اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

مولانا طارق جمیل کی سری لنکن ہائی کمشنر سے ملاقات ٗ سانحہ سیالکوٹ پر شرمندگی اور افسوس کا اظہار

datetime 22  دسمبر‬‮  2021 |

اسلام آباد (این این آئی) وزیراعظم کے نمائندہ خصوصی طاہر محمود اشرفی اور مذہبی سکالر مولانا طارق جمیل سری لنکن ایمبیسی میں سری لنکن ہائی کمشنر سے سیانحہ سیالکوٹ پر افسوس کا اظہا ر کیا ہے ۔ بدھ کو وزیر اعظم کے معاون خصوصی حافظ طاہر اشرفی اور مولانا طارق جمیل نے سری لنکن ہائی کمشنر سے ملاقات کی جس میں دونوں رہنمائوں نے سیالکوٹ واقع پر

سری لنکن ہائی کمشنر سے افسوس کا اظہار کیا۔ مولانا طارق جمیل نے کہاکہ سیالکوٹ واقعہ پر ہم معذرت کرتے ہیں ،ہمارا دین اس کی اجازت نہیں دیتا ۔اس موقع پر سری لنکن ہائی کمشنر نے کہاکہ سری لنکا پاکستانی حکومت کی جانب سے لیے گئے اقدامات پر مکمل مطمئن ہیں ۔بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا جمیل طارق نے کہاکہ سیالکوٹ واقعہ پر ہم معذرت کرتے ہیں ،بے گناہ کو قتل کرنے والا سب سے زیادہ عذاب میں مبتلا ہوگا ۔ انہوں نے کہاکہ اسلام محبت کا درس دیتا ہے ،جہالت کا اندھیرا بہت تاریک ہوتا ہے ،اسلام محبت اور امن کا درس دیتا ہے ،قوم سے کہتا ہوں قرآن پڑھیں ورنہ جانوروں سے بھی بدتر ہوں گے۔مولانا طارق جمیل نے کہاکہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے ،ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے۔ انہوں نے کہا کہ سود کھانے والا شدید سزا کا حقدار اور بے گناہ کو قتل کرنے والا سزا کا مستحق ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ سری لنکن سفیر کو کہا ہم معافی مانگنے آئیں ہیں۔ انہوں نے کہاکہ حضرت عمر کے دور میں ایک قتل ہوا تو انھوں نے کہا محلے والو قتل کا بتاو ورنہ سب

کو قتل کردوں گا۔ انہوں نے کہا کہ درخواست کرتا ہوں حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت پڑھو۔ انہوں نے کہاکہ ہم سر لنکا والوں سے شرمندہ ہیں ،کسی کو حق حاصل نہیں وہ کسی کو جلائیں صرف اللہ کو حق ہے۔ انہوں نے کہاکہ میں ہاتھ جوڑ کر سرلنکا والوں سے معافی مانگتا ہوں۔ مولانا طاہر اشرفی نے کہاکہ فیکٹری نے ان کے دو بچوں کے تمام اخراجات اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے اور فیکٹری میں ایک سری لنکا شہری کو ہی نوکری دی گئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ مارنے والوں میں سے کئی کو کلمہ بھی نہیں آتا ۔ انہوں نے کہاکہ فیکٹری میں گیا تو مجھے کہا جب اس کو مار رہے تھے تو اس نے ایک وقت میں کہا میں کلمہ پڑھتا ہوں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…