اتوار‬‮ ، 23 اگست‬‮ 2026 

مولانا طارق جمیل کی سری لنکن ہائی کمشنر سے ملاقات ٗ سانحہ سیالکوٹ پر شرمندگی اور افسوس کا اظہار

datetime 22  دسمبر‬‮  2021 |

اسلام آباد (این این آئی) وزیراعظم کے نمائندہ خصوصی طاہر محمود اشرفی اور مذہبی سکالر مولانا طارق جمیل سری لنکن ایمبیسی میں سری لنکن ہائی کمشنر سے سیانحہ سیالکوٹ پر افسوس کا اظہا ر کیا ہے ۔ بدھ کو وزیر اعظم کے معاون خصوصی حافظ طاہر اشرفی اور مولانا طارق جمیل نے سری لنکن ہائی کمشنر سے ملاقات کی جس میں دونوں رہنمائوں نے سیالکوٹ واقع پر

سری لنکن ہائی کمشنر سے افسوس کا اظہار کیا۔ مولانا طارق جمیل نے کہاکہ سیالکوٹ واقعہ پر ہم معذرت کرتے ہیں ،ہمارا دین اس کی اجازت نہیں دیتا ۔اس موقع پر سری لنکن ہائی کمشنر نے کہاکہ سری لنکا پاکستانی حکومت کی جانب سے لیے گئے اقدامات پر مکمل مطمئن ہیں ۔بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا جمیل طارق نے کہاکہ سیالکوٹ واقعہ پر ہم معذرت کرتے ہیں ،بے گناہ کو قتل کرنے والا سب سے زیادہ عذاب میں مبتلا ہوگا ۔ انہوں نے کہاکہ اسلام محبت کا درس دیتا ہے ،جہالت کا اندھیرا بہت تاریک ہوتا ہے ،اسلام محبت اور امن کا درس دیتا ہے ،قوم سے کہتا ہوں قرآن پڑھیں ورنہ جانوروں سے بھی بدتر ہوں گے۔مولانا طارق جمیل نے کہاکہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے ،ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے۔ انہوں نے کہا کہ سود کھانے والا شدید سزا کا حقدار اور بے گناہ کو قتل کرنے والا سزا کا مستحق ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ سری لنکن سفیر کو کہا ہم معافی مانگنے آئیں ہیں۔ انہوں نے کہاکہ حضرت عمر کے دور میں ایک قتل ہوا تو انھوں نے کہا محلے والو قتل کا بتاو ورنہ سب

کو قتل کردوں گا۔ انہوں نے کہا کہ درخواست کرتا ہوں حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت پڑھو۔ انہوں نے کہاکہ ہم سر لنکا والوں سے شرمندہ ہیں ،کسی کو حق حاصل نہیں وہ کسی کو جلائیں صرف اللہ کو حق ہے۔ انہوں نے کہاکہ میں ہاتھ جوڑ کر سرلنکا والوں سے معافی مانگتا ہوں۔ مولانا طاہر اشرفی نے کہاکہ فیکٹری نے ان کے دو بچوں کے تمام اخراجات اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے اور فیکٹری میں ایک سری لنکا شہری کو ہی نوکری دی گئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ مارنے والوں میں سے کئی کو کلمہ بھی نہیں آتا ۔ انہوں نے کہاکہ فیکٹری میں گیا تو مجھے کہا جب اس کو مار رہے تھے تو اس نے ایک وقت میں کہا میں کلمہ پڑھتا ہوں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…