جمعہ‬‮ ، 30 جنوری‬‮ 2026 

محکمہ ایکسائز نے 1300 سے 2500 سی سی گاڑیوں کی رجسٹریشن فیس صرف ایک روپیہ مقررکر دی

datetime 14  اکتوبر‬‮  2021 |

پشاور(مانیٹرنگ، این این آئی)محکمہ ایکسائز نے 1300 سی سی سے 2500 سی سی تک کی گاڑیوں کی رجسٹریشن فیس ایک روپیہ مقرر کر دی ہے، محکمہ ایکسائز پختونخوا کے مشیر خلیق الرحمان کے مطابق اگلے ماہ سے رجسٹریشن فیس ایک روپیہ وصول کی جائے گی، ان کا کہنا ہے کہ ایسا کرنے سے گاڑیوں کی رجسٹریشن میں اضافے کا امکان ہے،

دوسری جانب وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت کے فیصلے کے مطابق سابقہ پاٹا کا علاقہ سال 2023تک ہر قسم کے ٹیکسوں سے مستثنیٰ ہے اس لئے ٹیکس وصولی کا کوئی بھی ادارہ اس علاقے سے ٹیکس وصول نہیں کر سکتا، جو بھی ادارے 2023سے قبل ملاکنڈ ڈویژن سمیت سابقہ پاٹا میں ٹیکس وصولی کے لئے اپنے دفاتر کھول رہے ہیں و ہ بلا وجہ عوام میں بے چینی پھیلارہے ہیں جس کی کسی صورت اجازت نہیں دی جائے گی۔ ان خیالات کا اظہار وزیراعلیٰ نے جمعرات کے روز سوات چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے ایک وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا جس نے ان کے دفتر میں ان سے ملاقات کی اور سوات میں کاروباری اور صنعتی شعبے سے وابستہ لوگوں کو درپیش مسائل اور علاقے میں صنعتی اور کاروباری سرگرمیوں کے فروغ سے متعلق مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا۔ سیکرٹری صنعت ہمایون خان، وزیراعلیٰ کے اسپیشل سیکرٹری محمد خالق اور دیگر متعلقہ حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔ وفد نے وزیراعلیٰ کو آگاہ کیا کہ ٹیکس وصولی کا ایک وفاقی ادارہ ملاکنڈ ڈویژن میں ٹیکس وصولی کے لئے دفاتر کھول رہا ہے اورادارے کی طرف سے علاقے میں بعض لوگوں کو ٹیکس ادائیگی سے متعلق پیغامات بھی موصول ہو رہے ہیں جس سے علاقے کے لوگوں میں بے چینی پائی جاتی ہے۔ وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ

وفاقی حکومت نے سال 2023تک سابقہ پاٹا کے علاقوں کو ٹیکسوں میں چھوٹ دی ہے تب تک کوئی بھی ادارہ ٹیکس وصول نہیں کر سکتا اس کے باوجود کوئی بھی ادارہ وہاں سے ٹیکس وصول کرنے کی کوشش کرے گا وہ حکومتی فیصلے کی خلاف ورزی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ملاکنڈ ڈویژن میں ٹیکس وصولی کے ادارے کی جانب

سے قبل از وقت دفتر کے قیام کا معاملہ وفاقی سطح پر متعلقہ حکام کے ساتھ اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت کی کوشش ہے کہ ان علاقوں کی پسماندگی کو مد نظر رکھتے ہوئے ٹیکس چھوٹ میں مزید توسیع دی جائے جس کے لئے معاملہ وفاقی حکومت کے ساتھ اٹھایا جائیگا۔ وفد کے ضلع سوات میں انڈسٹریل اسٹیٹ کے

قیام کے مطالبے پر وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبائی حکومت پہلے ہی سے سوات میں انڈسٹریل اسٹیٹ کے قیام کے منصوبے پر کام کر رہی ہے جبکہ منصوبے کا پی سی ون بھی تیارکر لیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبائی حکومت ماحولیاتی آلودگی کو کم کرنے کے لئے رہائشی علاقوں میں قائم ماربل فیکٹریوں کو دیگرموزوں مقامات پر

منتقل کر رہی ہے۔ پشاور میں ورسک روڈ پر قائم ماربل فیکٹریوں کو مہمند ماربل سٹی منتقل کیا جارہا ہے۔ اسی طرح سوات میں بھی شہر کے اندر قائم ماربل فیکٹریوں کو شہر سے باہر منتقل کیا جائے گا۔ انہوں نے تجارتی اور کاروباری حلقوں پر زور دیا کہ وہ ماحولیاتی آلودگی کو ختم کرنے کے لئے صوبائی حکومت کے ساتھ بھر پور تعاون کریں کیونکہ ماحول کا تحفظ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے اور موجودہ حکومت اس سلسلے میں بہت

سنجیدہ ہے۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت صنعت و تجارت کے فروغ کے لئے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات اٹھار ہی ہے جن کا حتمی مقصد اس شعبے کو ترقی دیکر لوگوں کے لئے روزگار کے زیادہ سے زیادہ مواقع پیدا کرنا ہے۔صنعتوں کی ترقی و فروغ کے لئے انڈسٹریل پالیسی مرتب کی گئی ہے جس کے تحت صوبے کے مختلف اضلاع میں اکنامک زونز کا قیام، بند صنعتوں کی بحالی کے علاوہ دیگر اقدامات اٹھائے جائیں گے۔

موضوعات:



کالم



کاشان میں ایک دن


کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…