بدھ‬‮ ، 21 اکتوبر‬‮ 2026 

لاکھوں لوگوں کا ڈیٹا نادراسے مل گیا ، شوکت ترین کا سب کو ٹیکس کے نوٹس بھیجنے کا فیصلہ

datetime 4  جنوری‬‮  2022 |

اسلام آباد(آن لائن)وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا ہے کہ 15ملین لوگوں کا ڈیٹا نادرا کی مدد سے مل چکا ہے ،اسی ماہ سے سب کو ٹیکس کے نوٹس بھیجے جائیں گے ،اعتراض کرنے والے تھرڈ پارٹی سے رابطہ کریں،ہم کسی کو ڈنڈا نہیں ماریں گے ،پیار سے اور قانون کے دائرہ میں رہ کر ٹیکس وصول کریں ،ایسا کرنے سے چھ سال میں جی ڈی پی ریشو پندرہ سے بیس تک چلی جائے گی،

ٹیکس ڈائریکٹری اس لیے جاری کی کہ عوام کو پتہ ہو کہ کون کتنا ٹیکس دیتا ہے ،ان خیالات کا اظہار انہوںنے گزشتہ روز ٹیکس ڈائریکٹری کے اجراکی تقریب سے خطاب کے دوران کیا،وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا کہحکومت اراکین پارلیمنٹ کے ٹیکس ڈائریکٹری کو کافی سالوں سے چھاپ رہی ہے ،ٹیکس کلچر کی شروعات اراکین پارلیمنٹ سے ہونی چاہئے ،اس سے پورے نظام میں شفافیت آئے گی،کسی معاشرے کی ترقی میں ٹیکس کا بڑا کردار ہوتا ہے ،74 سالوں میں 12.13 فیصد ٹیکس ٹو جی ڈی پی سے اوپر نہیں گئے,سب نے ٹیکس دینا ہے ، کوئی مقدس گائے نہیں ہونی چاہئے ,جس کا جتنا زور لگتا ہے ٹیکس چھپاتا ہے ,شوکت ترین نے مزید کہا کہ جاری اخراجات کو بھی آمدن سے پورا نہیں کرسکتے ،ترقیاتی اخراجات کے لیے قرض لینا پڑتا ہے ٹیکسوں کو ہم آہنگ کرنا ایف بی آر کے لیے چیلنج ہے ،ٹیکسوں کو سادہ کرنا ہے ،ود ہولڈنگ ٹیکس اس لیے لیتے ہیں کہ ٹیکس اکٹھا نہیں کرسکتے،دو قسم کے ٹیکس ہونے چاہئیں،آمدن اور اخراجات پر ٹیکس ہونا چاہئے،2 ملین لوگ ٹیکس ادا کرتے ہیں ،نادرا کے ساتھ مل کر ٹیکسوں کا دائرہ کار بڑھا رہے ہیں ،اب سے لوگوں کو نوٹسز بھیجنا شروع کردیں گے،اگر کسی کو اعتراض ہے تو تھرڈ پارٹی سے رابطہ کرے ،لوگوں کو ہراس نہیں کریں گے ،ڈنڈا کسی کو نہیں ماریں گے ،

15 ملین لوگوں کا ڈیٹا مل چکا ہے ،6 سال میں ٹیکس ٹو جی ڈی پی ریشو 15 سے 20 فیصد تک کریں گے ،چیئرمین ایف بی آر ڈاکٹر اشفاق احمد نے کہا کہ یہ اہم تقریب ہے اورپارلیمان کے ممبران کی ٹیکس ڈائریکٹری جاری کی جائیگی،کابینہ نے اس ٹیکس ڈائریکٹری کے جاری کرنے کی منظوری دی تھی، گزشتہ ڈائریکٹری صرف

اراکین پارلیمنٹ کے نام، ٹیکس اور ایسوسی ایشن آف پرسن میں ان کے حصص کا ذکر تھا، نئی ڈائریکٹری میں اراکین پارلیمنٹ کی آمدنی سمیت زرعی آمدنی کو شامل کیا، زرعی آمدنی پر ٹیکس صوبوں کو جاتا ہے جس کی وجہ سے زرعی آمدنی پر ٹیکس شامل نہیں، جو بھی رکن پارلیمنٹ تصحیح کیلئے درخواست دے گا وہ تصحیح کردی جائے گی، ٹیکس ڈائریکٹری سال 2019 کی جاری کی جارہی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



زندگی کا ذائقہ


یونان کے کسی بادشاہ نے وزیر سے ناراض ہو کر اسے…

عمران خان بھٹو(آخری حصہ)

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

عمران خان بھٹو(دوسرا حصہ)

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

 عمران خان بھٹو

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آخری حصہ)

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(گیارہواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دسواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…