پیر‬‮ ، 19 اکتوبر‬‮ 2026 

تمام ویکسینز کی تین خوراکیں اومیکرون کی شدت کم کرسکتی ہیں، امریکی ماہرین کی تحقیق میں انکشاف

datetime 17  دسمبر‬‮  2021 |

لندن (این این آئی)برطانیہ کے بعد امریکی طبی ماہرین نے بھی کہا ہے کہ نتائج سے معلوم ہوا ہے کہ فائزر، جانسن اینڈ جانسن یا موڈرینا ویکسینز کی دو خوراکیں اومیکرون سے تحفظ فراہم نہیں کرتیں۔تین امریکی ہسپتالوں اور طبی تحقیقی اداروں کے ماہرین کی جانب سے کی جانے والی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ ویکسین کی تین خوراکیں اومیکرون کی شدت کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔

میڈیارپورٹس کے مطابق میساچوٹس جنرل ہسپتال، ہاورڈ یونیورسٹی اور میساچوٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے ماہرین نے ویکسینیشن کروانے والے افراد کے ڈیٹا کا جائزہ لیا، جس سے معلوم ہوا کہ ویکسین کی دو خوراکیں لینے والے افراد میں اتنی طاقتور اینٹی باڈیز نہیں بن پا رہیں جو اومیکرون کی شدت سے محفوظ رکھیں۔ماہرین کے مطابق امریکی حکومت کی جانب سے منظور کی گئی تینوں ویکسینز یعنی فائزر، موڈرینا اور جانسن اینڈ جانسن کی کم از کم تین خوراکیں لینے والے شخص میں اومیکرون کی شدت کم ہو سکتی ہے۔ماہرین نے تحقیق کے دوران ویکسین کی دو خوراکیں لینے والے افراد کے ڈیٹا جائزہ لیا جب کہ جانسن اینڈ جانسن کی ایک ہی خوراک لینے والے افراد کے ڈیٹا کو بھی تحقیق کا حصہ بنایا گیا۔ماہرین نے بتایا کہ نتائج سے معلوم ہوتا ہے کہ اومیکرون جیسے متعدی پھیلنے والی کورونا کی قسم سے بچنے کے لیے ویکسین کا بوسٹر ڈوز لگوایا جائے تو نتائج بہتر آ سکتے ہیں۔امریکی ماہرین نے اپنی تحقیق میں برطانوی ماہرین کی گزشتہ ہفتے کی گئی تحقیق کا حوالہ بھی دیا جس میں ماہرین نے بتایا تھا کہ فائزر سمیت آسترزینیکا کی تین خوراکیں سے اومیکرون کی شدت کم ہو سکتی ہے۔برطانوی ماہرین کی تحقیق کے نتائج سے معلوم ہوا تھا کہ ویکسین کی تین خوراکیں لینے والے افراد اومیکرون کی شدت سے محفوظ رہتے ہیں اور ایسے افراد میں 75 فیصد علامات ظاہر ہی نہیں ہو پاتیں۔دنیا بھر کے ماہرین ںے خدشات ظاہر کیے ہیں کہ اومیکرون کورونا کی اب تک کی سب سے متعدی قسم ہو سکتی ہے اور اگلے تین ماہ تک دنیا کے نصف کورونا کے مریض مذکورہ وائرس کا شکار ہو سکتے ہیں۔تاہم اب تک کے آنے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ فوری طور پر تین ہفتے گزر جانے کے باوجود اومیکرون کے پھیلاو میں تیزی نہیں آ رہی۔اومیکرون کی تشخیص گزشتہ ماہ 25 یا 26 نومبر کو پہلی بار جنوبی افریقہ میں ہوئی تھی اور اب تک مذکورہ قسم دنیا کے 5 دجن سے زائد ممالک تک پھیل چکی ہے، تاہم اس کا شکار ہونے والے افراد کی تعداد اندازوں سے کم ہے جب کہ اس سے ہونے والی اموات بھی کم ریکارڈ کی جا رہی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



عمران خان بھٹو(دوسرا حصہ)


  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

 عمران خان بھٹو

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آخری حصہ)

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(گیارہواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دسواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…