اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

رابی پیر زادہ کا مری میں انڈہ 500 روپے، ہوٹل کا کرایہ 50 ہزارروپے لیے جانے کا انکشاف

datetime 9  جنوری‬‮  2022 |

لاہور(این این ائی)شوبز کو خیر باد کہنے والی رابی پیرزادہ نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں انکشاف کیا ہے کہ مری میں برفباری میں پھنسے سیاحوں سے مقامی لوگوں نے اشیائے خورونوش اور ہوٹل کے کرائے کی مد میں بھاری رقم کا مطالبہ کیا گیا۔سابق گلوکارہ رابی پیرزادہ

نے حال ہی میں سوشل میڈیا پر ایک سیاح کی گفتگو شیئر کی ہے جس میں اس نے مری کے مقامی لوگوں کو منافق قرار دیتے ہوئے مقامی لوگوں کی جانب سے سیاحوں سے بھاری رقم لیے جانے کا انکشاف کیا ہے۔رابی پیرزادہ نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ پر برف میں پھنسی ایک بس کی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا یہ تصویر میں نے خود کھینچی تھی اور جو کچھ نیچے کسی بھائی نے لکھا ہے وہ حرف بہ حرف سچ ہے۔دو رات پہلے مری میں برف میں پھنسے ہوئے خاندانوں کو اہلیان مری پانچ سو روپے کا ایک انڈہ فروخت کر رہے تھے، ہوٹل کمرے کا کرایہ تیس ہزار سے پچاس ہزار مانگ رہے تھے اور پانی کی بوتل پانچ سو کی بیچ رہے تھے۔چھوٹی گاڑی کو دھکا لگانے کا تین ہزار اور بڑی گاڑی کو دھکا لگانے کا پانچ ہزار لے رہے تھے۔ آج سارے مددگار بنے ہوئے ہیں ہوٹل مالکان بھی نیک بن گئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…