جمعہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2025 

غربت سے دوچارافغان اپنی کم عمر لڑکیاں ڈالرز لے کر بیاہنے لگے، تہلکہ خیز انکشاف

datetime 14  اکتوبر‬‮  2021
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

کابل(این این آئی )افغانستان میں غربت، بے روزگاری اور معاشی مندی کی وجہ سے کچھ خاندانوں نے اپنی کم عمر بیٹیوں کو پیسوں، ہتھیاروں یا مویشیوں کے بدل میں ادھیڑعمر مردوں سے بیاہ دیا ہے۔اس وقت جنگ زدہ افغانستان کی معیشت بے پایاں دبا ئوکا شکار ہے، نقدرقوم عنقا ہوچکی ہیں اور اس وجہ سے خوراک اور ایندھن کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔

غیرملکی امداد کی بندش اور خشک سالی نے اس بحران کو دوچند کردیا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق ذرائع نے بتایاکہ بعض افغان خاندانوں نے اپنی کم سن بیٹیوں کو رقوم، مویشیوں اور ہتھیاروں کے عوض فروخت کرنے شروع کر دیا ہے۔رپورٹ بتایاگیا کہ صوبہ غورکے دوردرازاضلاع میں ایک کم عمر لڑکی کی قیمت فروخت ایک لاکھ سے ڈھائی لاکھ افغانی کے درمیان ہے۔یہ رقم 1108 ڈالر سے 2770 ڈالر کے برابر بنتی ہے۔اگر خریدار کے پاس نقد رقم نہیں ہے تو وہ اس کے بجائے لڑکی کے خاندان کوہتھیار یا مویشی دے کر بھی ہاتھ لے سکتا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغانستان میں اگرچہ کم عمرلڑکیوں کو فروخت کرنے کا رواج کوئی نیا واقعہ نہیں لیکن 15 اگست کوطالبان کے ملک پر قبضے کے بعد اس رجحان میں تیزی آئی ہے۔طالبان کی حکومت کو اس وقت کڑے امتحان کا سامنا ہے۔اس کو گوناگوں ملکی مسائل درپیش ہیں اور وہ بین الاقوامی سطح پرخودکو تسلیم کرانے کے لیے بھی کوشاں ہے۔اس کے علاوہ اس گروپ کی اس صلاحیت کے بارے میں عالمی سطح پر شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں کہ آیا وہ اب کہ افغانستان دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہ بننے سے روک سکے گااور کیا طالبان ایک مرتبہ پھر لڑکیوں اور خواتین کے حقوق کونظرانداز کرنے کی روایت دہرا سکتے ہیں۔طالبان نے اگست میں افغانستان پر قبضے کے بعد 1996سے2001 تک اپنے پہلیدورحکومت ایسے

سخت گیر تشخص کی بحالی کے لیے دلکش انداز میں جارحیت کا آغاز کیا تھا اورانھوں نے بعض شہروں میں مجرموں کو سرعام پھانسی دی ہے۔یادرہے کہ طالبان کے پہلے دور حکومت میں مساجد میں نمازادا نہ کرنے والے افراد کوکوڑے مارے جاتے تھے اور سرعام پھانسیاں دی جاتی تھیں، خواتین کی روزانہ کی نقل و حرکت محدود

تھی اور اسلامی شرعی قوانین کا سخت انداز میں نفاذ کیا گیا تھا۔تاہم ایسا لگتا ہے کہ اب کہ بھی طالبان اپنی بنیادی اقدار میں زیادہ تبدیلی نہیں لا رہے ہیں۔انھوں نے عالمی مطالبات کے باوجود تمام گروپوں اور دھڑوں پر مشتمل ایک جامع حکومت تشکیل نہیں دی ہے اور اس کے بجائے کابینہ میں صرف اپنے گروپ کے سینیرارکان کو شامل کیا تھا۔طالبان نے خواتین کے

امور کی وزارت کو بھی ختم کردیا ہے اور اس کی جگہ نیکی کی تشہیراوربرائی کی روک تھام کے لیے دوبارہ وزارت قائم کردی ہے۔طالبان جنگجوں نے کابل اوردوسرے شہروں میں حالیہ ہفتوں کے دوران میں خواتین کے بہت سے مظاہروں کو تشدد آمیز کارروائیاں کے ذریعے ختم کردیا۔اس کے علاوہ طلبہ کے لیے توتعلیمی اداروں میں پہلے ہی کلاسیں شروع کردی تھیں لیکن طالبات کی اسکولوں اور جامعات میں واپسی میں تاخیرکی گئی ہے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مہینہ شروع ہو چکا ہے‘ اس مہینے…

سپنچ پارکس

کوپن ہیگن میں بارش شروع ہوئی اور پھر اس نے رکنے…

ریکوڈک

’’تمہارا حلق سونے کی کان ہے لیکن تم سڑک پر بھیک…

خوشی کا پہلا میوزیم

ڈاکٹر گونتھروان ہیگنز (Gunther Von Hagens) نیدر لینڈ سے…

اور پھر سب کھڑے ہو گئے

خاتون ایوارڈ لے کر پلٹی تو ہال میں موجود دو خواتین…

وین لو۔۔ژی تھرون

وین لو نیدر لینڈ کا چھوٹا سا خاموش قصبہ ہے‘ جرمنی…

شیلا کے ساتھ دو گھنٹے

شیلا سوئٹزر لینڈ میں جرمنی کے بارڈرپر میس پراچ(Maisprach)میں…

بابا جی سرکار کا بیٹا

حافظ صاحب کے ساتھ میرا تعارف چھ سال کی عمر میں…

سوئس سسٹم

سوئٹزر لینڈ کا نظام تعلیم باقی دنیا سے مختلف…

انٹرلاکن میں ایک دن

ہم مورج سے ایک دن کے لیے انٹرلاکن چلے گئے‘ انٹرلاکن…

مورج میں چھ دن

ہمیں تیسرے دن معلوم ہوا جس شہر کو ہم مورجس (Morges)…