شارجہ سے کراچی آنے والی قومی ایئرلائن کی پرواز خوفناک حادثے سے بال بال بچ گئی

  اتوار‬‮ 10 اکتوبر‬‮ 2021  |  14:36

کراچی(این این آئی)شارجہ سے کراچی آنے والی قومی ایئرلائن(پی آئی اے)کی پرواز حادثے سے بال بال بچ گئی، طیارے سے کئی پرندے ٹکرائے جس کے باعث جہاز کے ونگ کو نقصان پہنچا۔تفصیلات کے مطابق ملک کے مختلف ایئرپورٹس پر طیاروں سے پرندے ٹکرانے کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ شارجہ سے کراچی آنے والی پی آئی اے کی پرواز بھی حادثے سے بچ گئی۔ طیارے کےسامنے اور ونگ سے کئی پرندے ٹکرائے جس کے سبب مذکورہ حصوں کو نقصان پہنچا ہے۔کپتان نے مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے طیارے کو بحفاظت کراچی ائیر پورٹ پر اتار لیا۔لینڈنگ سے قبل طیارے


کے ونگ سے پرندے ٹکرائے جس کی وجہ سے ایئر بس 320طیارے کے ونگ کو شدید نقصان پہنچا۔ طیارے میں 100 سے زائد مسافر سوار تھے۔ کپتان نے طیارے کو بحفاظت کراچی ایئرپورٹ اتارا۔پرندے ٹکرانے کی وجہ سے طیارے کو گرائونڈ کردیا گیا جس کی وجہ سے کراچی سے لاہور جانے والی پرواز منسوخ کردی گئی۔ 24گھنٹے کے دوران پی آئی اے کے 2 طیارے سے پرندے ٹکرانے کے واقعات رپورٹ ہوئے۔ذرائع نے بتایاکہ ایک ہفتے کے دوران مختلف ایئرپورٹس پر مجموعی طور پر 5سے زائد پرندے ٹکرانے کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔دوسری جانب پیرس سے اسلام آباد آنے والی قومی ایئرلائن کی پرواز میں سوار ایک مسافر کو دل کا دورہ پڑنے کے باعث طیارے کو بلغاریہ میں ہنگامی لینڈنگ کرنی پڑ گئی۔ترجمان پی آئی آئی عبداللہ خان کے مطابق پی آئی اے کی چارٹر پرواز پی کے 9750پیرس سے اسلام آباد آرہی تھی کہ طیارے میں سوار خاتون مسافر کی اچانک طبیعت خراب ہوگئی، جس پر کپتان نے بلغاریہ کی ایئرٹریفک کنٹرول ٹاور کو میڈیکل ایمرجنسی کی اطلاع دے کر لینڈنگ کی اجازت طلب کی، اجازت ملنے کے بعد طیارے نے صوفیہ ایئرپورٹ پر ہنگامی لینڈنگ کی۔انہوں نے بتایا کہ طیارے کی خاتون مسافر اقبال بانو دل کا دورہ پڑنے سے بے ہوش گئی تھیں، خاتون مسافر کو اسپتال منتقل کردیا گیا ہے، جہاں ان کا علاج جاری ہے۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

کوئی دوسرا آپشن نہیں بچا

خواجہ خورشید انور پاکستان کے سب سے بڑے موسیقار تھے‘ پاکستانی موسیقی میں ایک ایسا دور بھی آیا تھا جسے ’’خواجہ کا وقت‘‘ کہا جاتا تھا‘ وہ دھن نہیں بناتے تھے دل کی دھڑکن بناتے تھے اورجب یہ دھڑکنیں دھڑکتی تھیں تو ان کی آواز روح تک جاتی تھی‘ خواجہ صاحب نے 1958ء میں جھومر کے نام سے فلم شروع ....مزید پڑھئے‎

خواجہ خورشید انور پاکستان کے سب سے بڑے موسیقار تھے‘ پاکستانی موسیقی میں ایک ایسا دور بھی آیا تھا جسے ’’خواجہ کا وقت‘‘ کہا جاتا تھا‘ وہ دھن نہیں بناتے تھے دل کی دھڑکن بناتے تھے اورجب یہ دھڑکنیں دھڑکتی تھیں تو ان کی آواز روح تک جاتی تھی‘ خواجہ صاحب نے 1958ء میں جھومر کے نام سے فلم شروع ....مزید پڑھئے‎