



کالم



فواد چودھری کا قصور


فواد چودھری ہماری سیاست کے ایک طلسماتی کردار…

ہم بھی کیا لوگ ہیں؟

حافظ صاحب میرے بزرگ دوست ہیں‘ میں انہیں 1995ء سے…

مرحوم نذیر ناجی(آخری حصہ)

ہمارے سیاست دان کا سب سے بڑا المیہ ہے یہ اہلیت…

مرحوم نذیر ناجی

نذیر ناجی صاحب کے ساتھ میرا چار ملاقاتوں اور…

گوہر اعجاز اور محسن نقوی

میں یہاں گوہر اعجاز اور محسن نقوی کی کیس سٹڈیز…

نواز شریف کے لیے اب کیا آپشن ہے (آخری حصہ)

میاں نواز شریف کانگریس کی مثال لیں‘ یہ دنیا کی…

نواز شریف کے لیے اب کیا آپشن ہے

بودھ مت کے قدیم لٹریچر کے مطابق مہاتما بودھ نے…

جنرل باجوہ سے مولانا کی ملاقاتیں

میری پچھلے سال جنرل قمر جاوید باجوہ سے متعدد…

گنڈا پور جیسی توپ

ہم تھوڑی دیر کے لیے جنوری 2022ء میں واپس چلے جاتے…

اب ہار مان لیں

خواجہ سعد رفیق دو نسلوں سے سیاست دان ہیں‘ ان…

خودکش حملہ آور

وہ شہری یونیورسٹی تھی اور ایم اے ماس کمیونی کیشن…